Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر کام میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، تمام محکموں کو ہدایت جاری

Posted on
شیئر کریں:

منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر کام میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، تمام محکموں کو ہدایت جاری…وزیراعلی
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے واضح کیا ہے کہ منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر کام میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکموں کو ہدایت بھی جاری کی کہ ہر مہینے اپنے سالانہ ترقیاتی بجٹ کے استعمال پر ریویو میٹنگ کرے گی ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام محکمے ترقیاتی بجٹ کے استعمال کو 100 فیصد یقینی بنائیں اور تمام محکموں کو 15 اپریل تک غیر استعمال شدہ بجٹ سرینڈر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔وزیر اعلی نے مزید کہا کہ ایڈیشنل اور سپلیمنٹری گرانٹس کو وزیر اعلی کی مشاورت کے بعد جاری کیا جائے۔ان احکامات کا اظہار وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبائی اور ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2018-19 پر پیشرفت کے حوالے سے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ہے ۔اجلاس میں وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، وزیر مواصلات اکبر ایوب، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور ضم شدہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے 12.7 ارب روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح بہت جلد ممکن بنایا جارہا ہے ۔ ان میں سے زیادہ تر منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد اپریل کے اختتام تک کر دی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ جو فنڈ ضم شدہ اضلاع کیلئے مختص ہیں اُس کو اُن ہی اضلاع میں لگایا جائے اور وہاں کے عوا م کو تمام تر سہولیات جلد مہیا کی جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہاکہ ضم شدہ اضلاع میں سروس ڈیلیوری کو ہر حال میں ممکن بنانا ہے ، خاص طور پر تعلیم ، صحت و غیرہ میں سروس ڈیلیوری ، سٹاف کی حاضری اور دوسری ضروریات کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں زیادہ تر توجہ خدمات کی فراہمی کی بجائے عمارات تعمیر کرنے پر دی گئی تھی لیکن اب تمام تر منصوبہ بندی عوام کو خدمات کی بہتر فراہمی پر مرکوز کی جائے گی۔
اجلاس میں صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع کے تمام محکموں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر بھی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے سیکٹر وائز اخراجات اور فنڈز کے استعمال کے حوالے سے بھی تفصیلا ًبتایا گیا۔ضم شدہ اضلاع میں جاری ترقیاتی اسکیموں اور دیگر منصوبوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 2018-19 میں سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے حوالے سے 308 منصوبوں کیلئے 9452 ملین روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ ان منصوبوں پر اب تک بجٹ کے استعمال کی شرح 93 فیصد رہی ہے ۔ 2018-19 میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کیلئے 70 منصوبوں پر 3427 ملین روپے خرچ ہوئے ہیں۔ 2018-19 میں محکمہ صحت کے 104 منصوبوں پر اب تک 3299 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ صوبے میں محکمہ آبپاشی کے 176 منصوبوں کیلئے 5599 ملین روپے کا بجٹ جاری ہوا ہے جبکہ ان منصوبوں پر اب تک بجٹ کے استعمال کی شرح 81 فیصد رہی ہے ۔ صوبے میں شہری علاقوں کی ترقی کیلئے 33 منصوبوں پر 1543ملین روپے خرچ ہوئے ہیں۔ صوبے میں صاف پانی کی فراہمی کے 50 منصوبوں کیلئے 2917 ملین روپے جاری کئے گئے ہیںجبکہ ان منصوبوں پر 2287 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ محکمہ بلدیات کے 37 منصوبوں پر اب تک 1282 ملین روپے خر چ کئے جا چکے ہیں۔ محکمہ ماحولیات کے پانچ منصوبوں کیلئے 22ملین روپے جاری کئے گئے ہیں اور ان منصوبوں پر اب تک بجٹ کے استعمال کی شرح 72 فیصد رہی ہے ۔ محکمہ داخلہ کے 51 منصوبوں کیلئے اب تک 1172ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ ان منصوبوں پر اب تک بجٹ کے استعمال کی شرح 70 فیصد رہی ہے ۔ محکمہ ریلیف کے 28 منصوبوں کیلئے 723 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں اور ان منصوبوں پر اب تک بجٹ کے استعمال کی شرح 71 فیصد ہے ۔ محکمہ قانون کے 35 منصوبوں کیلئے 880 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جبکہ ان منصوبوں پر بجٹ کے استعمال کی شرح 76 فیصد ہے ۔ صوبے میں محکمہ کھیل وثقافت کے 67 منصوبوں پر اب تک 1117 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں محکمہ صنعت کے 17 منصوبوں پر اب تک 382 ملین روپے خرچ کئے گئے ہیں اور اسی طرح باقی تمام محکموں جن میں محکمہ خوراک ، بور ڈ آف ریونیو ، مائنز اینڈ منرلز، اوقاف،سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ہاﺅسنگ ، سوشل ویلفیئر ، انرجی اینڈ پاور ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، پاپولیشن اینڈ ویلفیئر، محکمہ اطلاعات ، محکمہ ماحولیات اور ڈسٹرکٹ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی جائزہ رپورٹ اجلاس میں پیش کی گئیں۔اجلاس کو ضم شدہ اضلاع کے تما م محکموں اور سیکٹر وائز سالانہ ترقیاتی منصوبوں اور سکیموں کے حوالے سے بھی تفصیلی جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔ وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا اور تاریخی موقع ہے کہ صوبے اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا اکھٹے ریویو ہوا ہے۔ موجودہ صوبائی حکومت کی بہتر مالی نظم و نسق کی وجہ سے Fiscal space میں خاطر خواہ اضافہ ہواہے۔ہم نے گزشتہ آٹھ نو مہینوں میں کرنٹ اور ڈویلپمنٹ دونوں شعبوں کے بجٹ کو rationalize کر دیا ہے۔ انتہائی مشکل مالی حالات کے باوجود ہماری کار کردگی بہتر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال کے تیسرے سہ ماہی میں مختص کردہ مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 78 فیصد ریلیز ہوا ہے جبکہ کل اخراجات کی شرح 66 فیصد رہی جو پچھلے سال کے تیسرے سہ ماہی کے اخراجات کے برابر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت اگلے مالی سال میں اپنے مانیٹرنگ نظام کو مزیر موثر بنا کر اخراجات کی شرح کو 80 فیصد تک بڑھانے کی بھر پور کوشش کرے گی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مالی سال کے شروع کے تین مہینوں میں ٹرانزیشن پراسس کی وجہ سے ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار سست رہی ہے مگر اب ٹرانزیشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے لئے صوبے کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 181 ارب روپے ہے جس میں سے اب تک 119 ارب روپے ریلیز ہو چکے ہیں اور کل ریلیز میں سے 90 ارب روپے خرچ بھی کئے جا چکے ہیں۔صوبے میں ریونیور جنریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ پچھلے سال خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کی کل ریکوری تقریبا 11 ارب روپے تھی جبکہ موجودہ حکومت اس کو رواں مالی سال 15 ارب روپے تک لے جانے کی کو شش کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبائی حکومت ان ترقیاتی سکیموں پر توجہ دے رہی جو تکمیل کے قریب ہیں یا جو مفاد عامہ کے نکتہ نظر سے اہم منصوبے ہیں۔ ایسے منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ ٹیکنیکل اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی ہری پور ہے جس کے لئے دو ارب روپے کی گرانٹ دی گئی ہے۔
<><><><><><><><>

وزیراعلیٰ‌کی ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات کی مجموعی سرگرمیوں پر غیر معمولی توجہ مرکوزکرنے کی ہدایت
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ )‌وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات سمیت انضمام کی مجموعی سرگرمیوں پر غیر معمولی توجہ مرکوز کرنے اور تیز رفتار پیشر فت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوںنے 30 جون2019 تک ضم شدہ اضلاع کے ہسپتالوں میں ناپید سہولیات (آلات) پوری کرنے اور میونسپل سروسز کیلئے آلات کی خریداری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوںنے ضم شدہ اضلا ع کے ہسپتالوں اور سکولوں میں آزاد مانیٹرنگ یونٹس کے دوروں ،پیشرفت اور نتائج کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہاکہ آئی ایم یوز کے پس پردہ مقاصد کا حصول بھی یقینی ہونا چاہیئے ۔ نئے اضلاع میں صحت اور تعلیم کے اداروں کو فعال بنانا اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں ضم شدہ اضلاع پر پیشرفت کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے اسٹبلشمنٹ شہزاد ارباب کے علاوہ صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، سلطان محمد خان، وزیراعلیٰ کے مشیرضیاءاﷲ بنگش، مشیر برائے ضم شدہ اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، چیف سیکرٹری سلیم خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش ، صوبائی محکموں خزانہ، بلدیات ، داخلہ ، صحت ، تعلیم اور سپورٹس کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو ضم شدہ اضلاع میں مختلف شعبوں میں پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس کو سابقہ فاٹا کے صوبے میں انضمام اور موجودہ حکومت کی طرف سے انضمام کے عمل میں پیشرفت کے حوالے سے سروے رپورٹ سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے 75 فیصد عوام انضمام کے حق میں ہیں اور59 فیصد عوام نے نئے اضلا ع میں ترقیاتی و اصلاحاتی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اجلاس کو نئے اضلاع کے مالی انضمام کے حوالے سے محکمہ خزانہ کے اقدامات پر پیشرفت اور ضم شدہ اضلاع کے لئے مالی سال 2019-20 کے تخمینہ بجٹ سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس میں ضم کرنے کے نتیجے میں مجموعی مالی پیکج بشمول پنشن تقریبا ً4790 ملین روپے بنتا ہے تاہم اس میں کسی حد تک کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ این ایف سی میں تین فیصد حصہ نئے اضلا ع کو دینے کے حوالے سے کسی صوبے نے بھی عدم رضامندی ظاہر نہیں کی ہے ۔ شعبہ صحت میں پیشرفت کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے میں پہلے سے موجود آئی ایم یو کی ٹیم ضم شدہ اضلاع میں ہسپتالوں میں سہولیات ، سٹاف اور آلات کی مانیٹرنگ کا عمل شروع کر چکی ہے ۔ باقاعدگی سے دور ے شروع ہیںجس کے نتیجے میں کافی بہتری آئی ہے ۔ تاہم ضم شدہ اضلاع کیلئے مخصوص آئی ایم یو سٹاف فراہم کرنے پر کام جاری ہے ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے تمام خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جائیں گے ۔150 ملین روپے کی لاگت سے ضم شدہ اضلاع کے ہسپتالوں کیلئے ایمرجنسی ادویات کی خریداری بھی شروع ہے ۔ رواں ماہ کے وسط تک یہ کام مکمل کر لیا جائے گا۔ ضم شدہ اضلاع کے ہائیر سیکنڈری سکولوں میں ضروریات پوری کرنے پر بھی کام جاری ہے ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے 19 سب ڈویژنز میں سپورٹس گراﺅنڈ پہلے سے موجود ہیں، جن کو جون 2019 ءتک بحال کر دیا جائے گاجبکہ باقی ماندہ 6 سب ڈویژنز میں بھی دسمبر2019 تک سپورٹس سہولیات یقینی بنائی جائیں گی ۔اس سلسلے میں اراضی مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔ ضم شدہ اضلاع میں روزگار کی تخلیق کے حوالے سے بینک آف خیبرسے بات ہو چکی ہے ۔ ابتدائی طور پر چار اضلاع باجوڑ، خیبر، مہمند اور کرم میں کام شروع کیا جا رہا ہے ۔ 15 اپریل سے بینک آف خیبر کام شروع کرے گاجبکہ باقی دو اضلاع میں 15 مئی سے کام شروع ہو گا۔ اجلاس کو ضم شدہ اضلاع میں اربن ڈویلپمنٹ ، امن عامہ ، توانائی اور بجلی اور دیگر شعبوں سمیت مجموعی ترقیاتی اقدامات اور حکمرانی کے حوالے سے بھی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے تمام شعبوں میں نظر آنے والی پیشرفت یقینی بنانے کی ہدایت کی اور واضح کیاکہ نئے اضلاع میں عوام کو جلد ریلیف دینے کیلئے بھر پور کاوشیں کی جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کے عوام نے بڑی تکالیف اُٹھائی ہیں وہ ہماری بھر پور اور خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ خود بھی باقاعدگی سے نئے اضلاع کا دورہ کریں گے۔ دریں اثناءایک علیحدہ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو ضم شدہ اضلاع کے لیویز اور خاصہ داروں کے حوالے سے قائم حکومتی کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اور کمیٹی کے چیئرمین اجمل خان وزیرنے رپورٹ پیش کی ۔ وزیراعلیٰ نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا اورکہاکہ لیویز اور خاصہ داروں کی ملازمت کوبھر پور تحفظ دیا جائے گا ۔ یہ اُن کا حق بنتا ہے کیونکہ وہ گزشتہ 15 سال سے حالت جنگ میں ہیں انہوںنے بڑی قربانیاں دی ہیں اور تکالیف اُٹھائی ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر شہزاد ارباب ، وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کے علاوہ صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا ، سلطان محمد خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔


شیئر کریں: