Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاوریونیورسٹی کیمپس کے اندرواقع تعلیمی اداروں کے کینٹینوں کی خوراک آلودہ اورغیرمحفوظ قرار

Posted on
شیئر کریں:

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینے کے صاف پانی کا کسی بھی کینٹین یا میس میں کوئی انتظام نہیں، طلبا و طالبات غیر صحت بخش اور آلودہ کھانوں پر مجبور ہیں…..
:پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے تعلیمی اداروں پر مبنی جائزہ رپورٹ شائع کردی۔ رپورٹ میں ان تعلیمی اداروں کے اندر واقع کینٹینوں کے خوراک کو آلودہ اور غیرصحت بخش قراردیا ہے۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں ڈائریکٹر جنرل کے پی فوڈ اتھارٹی ریاض خان محسود نے کہا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کو مراسلے بھیجیں گے اور اگر کینٹینوں کو معیار کے مطابق نہ کیا گیا تو کاروبار بند کردینگے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہزاروں طلبا کی صحت خطرے میں نہیں ڈال سکتے اور یہ کہ تعلیمی اداروں سے چھ سو زائد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ڈائریکٹر آپریشنز خالد خان خٹک نے بتایا کہ پشاور میں مختلف جامعات کے اسی کے قریب کینٹین چیک کئے جاچکے ہیں جن میں سے چالیس کے قریب ایک یا دو دفعہ سیل اور دو دوفعہ سے زائد جرمانہ کئے جاچکے ہیں لیکن پھر بھی کینٹینوں کو قبلہ درست نہیں ہوا جس کی اصل وجہ مظبوط ٹھیکیداری نطام ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انتظامیہ فوڈ اتھارٹی کے معیار کو ٹھیکیدار کیلئے لازمی قراردے کر طلبا کے صحت کیساتھ کھلواڑ بند کرے بصورت دیگر اتھارٹی کسی بھی جگہ کریک ڈاون کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ فوڈ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مانیٹرنگ اینڈ ایوالویشن سمیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ فیلڈ انسپکشن کے بعد ان کو خیبرمیڈیکل کالج کے کینٹینوں میں بہتری دیکھنے میں آئی جبکہ دیگر اداروں کے کینٹین تاحال گندگی اور غلاظت میں خوراک تیار کرکے طلبا کو پیش کررہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رپورٹ کی کاپیاں متعلقہ حکام کو ارسال کی جائینگی اور اس پر عمل درآمد کرانے کیلئے فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں دو ہفتے بعد آپریشنز کا سلسلہ شروع کریگی جو کہ طلبا کی صحت کیلئے ناگزیر ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی ڈاکٹر مراد علی کا کہنا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ طلبا کو صاف پانی تک مہییا نہیں ہوتا جس سے وہ طرح طرح کی بیماریوں کو شکار ہوتے ہیں۔ ان کا مزید ک?نا تھا کہ کھلے فضا میں کھانے تل رہے ہیں جبکہ کینٹین عملے کی خود کی صفائی بھی نہ ہونے کے برابر ہے اور عملے کیا کسی قسم کا طبعی معائینہ نہیں ہوتا جس سے طلبا میں موذی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر مراد علی نے خبردار کیا کہ رپورٹ میں پیش کئے گئے تجاویز پر من و عن عمل کرایا جائے اور طلبا کو آلودہ اور غیرمھفوظ خوراک کھانے پر مزید مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے ہر تعلیمی ادارے میں فوڈ انسپکشن کمیٹی بھی تجویز کی جو کہ گاہے بگاہے خوراک کے معیار کو چیک کرے اور شکایات اور تکنیکی معیاونت کی صورت میں فوڈ اتھارٹی سے رابطہ کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر کینٹین کو مہیا کی گئی عمارتیں کھانے پکانے کیلئے موذوں ہی نہیں ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر تعلیمی اداروں کو کسی بھی قسم کی تکنیکی معاونت چاہئے تو فود اتاتھارٹی کی ٹیمیں ہمہ وقت ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں۔


شیئر کریں: