Chitral Times

Jan 22, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انٹرنیٹ اور مدارس سے غیر تصدیق شدہ قرآن پاک ہٹانے کا حکم

Posted on
شیئر کریں:

لاہور(سی ایم لنکس) لاہورہائیکورٹ نے انٹرنیٹ سے قرآن مجید کے غیر تصدیق شدہ نسخے ہٹانے کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی تمام مدارس سے قرآن مجید کے غیر تصدیق شدہ نسخے ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ پر سہولیات میسر آنے کے بعد قرآن پاک کے نسخے پی ڈی ایف فارمیٹ میں موجود ہیں، جبکہ آن لائن قرآن پڑھنے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ مگر غیر مستند اداروں کی جانب سے انٹرنیٹ پر موجود قرآن پاک کے نسخے موجود ہونے کی وجہ سے اس بات کا امکان بھی پایا جاتا ہے کہ ان میں اغلاط بھی موجود ہوں۔پاکستان میں قرآن مجید کی اشاعت کا نظام انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اشاعت سے پہلے اداروں کو رجدٹریشن کروانی ہوتی ہے، ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ اشاعت میں کسی قسم کی کوئی غلطی نہ ہو۔ انٹرنیٹ پر قرآن مجید کے ساتھ ساتھ پنج سورہ اور دس سورہ کے بھی کئی نسخے موجود ہیں۔اس لئے لاہور ہائیکورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ انٹرنیٹ سے تمام غیر تصدیق شدہ قرآنی نسخوں کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے، تاکہ قرآن پاک کو اغلاط اور بے ادبی سے محفوظ رکھا جاسکے۔ عدالتی حکم کے مطابق اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قرآن مجید، پنج سور اور دس سورہ کی اشاعت کے وقت ہر صفحے پر سیرئیل نمبر، کیو آر کوڈ اور کمپنی کا نام لازمی موجود ہو۔ انٹرنیٹ پر بھی قرآن مجید کے صرف وہ نسخے رہنے دئے جائیں جو رجسٹرد کمپنیوں کی جانب سے شائع کئے گئے ہوں۔لاہور ہائیکورٹ نے اسلامی کتب شائع کرنے والی کمپنیوں کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کروائیں اور قرآن کونسل سے اپنی اسلامی کتب کی تسدیق کروائیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ان احکامات پر جلد عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق اگر مدارس اور مساجد کو قرآن مجید عطیہ کئے جائیں تو وہ اس بات کی تصدیق کرلیں کہ وہ مستند کمپنیوں شائع شدہ ہوں۔
……………………………………………………..

پشاور: نئے قبائلی اضلاع میں پولیس ڈی پی اوز کی تعیناتی
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد نئے قبائلی اضلاع میں انسپکٹر جنرل پولیس نے ڈی پی اوز کی تعیناتی کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی جی پولیس ڈاکٹر نعیم خان نے پولیس ایکٹ 2017 سیکشن 4 کے تحت ڈی پی اوز کی تعیناتی کا اعلامیہ جاری کیا،جس کے مطابق شہاب علی شاہ ضلع باجوڑ،عبد الرشید ضلع مہمند رحیم شاہ ضلع کرم ایجنسی اور محمد حسین ضلع خیبر کے ڈی پی او ہوں گے۔اعلامیہ کے مطابق صلاح الدین خان ڈی پی او ضلع اورکزئی اور کفایت اللہ ضلع شمالی وزیرستان عطا اللہ وزیر جنوبی وزیرستان اور احسان اللہ خان ہنگو کے ڈی پی او تعینات کر دیئے گئے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد پولیس ڈی پی اوز کی تعیناتی لازمی اور قانونی تقاضا تھا۔اس سے قبل چھ مارچ کو فاٹا انضمام کے بعد نئے اضلاع میں پچیس تھانوں کے قیام کا اعلان کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، محکمہ داخلہ پشاور کے اعلامیہ کیمطابق ضلع باجوڑ میں خار اور نواگئی کے مقام پر دو نئے تھانے قائم کئے گئے ہیں اسی طرح ضلع مہمند میں لوئر مہمند، اپر مہمند بادی زئی، ضلع خیبر میں لنڈی کوتل اور باڑہ ضلع اورکزئی میں لوئر اورکزئی اور اپر اورکزئی میں نئے تھانے ہوں گے۔ضلع کرم کے لئے لوئر، سنٹرل اور اپر کرم شمالی وزیرستان میں میر علی میران شاہ اور رزمک جنوبی وزیرستان میں سرواکئی، وانا اور پولیس اسٹیشن لدھا میں نئے تھانوں کی تجویز دی گئی ہے۔ ایف آر شاور کوہاٹ اور ٹانک میں بھی چھ نئے تھانے قائم کئے جائیں گے۔
……………………………………………………….

انتخابی فہرستوں میں شناختی کارڈ کے مطابق ووٹ کے اندراج یا منتقلی کا(کل) آخری دن
اسلام آباد(چترال ٹائمز رپورٹ) الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں شناختی کارڈ کے مطابق ووٹ کے اندراج یا منتقلی کاکل (اتوار کو) آخری دن ہے، 31 مارچ آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس کام کے لئے ملک بھر میں مراکز برائے وصولی فارم اندراج و منتقلی قائم کئے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے تین مختلف اقسام کے فارم متعارف کرائے گئے ہیں جن میں فارم 21 ووٹ کے اندراج یا منتقلی کے لئے ، فارم 22 اعتراضات اور ووٹ حذف کرانے کے لئے جبکہ فارم 23 نام و پتہ کی درستگی کے لئے ہے۔ ووٹ کے اندراج و منتقلی کا کام اتوار کو بھی جاری رہے گا۔ الیکشن کمیشن کے ضلعی دفاتر اور رجسٹریشن آفسزکل (اتوار کو) بھی کھلے رہیں گے۔

………………………………………………………………………….

اصغر خان عمل درآمد کیس دوبارہ سماعت کے لئے مقرر
اسلام آباد(چترال ٹائمز رپورٹ)سپریم کورٹ نے اصغر خان عمل درآمد کیس دوبارہ سماعت کے لئے مقرر کرتے ہوئے نیا بینچ بھی تشکیل دے دیا ہے، جو دو اپریل کو سماعت کرے گا۔تفصیلات کے مطابق دو اپریل کو جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اٹھارہ مارچ کو اصغرخان کیس ڈی لسٹ کیا تھا، جبکہ رجسٹرار آفس نے بھی کیس ڈی لسٹ کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔اصغر خان کیس کو سماعت سے ایک روز قبل ڈی لسٹ کیا گیا تھا،جس کا رجسٹرار آفس نے نوٹی فیکیشن بھی جاری کیا اور ساتھ ہی تمام فریقین کو بھی سماعت کی منسوخی سے متعلق نوٹسز جاری کئے گئے تھے۔۔اصغر خان کیس کا پس منظر۔۔یہ معاملہ تھا 1990ء کی انتخابی مہم کے دوران پیش آیا تھا، الزام یہ تھا کہ اس انتخابی مہم کے دوران اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اور رہنماؤں میں پیسے تقسیم کیے گئے۔ یہ کیس عدالت میں آیا تو اصغر خان کیس کہلایا۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا کہ یہ پیسے بانٹے گئے تھے۔ یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے۔پیسے لینے والوں میں مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کا نام بھی آیا تھا۔اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے بھی علم میں تھا۔


شیئر کریں: