Chitral Times

May 26, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ہزاروں خواہشیں ایسی………………عبدالکریم کریمی

    March 29, 2019 at 6:12 pm

    آج کے دن کا آغاز عطا الحق قاسمی صاحب کے کالم ’’ایک کلرک کی ڈائری‘‘ سے ہوا۔ قاسمی صاحب نے جہاں ہنسا دیا وہاں رلا بھی دیا۔ لیجئیے آپ بھی پڑھئیے اور سر دھنئیے۔ وہ لکھتے ہیں:
    ’’کبھی کبھی اس طرح زندگی گزارنے کو بہت جی چاہتا ہے کہ گھر کے مین گیٹ پر جب میری گاڑی پہنچے اور باوردی شوفر ہارن دے تو تین چار نوکر ہانپتے ہانپتے آئیں اور ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے گیٹ کھولنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔ دبیز قالینوں پر پائوں دھرتا ہوا جب میں ڈرائنگ روم میں پہنچوں تو بٹلر نے میز پر کھانا سجایا ہو اور شیف، سفید لمبوتری ٹوپی پہنے کھانے کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اردگرد موجود ہو۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے امپورٹ کئے گئے سامانِ آرائش سے مزین بیڈ روم کے آخری سرے پر بچھے واٹر بیڈ پر لیٹوں تو مجھے یوں لگے جیسے کوئی سوئمنگ پول کے فلوٹنگ رافٹ میں آنکھیں بند کئے لیٹا ہچکولے لے رہا ہو۔ صبح ناشتے کی میز پر اخبارات کی سمری میرے سامنے دھری ہو جس میں مختصر طور پر قومی و بین الاقوامی صورت حال سے متعلق خبریں درج ہوں۔ نیز یہ بتایا گیا ہو کہ اخبارات نے کس موضوع پر اداریہ لکھا ہے، کسی اہم کالم نگار کے کالم کا نچوڑ کیا ہے، اسٹاک ایکسچینج کی کیا صوررت حال ہے، گھوڑوں اور گدھو ں کی تجارت کیسی جا رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    اس کے بعد ملاقاتیوں کا سلسلہ شروع ہو، ان کی تلاشی یا گہری نظروں سے جائزہ لے کر ایک ایک کر کے انہیں اندر بھیجا جائے۔ ملاقات کے لئے طے شدہ ٹائم پورا ہونے پر سیکرٹری کمرے میں داخل ہو اور جھک کر کہے’’سر آپ کا اگلا پروگرام یہ ہے‘‘ جس پر وہ ملاقاتی اشارہ سمجھ کر رخصت ہو اور دوسرا ملاقاتی حالتِ رکوع میں اندر داخل ہو، یہ سب لوگ میری باتیں اس طرح سنیں جیسے بولنے کا حق اور سلیقہ قدرت نے صرف مجھے ودیعت کیا ہے۔ ہفتے میں ایک آدھ دن گھر میں پارٹی کا اہتمام ہو جس میں دوست (اور دشمن) ملکوں کے سفیر، اعلیٰ فوجی افسران اور سیاست دان شریک ہوں۔ اس پارٹی کے لئے صرف ممیاہٹ کے انداز میں حکم دینا پڑے کہ فلاں دن اس کا اہتمام کیا جائے۔ سیکرٹری آکر اطلاع دے کہ سر آپ فلاں تاریخ کو ہالیڈے پر تین مہینے کے لئے ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ امریکہ، اسپین اور سوئٹزر لینڈ کے لیے ٹکٹ اور ہوٹلوں کی بکنگ ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں کوئی خصوصی ہدایات جاری فرمانا چاہیں تو حکم دیں۔
    یہ اور اسی طرح کی زندگی گزارنے کے باقی لوازمات (جن سے میں پوری طرح واقف نہیں ہوں) مجھے میسر ہوں تاکہ جو زندگی میں اب گزار رہا ہوں اس سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ ان دنوں صبح سویرے جب نہانے کے لیے باتھ روم میں داخل ہوتا ہوں اور خاصے خوشگوار موڈ میں خاصی ناخوشگوار آواز میں کوئی گانا گنگناتے ہوئے چہرے پر صابن ملتا ہوں تو نلکے میں پانی آنا بند ہو جاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد آنکھوں میں صابن جانا شروع ہو جاتا ہے۔ ہفتے میں دس بارہ دفعہ ٹیلی فون ٹھیک کرانے کے لیے شکایت درج کرانا پڑتی ہے، بجلی، گیس اور پانی کا بل جمع کرانے کے لیے لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گردوغبار سے اٹی فضائوں میں سے گزر کر چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے دفتروں کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ معمولی معمولی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے دو دو سال کی کمیٹی ڈالنا پڑتی ہے۔ بیمار پڑنے پر بھاری فیسوں کا خیال بیماری کی شدت میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ اور اسی طرح کے مسائل اس متوسط طبقے کے ہیں جس سے میں تعلق رکھتا ہوں جبکہ عوام ’’کالانعام‘‘ کے لئے تو سانس لینا بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
    مگر سچی بات یہ ہے کہ میں جس طبقے سے پھسل کر جس طبقے کی طرف جانا چاہتا ہوں اس کے بارے میں ایک بات تو میں نے سوچی ہی نہیں تھی اور وہ یہ کہ ان تمام آسائشوں اور پروٹوکول میں جو میں نے کالم کے شروع میں بیان کیں وہ سب کچھ موجود ہے، جس کی میں نے خواہش کی ہے لیکن اس میں میری فیملی کہیں دکھائی نہیں دیتی، اس طبقے میں داخل ہونے کے بعد ایک بیٹا امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے، دوسرا بیٹا آسٹریلیا میں ہوتا ہے، بیٹی لندن میں ہوتی ہے اور بیوی فوٹو گرافروں میں گھری سماجی خدمات میں مشغول دکھائی دیتی ہے۔ اس طبقے میں دوست بھی نہیں ہوتے، مصاحب ہوتے ہیں یا باس ہوتے ہیں، رات کو واٹر بیڈ پر ہچکولے کھانے کے باوجود وہ نیند میسر نہیں ہوتی جو دن بھر کی مشقت کے بعد سر کے نیچے بازو کو سرہانہ بنا کر میسر ہوتی ہے۔ شیف اور بٹلر، ڈائننگ روم کی زیبائش اور کراکری کا سامان بھی معدے کو اس قابل نہیں بناتا کہ دنیا جہاں کی نعمتیں اس کے لیے قابلِ قبول ہو سکیں۔ اس طبقے میں بے شمار لوگ عزت کرنے والے ہوتے ہیں لیکن محبت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا بلکہ اس طبقے میں شمولیت کے بعد خود اپنی عزت کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ انسان دوسروں کی نسبت خود کو زیادہ جانتا ہے۔ مرنے پر جنازے میں لوگ شامل ہوتے ہیں مگر رونے والا کوئی نہیں ہوتا، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں مقیم بچے فون پر ممی سے تعزیت کرتے ہیں اور پھر چند دنوں بعد وطن واپس آکر جائیداد کے مسئلے حل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔
    یہ سب باتیں بھی اپنی جگہ درست ہیں لیکن کوئی بات تو ہے کہ روبوٹ جیسی زندگی گزارنے کے لیے لوگ بھرپور انسانی زندگی اس پر سے تیاگ دیتے ہیں۔ بلکہ اس کے لیے کئی انسانی زندگیاں قربان کر دیتے ہیں انسانوں پر ظلم کرتے ہیں، ملک اور قوم کے مفادات سے غداری کرتے ہیں اور اس کے عوض وہ ایک بڑے سائز کی کیسپول میں زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ خواہشوں کے کیسپول میں بند اور روبوٹ کی طرح زندگی بسر کرنے والا کوئی بڑا آدمی میری یہ الجھن حل کرے کہ انسانی جذبوں سے عاری ہونے کے بعد اسے انسان کیسے لگنے لگتے ہیں ، وہ دھرتی کیسی لگتی ہے جہاں انہوں نے غیر انسانی جزیرے قائم کر رکھے ہیں۔‘‘

  • error: Content is protected !!