Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نئے سیاحتی مقامات سے حاصل شدہ آمدن مقامی آبادی پر خرچ کی جائیگی ، عاطف خان

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) سینئر صوبائی وزیر سیاحت عاطف خا ن نے کہاہے کہ صوبے کے نئے سیاحتی مقامات سے حاصل ہونے والی آمدن مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی اور نئے سیاحتی مقامات میں بسنے والے لوگوں میں سیاحت کے حوالے سے باقاعدہ شعور اجاگر کرنے کیلئے مہم چلائینگے تاکہ مقامی لوگ خودہی سیاحتی مقامات کے محافظ بنے کیونکہ مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر سیاحتی مقامات کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا ،سٹیک ہولڈرز کے بغیر سیاحت کا فروغ ممکن نہیں ہے اس لئے تمام سٹیک ہولڈرز اور بین الاقوامی اداروں کوساتھ لیکر نئے سیاحتی مقامات کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار کیا جائیگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونائیٹڈ نیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) اور محکمہ سیاحت کے تعاون سے منعقدہ ورکشاپ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سیکرٹری محکمہ سیاحت راشدمحمود ، ڈائریکٹر امورنوجوانان اسفندیار خٹک ، انچارج پیتھام حرمت یاب اور دیگر سٹیک ہولڈرز موجود تھے ،ملاقات میں نئے سیاحتی مقامات کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی ، سینئر صوبائی وزیر عاطف خان نے کہاکہ سیاحت کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ وہاں موجود مقامی آبادی کو ساتھ لیکر چلا جائے ، سوات ، بونیر ، چترال اور مانسہرہ ڈسٹرکٹ میں نئے سیاحتی مقامات کا تعین کر لیا گیا ہے تاہم اس کیلئے نوجوانوں کو ٹریننگ دینے سمیت مقامی سیاحت کیلئے اقدامات اٹھانے ہونگے ، نئی سیاحتی مقامات سے موصول ہونیو الی آمدن کو مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر لگایا جائے گا جس سے علاقائی ترقی کے ساتھ ساتھ مقامی افراد کو روزگار بھی ملے گا اور ان کی معیار زندگی بھی بہتر ہو گی ، نئے سیاحتی مقام کی آباد کاری کے ساتھ ہی ذہن میں صرف وہاں ہوٹل یاریسٹورنٹ کا خیال کیوں آتا ہے اس کے علاوہ وہاں دیگر ایسے اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں جن سے سیاحتی مقامات آباد ہو سکے ، جس میں مقامی سیاحت کیلئے انفراسٹرکچر کیساتھ ساتھ دیگرسہولیات کی فراہمی اہم جز ہے ، ان تمام کیلئے سٹیک ہولڈرز کا ساتھ ہونا زیادہ ضروری ہے ،ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے دیگر شرکاء کا کہنا تھا کہ سیاحت کیلئے نوجوانوں کی تربیت سمیت مقامی افراد کو ان کے فوائد سے اجاگر کرنے اور آگاہی کیلئے ورکشاپس کا انعقاد ضروری ہے تاکہ ان مقامات کو آنے والے سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے علاوہ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جا سکے ۔


شیئر کریں: