Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ترقیاتی اورفلاحی اقدامات کو تیز ترکرنے کیلئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی مشترکہ کمیٹی تشکیل

    March 22, 2019 at 8:11 am

    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کو تیز ترکرنے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔وفاقی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ، وفاقی سیکرٹری برائے خزانہ اور صوبائی سیکرٹری خزانہ پر مشتمل مشترکہ کمیٹی ضم شدہ اضلاع کیلئے پلاننگ اور فنڈنگ کے عمل کو مزید بہتر بنانے اور ترقیاتی و فلاحی سرگرمیوں کو تیز تر کرنے کیلئے دو ہفتوں کے اندر جامع حکمت عملی وضع کریگی۔ مشترکہ کمیٹی کی ضرورت اور تشکیل کا فیصلہ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان، وفاقی وزراء اسد عمر ، مخدوم خسرو بختیار ، وزیراعظم کے مشیر شہزادارباب، خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، وزارت خزانہ اور پلاننگ کے اعلیٰ آفسران اور دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں نے ماضی میں نظر انداز کئے گئے قبائلی اضلاع کیلئے نا صرف بے مثال ترقیاتی پلان اور فلاحی پرگرام تیار کیا ہے بلکہ وسائل بھی خرچ کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے اضلاع کے عوام کے وسیع تر مفاد میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ کاوشوں کو تیزتر کرنے کیلئے مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی ترقیاتی و فلاحی پروگرام کے تحت منصوبوں پر تیز رفتار اور معیاری عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو اپنی رپورٹ پیش کریگی۔ اجلاس کے شرکاء نے نئے اضلاع کے عوام کی قربانیوں کو سراہا اور ان علاقوں کو ملک کے ترقیاقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کیلئے مرکزی اور صوبائی دونوں سطح پر پی ٹی آئی کی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں تین ماہ کے مختصر عرصہ میں نئے اضلاع کا انتظامی انضمام مکمل کرنے پر خیبرپختونخوا حکومت کی بھی تعریف کی گئی، جس نے آئینی ترمیم کے بعد ضم شدہ اضلاع اور ملک کے دیگر حصوں خصوصاً صوبے کے مابین پائے جانے والے خلا کو پر کیا اور ان علاقوں کو ترقی اور فلاح کے قومی دھارے میں لانے کیلئے بلا تاخیر اقدامات کئے ۔اجلاس میں منصوبوں کیلئے وسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ وسائل کی کمی منصوبوں پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہ بنیں۔اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبائی حکومت متعلقہ حکام کو اہم نوعیت کے مختلف فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کی تیاری کی ذمہ داری پہلے سے سونپ چکی ہے جن میں سے زیادہ تر تیار ہیں یا تکمیل اور منظوری کے حتمی مراحل میں ہیں۔
    ……………………………
    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات
    پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں سابقہ فاٹا میں ترقیاتی اصلاحات اور فلاحی سرگرمیوں سمیت پشاور اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں صوبائی حکومت کی طرف سے جاری مختلف بڑے پراجیکٹس پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو صوبے اور مرکز کے مختلف ڈویژنز اور اداروں کیساتھ ہونے والے اجلاسوں اور کوآرڈینیشن سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے ضم شدہ اضلاع کی ترقی ، خوشحالی ، آبادکاری اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے لئے ایک مکمل پلاننگ اور وسائل کے استعمال کی ہدایت کی اور کہا کہ ترقیاتی اور فلاحی سرگرمیوں کا محور غریب عوام ہونا چاہیئے۔حکومت نے وسائل کی فراہمی کا آغاز کردیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عوامی فلاح کیطرف بتدریج لیکن تیز رفتاری کیساتھ آگے بڑھنا ہے۔ ہمارے وسائل انسانی ترقی پرخرچ ہونے چاہئیں، پھر ہمارے لوگ خود اپنی ترقی اپنی مرضی سے پلان کرسکیں گے۔ وزیراعظم نے سابقہ قبائلی علاقے کو قومی ترقی کے دھارے میں لانے والے اقدامات ، منصوبہ بندی اور سکیموں کے اجراء کو سراہا۔
    وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو فنانس ڈویژن اور مواصلات کے مابین ہونے والے اجلاس سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انضمام کے لئے ہم تیاری کے بعد بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہماری کوششوں کا مقصد دہشت گردی اور شدت پسندی اور اس کے بعد ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں بے گھر لوگوں کی بحالی ، آباد کاری اورلوگوں کو معاوضہ دینا اور قبائلی اضلاع میں اقتصادی سرگرمیوں کا احیاء ہے ۔ ہم دن رات قبائلی اضلاع کے لوگوں کے لئے کام کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انکے قبائلی اضلاع کے دورے کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں، وہاں کے لئے ترقیاتی سکیموں کے اعلانات پر عملدرآمد کے لئے وہ خود ہدایات دے چکے ہیں، اور تمام ترقیاتی اور فلاحی سرگرمیوں کو وہ خود مانیٹر کر رہے ہیں۔

  • error: Content is protected !!