Chitral Times

Mar 2, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مزدوروں اورورکروں کی صحت وحفاظت کیلئے نیا ایکٹ اورقانون بنارہے ہیں..ڈاکٹرامجد

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)خیبر پختونخوا کے وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ معدنیات کے کان کنوں،کوئلہ کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں اور ورکروں کی صحت و حفاظت کے لیے نیا ایکٹ اور قوانین بنا رہے ہیں۔مذکورہ ایکٹ کا بنیادی مقصد کان کنی میں کام کرنے والی ورکروں کی حفظان صحت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ معدنیات کے مزدوروں کو موت کی صورت میں ڈیتھ معاوضہ تین لاکھ سے بڑھا کر پانچ لاکھ اور زخمیوں کو دو لاکھ روپے معاوضہ دینے کے علاوہ ان کو ماہانہ وظیفہ،شادی الاؤنس،علاج معالجے کی سہولت کی فراہمی اورمائنز کے کلسٹرز کے نزدیک ایک عدد ڈسپنسری اور سکول کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔اس سلسلے میں تمام متعلقہ قانون سازی جلد از جلد مکمل کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں معدنیات کے ورکرز کی سیفٹی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی،وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان،وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے ضم شدہ اضلاع اجمل خان وزیر،سیکرٹری معدنیات عظمت اللہ گنڈاپور،چیف انسپکٹر معدنیات،ڈائریکٹر جنرل سوشل سکیورٹی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔وزیر معدنیات نے کہا کہ سوات یونیورسٹی میں معدنیات کے مزدوروں کی ٹریننگ کے کورس کا انعقاد کیا جائے گا۔جس میں کوئلہ اور دیگر کارکنوں کو سیفٹی کے حوالے سے ٹریننگ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ورکروں کی سیفٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ معدنیات کے ورکروں کو لیبر ڈیپارٹمنٹ،سوشل سیکیورٹی،ڈائریکٹریٹ،EOBI,ESSI کے ساتھ رجسٹر کیا جائے گا تاکہ امرجنسی کی صورت میں ان تمام اداروں سے ان کو علاج معالجہ اور مالی معاوضہ سے محروم نہ ہونا پڑے۔انہوں نے کہا کہ نئے ایکٹ کے تحت لیز مالکان اور ٹھیکیداروں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ورکر کی موت کی صورت میں ان کو تین مہینے کے اندر اندر فوت گی معاوضہ ادا کرنے کے پابند ہوں بصورت دیگر ان کیا لائسنس کو منسوخ کیا جائے گا۔انہوں نے چیف انسپکٹر مائنز کو ہدایت کی کہ وہ فیلڈ میں جا کر مزدوروں کے لئے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیں اور ورکرز کی سیفٹی کو یقینی بنایا جائے۔ڈاکٹر امجد نے کہا کہ ایکسائز ڈیوٹی ان جنرل سے جتنا آمدن حاصل ہوگی ان کو معدنیات کے ورکر ویلفیئر اکاؤنٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔معدنیات کے ورکروں کو محکمہ کی جانب سے ایک لاکھ روپے اضافی فوت گی معاوضہ دینے کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی لیز ہولڈر نے ورکر کو معاوضہ ٹائم پر ادا نہیں کیا تو اس کے لائسنس کو منسوخ کیا جائے گا۔وزیر معدنیات نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی معدنیات سے SOPs تیار کی ہے اور سمری وزیراعلیٰ کو بھیجوا دی گئی ہے۔
……………………………………………………………….
مزدوروں کے کانوں میں کام کے دوران حادثات کی وجہ سے ہونے والی اموات کی صورت میں ڈیتھ کمپنسیشن کو تین لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کیا جائے
پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)معدنیات کی کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے کانوں میں کام کے دوران حادثات کی وجہ سے ہونے والی اموات کی صورت میں ڈیتھ کمپنسیشن کو تین لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کیا جائے۔ جو لیبر ڈیپارٹمنٹ کا ادا کرنے کا پابند ہے جبکہ ایک لاکھ روپے مائینر کمشنریٹ کی طرف سے دیے جائیں گے لیز مالک بھی تین مہینوں کے اندر کمپنسیشن دینے کا پابند ہوگا ورنہ ڈائریکٹر جنرل مائینر کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ مالک کی کا لیز منسوخ کرد یں ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے ”خیبر پختونخوا مائنز سیفٹی اینڈ ریگولیشن ایکٹ2019 ‘‘کو حتمی شکل دینے کے لئے بلائے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد علی خان، وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر، وزیر اعلی کے مشیر برائے توانائی و برقیات حمایت اللہ خان اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ٹھیکیدار کیلئے لیز میں توسیع لیبر ڈپارٹمنٹ، مائنز ڈیپارٹمنٹ، ای او بی آئی اور ای ایس ایس آئی کی اجازت سے مشروط کردیا گیا ہے جب کہ مزدور کے لئے ای او بی آئی کارڈ، ٹھیکدار بنائے گا۔ کانوں میں کسی حادثے کی وجہ سے معذور ہونے والے مزدوروں کے علاج اور ماہانہ وظیفہ دینے کے لئے ایکٹ میں رولز بنائے جائیں گے جب کہ مزدوروں کو بروقت طبی امداد کی سہولت فراہم کرنے کے لئے کانوں کے قریب ڈسپنسری بنانے کے لئے سروے بھی جلد مکمل کیا جائے گا صوبائی وزیر نے کہا کہ مزدوروں کے لئے حفاظتی تدابیر اور انشورنس کو ممکن بنایا جائے مزدور کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست اور انہیں سکالرشپس دینے کے لئے بھی رولز میں اندراجات کئے جائیں جبکہ لیبر قوانین پر عمل درآمد کے لئے بھی ٹھیکدار کو سختی سے پابند کیا جائے مزدوروں کے لئے اسمارٹ کارڈ بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں ۔جن میں مزدوروں سے متعلق مکمل معلومات ہوں تاکہ بوقت ضرورت مزدوروں کو آسانی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا مائنز سیفٹی اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2019 سے پورے صوبے کو بالعموم اور شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کو بالخصوص فائدہ ہوگا کیونکہ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 75فیصد مزدوروں کا تعلق شانگلہ سے ہوتا ہے۔ اس ایکٹ سے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ہو گا انہوں نے کہا کہ مائنز میں کام کرنے والے مزدوروں کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق کان کنی سکھانے اور کام کے دوران حفاظتی تدابیر سے آشنا کرنے کیلئے سوات یونیورسٹی کے زیر انتظام شانگلہ کیمپس میں مزدوروں کے لیے ٹریننگ کا بندوبست بھی جلد کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں حادثات کی صورت میں ہونے والے جانی نقصانات سے بچا جاسکے اور کان کنی کے شعبے کو بھی مزید بہتر بنایا جاسکے۔


شیئر کریں: