Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اگہی میں کمی اورعطائی ڈاکٹروں‌کی وجہ سےٹی بی کے مرض‌میں‌مسلسل اضافہ ہورہاہے …ڈاکٹرفرح

شیئر کریں:

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ہیڈ ڈسٹرکٹ ٹی بی کنٹرول چترال ڈاکٹر فرح جاوید نے کہا ہے۔ کہ چترال میں ٹی بی کے مرض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں آگہی میں کمی ، عطائی ڈاکٹروں سے ادویات کا استعمال اور بیماری کے فوری علاج کی بجائے اُسے چھپانا ہے ۔ ان خیالات کا ااظہار انہوں نے میری ایڈیلیڈلیپروسی سینٹر(MALC) کے زیر اہتمام چترال پریس کلب میں منعقدہ آگہی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں قاری جمال عبد الناصر مہمان خصوصی اور صدر پر یس کلب ظہیر الدین صدر محفل تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ٹی بی قابل علاج بیماری ہے ۔ اگر بر وقت تشخیص اور ڈاکٹری ہدایات کے مطابق ادویات کا استعمال کیا جائے ۔ تو چھ سے نو مہینے کے دوران بیماری کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن بد قسمتی سے چترال میں ابتدائی طور پر اس بیماری کو خفیہ رکھا جاتا ہے ۔ اور جب یہ حد سے گزر کر ریزسٹنٹ ٹی بی کی صورت اختیار کر جاتی ہے ۔ تب بھی اس کی تشخیص کے بعد ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے وقت پر ادویات کا استعمال نہیں کیا جاتا ۔ جس سے یہ بیماری تشویش کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے ۔ اگر پرائیویٹ طور پر اس کا علاج کیا جائے ۔ تو چھ سے سات لاکھ روپے خرچ ہو سکتے ہیں ۔ جو کہ چترال کے مریضوں کی برداشت سے باہر ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارا مشن ہے ۔ کہ چترال کو ٹی بی فری بنایا جائے ۔ ۔اور اس مقصد کیلئے 13رپورٹنگ سنٹر اور 3لیبارٹریزکام کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر فرح نے ٹی بی کے مریضوں پر زور دیا ۔ کہ وہ ماسک کا استعمال کریں ، کھانسی کے بعد ہاتھ دھو لیں ، تاکہ دوسرے افراد ٹی بی کے بیکٹیریا سے محفوظ رہ سکیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایک پازیٹیو مریض پندرہ افراد کو ٹی بی کا مریض بنا سکتا ہے ۔ اس لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں ارندو اور دامیل کا علاقہ ٹی بی کاگھڑ بن چکا ہے ۔اس لئے اس بیماری سے نجات کیلئے اس علاقے کے لوگوں کے تعاون کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں مردوں کی نسبت خواتین میں ٹی بی کی شرح زیادہ ہے ۔ اور زیادہ تر چوبیس سے پینتالیس سال کے افراد اس کا شکار ہو رہے ہیں ۔ قبل ازین مصطفی کمال میلڈ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے چترال میں ٹی بی کے حوالے سے اپنے ادارے کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی ۔ اور کہا ۔ کہ ٹی بی کے حوالے سے چترال کے مختلف مقامات ارندو ، گرم چشمہ اور خاص چترال میں آگہی پروگرام منعقد کئے گئے ہیں ۔ جبکہ اپر چترال میں اب آگہی سمینار ز منعقد کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ٹی بی علاج بالکل مفت ہے ۔ اس کی ادویات کیلئے کوئی پیسہ نہیں لیا جاتا ۔ یہ ایسی بیماری ہے ۔ جو انسان کے اندر قوت مدافعت کمزور ہونے کا انتظار کرتی ہے ۔ تب اپنا اثر دیکھاتی ہے ۔ ورکشاپ کے شرکاءکی طرف سے مختلف سوالات اٹھائے گئے ۔ جن کا ڈاکٹر فرح جاوید اور مصطفی کمال نے جوابات دیے ۔ مہمان خصوصی قاری جمال ناصر نے کہا ۔ کہ انسانی اور بیماری لازم و ملزوم ہیں ۔ لیکن اللہ نے روحانی بیماری کے علاج کیلئے گناہوں سے بچنے اور جسمانی بیماری سے نجات پانے کیلئے احتیاط سے کام لینے کے احکامات نازل فرمائے ہیں اور نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے بھی تاکید فرمائی ہے ۔ جبکہ صدر پریس کلب ظہیر الدین نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ ٹی بی کا علاج ، کل نہیں آج اس کا اہم موٹو ہے ۔ تاہم غیر مستند ڈاکٹروں سے علاج اس بیماری کے تدارک کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔


شیئر کریں: