Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لاہور کی میٹروبس31ارب جبکہ پشاوربی آرٹی 29آرب روپے میں بن رہی ہے..شوکت یوسفزئی

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) اپوزیشن اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں آدھے کلومیٹر پل کی تعمیر مکمل نہیں کر سکی تھی وہ پل بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قوم کو مکمل کر کے دیا تھا اپوزیشن کے پاس بات کرنے کے لئے ایشوز ختم ہو گئے ہیں اس لئے اپوزیشن اراکین بی آر ٹی کے خلاف منفی پروپیگنڈے کر رہے ہیں لاہور کی میٹرو بس 31 ارب روپے میں بنی تھی جب ڈالر بھی سستا تھا پشاور بی آر ٹی 29 ارب روپے میں بن رہی ہے جبکہ ڈالر مہنگا ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے صوبائی اسمبلی کے سبزہ زار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیاصوبائی وزیر نے کہا کہ بی آر ٹی پر تعمیراتی کام 23 مارچ تک مکمل ہو جائے گا اور یہ بھی لاہور میں بننے والی میٹروبس کے مقابلے میں سستی ہے جو ہر لحاظ سے لاہور میٹروبس سے بہتر ہے بی آر ٹی کی تعمیراتی لاگت 29 ارب روپے ہے جس میں 4 سے 5 ارب روپے تک بچت ہو گی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بی آر ٹی کے علاوہ اس منصوبے میں دور جدید کے تقاضوں کے مطابق 3 کمرشل پلازے چمکنی ڈبگری گارڈن اور حیات آباد کے مقام پر بن رہے ہیں جن پر ساڑھے 10 ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں 8 ارب روپے بسوں کی خریداری کے لئے ہیں جبکہ گیارہ ارب 40 کروڑ روپے بی آر ٹی کے دونوں طرف 3 رویا سڑک کی تعمیرومرمت بی آر ٹی کے دونوں طرف نکاسی آب کے لئے نالوں کی تعمیر گیس پائپ لائن بجلی و ٹیلیفون کی ترسیل وغیرہ کے لئے ہے اور ایک ارب روپے پرانی بسوں کی خریداری اور اسکے سکریپ کے لیے رکھے گئے ہیں جبکہ اس پورے پروجیکٹ میں 68 کلومیٹر فیڈر روٹس بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ٹی کا ریچ 2 منصوبہ جی ٹی روڈ سے لیکر شمع چوک تک ساڑھے 6 کلومیٹر مکمل طور پر ایلیویٹڈ ہے پوری دنیا میں ساڑھے 6 کلو میٹر طویل میٹرو ایلیویٹڈ روٹ اتنے کم وقت میں نہیں بنا ہے اپوزیشن اپنے دور حکومت میں آدھے کلومیٹر کا پل مکمل نہیں کر سکی تھی اپوزیشن غلط پروپیگنڈے سے عوام کو کنفیوز نہ کرے صوبائی حکومت عوام اور اپوزیشن سے کچھ نہیں چھپا رہی بی آر ٹی عوام کی فلاح کا منصوبہ ہے اور عوام اپنے فائدے کے پراجیکٹ کو سمجھتے ہیں ا س لئے پشاور والوں نے اپوزیشن کی بی آر ٹی کے خلاف منفی پروپیگنڈوں کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کو دوبارہ ووٹ دیا صوبائی وزیر نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جب اور جہاں چاہے، ہم ان سے بی آر ٹی کے حوالے سے بات کرنے کو تیار ہیں اگر اپوزیشن کو منصوبے میں کوئی بے ضابطگی یا کچھ اور نظر آرہا ہے تو وہ ہم سے بات کر سکتے ہیں اور اگر اپوزیشن کے پاس بے ضابطگیوں کے کوئی ثبوت موجود ہے تو وہ نیب اور عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں کیونکہ نیب اور عدالت مکمل طور پر آزاد ہیں۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
20102