Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ کے زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، متعدد بلوں کی منظوری

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ضم شدہ قبائلی اضلاع میں چوبیس ارب روپے کی لاگت سے 1188 سکیموں کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان سکیموں میں 388 اضلاع کی سطح پر ، 726 دیگر سکیمیں اور 246 مکمل ہونے کے قریب سکیمیں شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نئے اضلاع میں 1.1ارب روپے کی ابتدائی لاگت سے خود روزگار سکیم پر عملدرآمدتیز کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے یونیورسٹی اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی بہتری کے لئے وسائل کی فراہمی کا یقین دلایا۔کابینہ نے 1.5 ارب روپے کی لاگت سے سکولوں کا معیار بلند کرنے پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ نئے اضلاع میں 19 سپورٹس گراؤنڈز اپگریڈ کئے جائیں گے، اور اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں مزید 6 سپورٹس گراؤنڈز تعمیر کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع میں منصوبوں کو تیز رفتاری سے شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور نئے اضلاع میں مربوط میونسپل کمپلیکس تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔ کابینہ نے سب تحصیل مارتونگ شانگلہ کو مکمل اور باقاعدہ تحصیل کا درجہ دینے کی منظوری دی جسکا ہیڈ کوارٹر کوز کلے میں ہوگا۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آف منرلز ، لیبر ویلفیئر ایکٹ 2018اور ماسک ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ کے 54ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے کے پی ایمپلائمنٹ آف ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ ریگولرائزیشن آف سروسز ایکٹ 2018کی منظوری دی گئی، جس کو حتمی منظوری کے لئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ کابینہ نے چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے لئے 3ممبران کی نامزدگی ، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر رولز 2016، خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کنڈکٹ آف بزنس پروسیجر اینڈ ڈسپوزل آف کمپلینٹس رولز 2019اور بورڈ آف جنرل پراویڈنٹ فنڈ ز انویسٹمنٹ فنڈزاینڈ پنشن فنڈز کے لئے ڈائریکٹرز کی نامزدگی کی منظوری دی۔ چشمہ رائٹ بنک کینال کی مرمت کی مد میں 109.669ملین روپے کی سپلمنٹری گرانٹ اور کڈنی سنٹر حیات آباد کو ضرورت مند مریضوں کے علاج کے لئے 122.50ملین روپے کی منظوری دی گئی۔ سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبائی وزراء ، مشیروں ، معاونین خصوصی ، چیف سیکرٹری، انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ کی پہلے سے جاری ہدایت کے مطابق ضم شدہ نئے اضلاع میں پیش رفت کا جائزہ کابینہ کے پہلے ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔ اجلاس کو صوبے میں نئے شامل ہونے والے اضلاع میں ترقیاتی حکمت عملی پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ کل سکیمیں 1188 ہیں جن میں سے 388 سکیمیں اضلاع کی سطح پر جبکہ 726 دیگر ہیں246 سکیمیں مکمل ہونے کو ہیں ۔ وزیر اعلیٰ نے نئے اضلاع میں24 ارب روپے کی لاگت سے ترقیاتی حکمت عملی پر شفاف عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ علاقے کی ضرورت اور عوامی مفاد و فلاح کو دیکھ کر نئی سکیموں کی تیزی سے نشاندہی ہونی چاہئے۔ ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔قبائلی عوام کو تیزتر ریلیف دینا ہمار ا ہدف ہے۔وزیراعلیٰ نے جاری سکیموں کی تفصیلات اور اخراجات کا تناسب بھی طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی حکمت عملی دو بنیادی عوامل پر مشتمل ہوگی جن میں نئے اضلاع کی تعمیر نو و بحالی اور عوامی فلاح شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا حتمی مقصد قبائلی عوام کے احساس محرومی کو ختم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اجتماعی حکمت عملی اختیار کرنے اور ترقیاتی سکیموں کا جائزہ لینے کیلئے ہر شعبے میں جائزہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے اضلاع میں خود روزگار سکیم سمیت دیگر متعدد سکیموں کا اجراء پہلے سے کر چکے ہیں، قبائلی اضلاع میں نوجوانوں کیلئے 1.1 ارب روپے کی لاگت سے خود روزگار سکیم پر تیز تر عمل کیا جائے۔ خود روزگار سکیم میں مزید وسائل ڈالینگے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم اور صوبائی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ یونیورسٹی اور دیگر سکیموں کیلئے بھی وسائل مہیا کرینگے۔سکیموں پر عملدرآمد تیز ہونا چاہئے۔وزیراعلیٰ نے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں اور بی ایچ یوز میں سٹاف ، سہولیات اور ادویات کی کمی پوری کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ جون تک صحت کی تمام سہولیات کی فراہمی یقینی ہونی چاہئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے اضلاع میں 1.5 ارب روپے کی لاگت سے تمام سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن پر کام جاری ہے۔ 19 سپورٹس گراؤنڈز کو اپگریڈ کیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے مذکورہ منصوبوں پر کام تیز کرنے اور مزید 6 سپورٹس گراؤنڈز بنانے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے تمام محکموں کے منصوبوں کو جلد از جلد حتمی شکل میں گراؤنڈ پر لانے اور قبائلی اضلاع میں پراجیکٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے قبائلی اضلاع میں ایک مربوط میونسپل کمپلیکس بنانے کی تجویز سے اتفاق کیا اور قبائلی اضلاع میں صنعت کاری کیلئے زمین فراہم کرنے کی ہدایت کی۔صوبائی کابینہ نے ضلع شانگلہ کی سب تحصیل مارتونگ کو باقاعدہ تحصیل کا درجہ دینے کی منظوری دی۔نئی تحصیل کا ہیڈکوارٹر کوز کلے ہوگا اس سے قبل ہیڈکوارٹر الوچ تھا اور عوام کو یہاں تک آنے میں دشوارگزار پہاڑی راستہ طے کرنا پڑتا تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ کیلئے مزید نئی تحصیلوں کے قیام پر پابندی ہوگی تاہم انہوں نے مشیر برائے آئی ٹی کامران بنگش کو پشاور کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے بونیر میں جدید مشینری کا استعمال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ بھاری گاڑیوں کے استعمال سے سڑکیں خراب ہوتی ہیں اور جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آف منرلز، لیبر ویلفیئر ایکٹ 2018 کی منظوری دی گئی ایکٹ کا مقصد مائنز لیبر کو ہیلتھ کارڈ، ٹیلی میڈیسن ، ایمرجنسی علاج، مزدورں کے بچوں کو سکالرشپس، مالکان کو واٹر سپلائی ، ٹرانسپورٹ اور رہائشی سہولیات کی فراہمی کیلئے گرانٹ ان ایڈ ، معذور مائنز لیب رزا کیلئے مالی امداد جیسی اہم سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا ایمپلائز آف ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ ریگولرائزیشن آف سروسز ایکٹ 2018 ء کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت 8 موٹر وہیکل ، ایگزامینر اور وہیکولر ایمیشن ٹسٹنگ سٹیشن کے 54 ملازمین مستقل کئے جائینگے جسے بعد ازاں حتمی منظوری کیلئے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کیلئے 3 ممبران کی نامزدگی کی منظوری دی گئی، ممبران میں اراکین صوبائی اسمبلی پیر فدا محمد، سمیرا شمس اور ڈاکٹر عبدالغفور، امام مسجد انگوروالی قصہ خوانی پشاور شامل ہیں۔سابقہ ممبران کی 3 سالہ مدت کی تکمیل پر نئے ممبران کی تقرری کی منظوری دی گئی۔ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر رولز 2016 ء کی بھی منظوری دی گئی، ترمیم کا مقصد زمونگ کور کو فعال بنانا اور مینجمنٹ کمیٹی میں پرائیویٹ ممبران شامل کرنا ہے۔اجلاس میں خیبرپختونخوا انفارمیشن کمیشن کنڈکٹ آف بزنس پروسیجر اینڈ ڈسپوزل آف کمپلینٹس رولز 2019 ء کی منظوری دی گئی جس کا مقصد عوامی شکایات کے ازالے کیلئے قوانین کو مزید مؤثر بنانا ہے ۔صوبائی کابینہ نے بورڈز آف جنرل پراویڈنٹ فنڈز، انوسٹمنٹ فنڈز اینڈ پنشن فنڈز کیلئے ڈائریکٹرز کی نامزدگی کی منظوری دی ، جس کا مقصد جی پی فنڈز کی مد میں ادائیگیوں اور بقایا جات کے مسائل حل کرنا ہے۔اجلاس میں مینجمنٹ پوزیشن سکیلز(ایم پی۔i ، ایم پی۔ii اور ایم پی ۔iii ) کیلئے نظرثانی شدہ پالیسی کی منظوری دی گئی اس اقدام کا مقصد وفاقی اور صوبائی ایم پی سکیلز کی تنخواہوں اور مراعات میں فرق کو ختم کرنا ہے کیونکہ صوبائی حکومت کے ایم پی سکیلز کے مراعات وفاقی ایم پی سکیلز کی مراعات سے بہت کم ہے۔ نظرثانی شدہ پالیسی کے تحت ایم پی ۔i کی کم سے کم بنیادی تنخواہ 289300 سے بڑھ کر 433950 ، ایم پی ۔ii کی کم سے کم بنیادی تنخواہ `121000سے بڑھ کر 181500 روپے جبکہ ایم پی ۔iii کی کم سے کم بنیادی تنخواہ 84700سے بڑھ کر 127050 روپے ہو جائیگی۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کو چشمہ رائٹ بنک کینال کی مرمت کی مد میں 109.669 ملین روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی مذکورہ رقم واپڈا کو ادا کی جائے گی۔علاوہ ازیں پشاور ہائی کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں کڈنی سنٹر حیات آباد کو ضرورتمند مریضوں کے علاج معالجے کیلئے 122.50 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ گردوں کے امراض کے شکار غریب اور نادار مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ صوبائی کابینہ نے انسداد دہشت گردی عدالت نمبر1 سوات کیلئے فاضل جج سید عبیداللہ شاہ کی بطور ایڈمنسٹریٹیو جج تقرری کی منظوری دی۔للسائل و المحروم فاؤنڈیشن ایکٹ 2015 ء میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔ترمیم کے تحت فاؤنڈیشن کا منیجنگ ڈائریکٹر گریڈ20 کے پی اے ایس ، پی ایم ایس ، پی سی ایس افسران میں سے بذریعہ پوسٹنگ ٹرانسفر تعینات کیا جائے گا۔


شیئر کریں: