Chitral Times

Oct 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک عمدہ تحقیقی کاوش………….ثناءاللہ چترالی

شیئر کریں:

چترال فلک بوس پہاڑوں، مرغزاروں پر مشتمل ایک حسین خطہ ہے، وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع یہ خطہ ہردور میں اہمیت کا حامل رہا ہے، زردشتی دور کے ایرانی طالع آزما ہوں یا جنوب میں پشاور کے بدھسٹ راجہ کنشک، مسلم ترکستانی سردار ہوں یا قریبی پڑوسی افغانی ، یہاں تک کہ ساتویں صدی عیسوی میں چینی سلطنت نے بھی اس خطے پر اپنا حق جتایا اور حکومت کی۔ چترال نے تاریخ کے مختلف ادوار میں متنوع نظام ہائے سلطنت کے فوائد و نقصانات کو قریب سے دیکھا اور سہا۔ ہر آنے والا نیا نظام رائج قوانین میں اپنے تجربات سے کچھ نیا اضافہ کرتا رہا، چنانچہ جب 1320 میں پہلی مرتبہ متحدہ چترالی ریاست کی داغ بیل ڈالنے کا تاریخی لمحہ آیا تو ایک قدرے منظم اور قابل قبول دیر پا انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نے اضافی وقت لیا نہ ہی رائج ہونے میں دقت محسوس کی۔ 1885ءمیں ریاست چترال اور اینگلو انڈین گورنمنٹ کے باہمی تعلقات کے معاہدے کے جہاں خطے پر دورس نتائج مرتب ہوئے، وہاں ریاستی انتظام کو اپ گریڈ ہونے کا بھی موقع ملا۔

چترال کے بادشاہوں، یہاں بسنے والی اقوام کی تاریخ، ان کے مزاج و مذاق، بود و باش اور معاشرتی زندگی پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، لیکن چترال کے ریاستی نظام کو بطور خاص کسی نے تحقیق کا موضوع بنانے کی ہمت نہیں کی، جس سے علاقے کی تاریخ کے باب میں تشنگی کا احساس منطقی بات تھی۔ علاقے کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ امر باعث مسرت ہے کہ یہ علمی و تحقیقی خلا نوجوان محقق مولانا ڈاکٹر یونس خالد ”ریاست چترال کی تاریخ اور طرز حکمرانی“ لکھ کر دور کر دیا ہے۔ڈاکٹر یونس خالد با صلاحیت ریسرچ اسکالر ہیں۔ تحقیق کے جدید پیشہ ورانہ اسالیب کی باریکیوں سے بخوبی آگہی رکھتے ہیں۔ وہ عالم دین ہونے کے ساتھ اقراءاسکولنگ سسٹم کے تحت ایک معیاری تعلیمی ادارے کے بانی اور ایک اچھے ایجوکیشنل ٹرینر ہیں۔ ان کی تصنیف ”ریاست چترال کی تاریخ اور طرز حکمرانی“ تین ابواب پر مشتمل ہے، پہلے باب میں ریاست چترال کا تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ ایرانی زرتشتی دور، تیسری صدی عیسوی میں راجہ کنشک کا دور، چینی دور، کلاش دور، رئیس دور، کٹور دور کا جامع اختصار کے ساتھ خاکہ کھینچا گیا ہے۔ ان حکومتوں کے بانیان کے علاقے میں ورود، دور حکومت، زیر تسلط علاقوں کی حدود، حکمرانوں کی فہرست، مختلف ادوار کی اہم خصوصیات اور ان کے طرز حکمرانی پر بے لاگ تبصرے شامل ہیں۔ مصنف نے کٹور خاندان کے سلسلے کو قیام پاکستان کے وقت کے حکمران ہزہائنس مظفرالملک پر ادھورا نہیں چھوڑا، بلکہ اس سلسلے کو موجودہ (آئینی) مہتر چترال فاتح الملک علی ناصر تک پہنچایا ہے۔ پہلے باب میں ریاست کی مذہبی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، چنانچہ زرتشتی مذہب ، بدھ مت، کلاش مذہب، اسلام کی آمد اور اسماعیلیت کے پھیلاو¿ اور ان کے اثرات، حکمرانوں کا ان مذاہب کی طرف جھکاو¿ اور چترال میں دین اسلام کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کرنے والے جلیل القدر علماءاور صوفی بزرگوں کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔

دوسرا باب ریاست چترال کے طرز حکمرانی کے عنوان سے ہے، جو آٹھ ذیلی ابواب میں منقسم ہے۔ اس باب میں ریاست کے سماجی طبقات، ریاست کا نظام عدل، شہری انتظام، مالیاتی نظام، نظام اراضی، مہتر اور شاہی قلعہ کی روز مرہ کی سرگرمیاں، عوامی خدمات کے ادارے اور دفاعی نظام پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ سماجی طبقات کا تعارف، ریاست کی انتظامی تقسیم اور مختلف عہدوں کا تعارف اور ان کی ذمہ داریوں کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ٹیکس وصولی کا نظام، کرنسی، ٹیکس وصولی کی صورتیں، ریاست کے ذرائع آمدن پر بھی پر مغز مفید گفتگو کی گئی ہے۔ ریاستی دور میں جائیدادوں کی قانونی پوزیشن، ان کی اقسام، فراہمی انصاف کے اداروں کا تعارف اور مروجہ روایتی و رواجی قوانین، روایتی سزائیں، وراثت کے روایتی قوانین پر مختصر پر اثر ب حوالہ گفتگو بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہتر کی کچن کیبنٹ یا دربار (مہرکہ) کا تعارف، قلعے کے انتظامی شعبے اور ذمہ دار عہدوں کا تعارف، ریاستی سپاہ اور ان کے جنگی وسائل کا ذکر بھی شامل کتاب ہے۔

تیسرا باب ”اکیسویں صدی کا چترال“ کے عنوان سے ہے۔ اس میں الحاق پاکستان کے بعد چترال میں ہونے والے انتخابات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ این جی اوز کی تاریخ اور چترال میں سرگرم معروف تنظیموں کا تعارف بھی اس باب کا حصہ ہے۔آخر میں مقامی چند تحریکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انگریزوں کے خلاف تحریکِ آزادی، چترال مسلم لیگ کی تحریک جس نے ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق میں موثر کردار ادا کیا تھا۔ 1982ءمیں چلنے والی مولانا عبید اللہ شہید کی تحریک کے اسباب اور اثرات کا جائزہ بھی شامل ہے۔ یہ تحریک پہلی دفعہ چترال کی تاریخ کا حصہ بنا دی گئی ہے۔ الغرض یہ کتاب اپنے دامن میں مفید معلومات کا مجموعہ سمیٹے ہوئے ہے۔ کتاب کے مطالعے سے قاری کو بہت کچھ حاصل ہوتا ہے، جو کسی بھی اچھی کتاب کی عمومی خوبی ہے۔ کتاب کا تیسرا باب ان تمام بنیادی باتوں کا احاطہ کرتا ہے جو قیام پاکستان کے بعد کے چترال کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔آزادی کی تحاریک، علاقے میں این جی اوز کی خدمات، ان کی بیک فنڈنگ، علاقے پر ان کے اثرات، لواری ٹنل تحریک، نائن الیون کے بعد علاقے میں امن کی صورت حال، 1982ءکی تحریک وغیرہ وہ بنیادی اور بڑے بڑے واقعات ہیں جن پر کلام کرتے ہوئے مولف نے اگرچہ بہت اختصار سے کام لیا ہے اور بہت سی باتوں میں پڑنے سے گریز کیا ہے، غالباً یہ محتاط قدم انہوں نے تنازعات کے کانٹوں میں الجھنے سے بچنے کے لیے اٹھایا ہے، جو بہر حال قابل تحسین ہے۔


شیئر کریں: