Chitral Times

Jun 13, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ بھر میں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کر دی

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبہ بھر میں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کر دی جبکہ کھانے پینے کے ہوٹلوں کی صفائی کے اعتبار سے گریڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔یہ فیصلہ وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی کی سربراہی میں قائم ا علیٰ سطحی کمیٹی نے کیا ہے کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیر اطلاعات کی سربراہی میں ہوا جس میں ایم پی اے ڈاکٹر آسیہ ،سی ای او ڈبلیو ایس پی ظفر علی شاہ، ڈپٹی کمشنر پشاور ڈاکٹر امجد علی،ایڈیشنل سیکرٹری قانون سید اصغر علی شاہ، ڈائریکٹرای پی اے ثناء اللہ خان، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ،ایڈمنسٹریٹیو آفیسر لوکل کونسل منور خان اور صدر پلاسٹک مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن نسیم گل موجود تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ او کسی بائیو ڈی گریڈ ڈیبل پلاسٹک بیگز استعمال کرنے کے لئے رولز کا اجراء 2017 میں کیا گیا تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اجلاس کے بعدخیبر پختونخوا اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام کمشنرز کی وساطت سے صوبے کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ صوبے میں فوری طور پر پلاسٹک بیگز بنانے اور فروخت کرنے پر دفعہ 144 نافذ کرنے پر پابندی عائد کردے شو کت یوسفزئی نے کہا کہ اس حوالے سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ پہلے سے موجود ہے جبکہ اب تحفظ ماحولیات ایکٹ بھی آچکا ہے جس کے تحت 50 مائیکرون سے کم وزن کے شاپر کی اجازت نہیں ہوتی جبکہ کسی بائیو ڈی گریڈ یبل کے علاوہ کوئی شاپنگ بیگ قابل قبول نہیں ہوگا اگر کسی کے پاس بغیراو کسی بائیوڈی گریڈ یبل کے علاوہ کوئی شاپنگ بیگز پائے گئے تو پہلی بار 50 ہزار سے 50 لاکھ جرمانہ ہوگا اور اگر دوسری بار پھر شاپنگ سے برآمد ہونے پر دو سے تین سال قید بھی ہوگی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اوکسی بائیو ڈی گریڈ یبل شاپنگ بیگز کچھ عرصہ میں تحلیل ہو جاتے ہیں جبکہ عام شاپنگ بیگ سالہا سال نالیوں میں پڑے ہوتے ہیں جس سے گندگی پھیلتی ہے اور صفائی کا نظام بری طرح متاثر ہو تاہے انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں میں بھی ان شاپنگ بیگز پر پابندی ہوگی انہوں نے کہا کہ ہوٹلوں اور کھانے پینے کی دکانوں کی صفائی کے معیار پر گریڈنک ہوگی، زیادہ صاف ہوٹل کو گریڈA، دوسرے نمبر کے ہوٹل کوB اور تیسرے نمبر کے ہوٹل یا دکان کوC گریڈ دیا جائے گا۔ عام آدمی کو یہ پتہ لگانا آسان ہو جائے گا کہ یہ ہوٹل یا یہ خوراک کتنی صاف ہے جبکہ D گریڈ کے ہوٹل یا کھانے پینے کی دکان کو سیل کردیا جائے گا شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہوٹلوں میں اور بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا ء صاف ستھری ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی لوکل گورنمنٹ اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن ملکر اس مہم کو چلائیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت آگاہی پیدا کرنے کے لئے میڈیا پر بھی کمپین چلائے گی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے یہ ٹاسک دیا تھا اور اللہ کے فضل سے ہمارے دور میں ہی قانون بنا ہے اور اس پر عمل درآمدہر صورت ہوگا انہوں نے کہا کہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ناقص خوراک فروخت کریں یا زہر قاتل شاپنگ بیگز کے ذریعے کروڑوں عوام کی زندگی سے کھیلے ۔ حکومت ہر صورت اس پابندی پر عمل درآمد کرے گی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
19975