Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“تورکہوروڈ” کی توسیع اور ہمارے منتخب نمائیدے!………….. (ابوعاطف بیگال)

Posted on
شیئر کریں:

زیرک , ہوشیار, تعلیم اور دیگر پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال لوگوں کی سر زمین “تورکہو” اپر چترال کی سب تحصیل ہے. جوطویل تنگ و تاریک وادیوں اور ڈھلوانوں پر مشتمل حسین علاقہ ہے.
لیکن ترقی کے اس دور میں بھی یہاں لوگ روڈ جیسی آسان اور بنیادی ضرورت سے محروم ہیں.
90 کی دھائی سے قبل سابق ایم پی اے سعید احمد خان کی کاوشوں سے بننے والی سڑک آبادی کی بڑھوتگی اور آمدورفت میں اضافے کے باوجود ہنوز تشنئہ توسیع ہے.
شنید ہے. کہ اس سڑک میں توسیع کی غرض سے 2002-07 میں ایم ایم اے کی صوبائی حکومت میں سروے ہوا تھا اور مولانا جھانگیر مرحوم کی کوششوں سے توسیعی کام کا کسی حد تک آغاز ہو چکا تھا مگر محکمہ سی این ڈبلیو اور ٹھکیدار کی ملی بھگت نے اسے آگے بڑھنے نہ دیا. اس وقت کے ایم این اے مولانا چترالی کی کوششوں سے معاملے کی انکوائری کرائی گئی اور 8 لاکھ روپئے ٹھکیدار سے ریکور کرا کر خزانے میں جمع کروا دی گئی اور فائل بند کر کے معاملہ سرد خانے کی نظر کردی گئی.
2007-012 میں پی پی پی کی مخلوط حکومت آئی تو اس وقت کے ایم این اے شھزادہ محئ الدین صاحب نے اس روڈ کے نام پر مرکز سے ایک خطیر رقم منظور کرائی. مگر جب عملی کام’ اس مقولہ کے مصداق “کھایا پیا کچھ نہی گلاس توڑا بارہ آنے” اسی پرانی روش کی نظر ہوگئی.
اس طرح چھ مختلف فیز میں ٹھیکداروں کو ملنے والے ٹھیکوں کی رقم کا کچھ حصہ سڑک سے متاثرہ زمین مالکان کے جیبوں میں چلی گئی باقی رقم ٹھیکدراوں نے چند جگہوں میں نمائشی کھدائی اور سائیڈ وال کی دیواریں چڑھا کر ہضم کرلیں. سنا ہے کہ ایک ٹھیکدار نے اپنے فیز میں ایک پتھر بھی سرکائے بیغیر سی این ڈبلیو کے ہاتھیوں کے سونڈ میں زیرہ ڈال کر باقی کی ساری رقم ہڑپ کر لی.
2013-018 میں مرکز میں ن لیک اور صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی.
دونوں حکومتوں کی آپس کی سیاسی منتر بازی نے علاقہ “تورکہور ” کے عوام کو حسب سابق لمبی تان کے مزید انتظار پر مجبور کیا. اس وقت کے ایم این اے شھزادہ افتخار الدین صاحب اور ن لیک کے صوبائی صدر امیر مقام نے مرکز کی طرف سے اس روڈ کو سی پیک میں شامل کئے جانے کے بلند بانگ وعدے اور دعوے کئے. دوسری طرف اس وقت کی صوبائی حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی کے ضلعی قائدین آئیے روز سی این ڈبلیو کے کھارے پانی میں میٹھا رس گول کر اہا لیان تورکہو کو سہلاتے رہے.لیکن عرصہ پانچ سال بیت گئے نہ مرکز سے اہالیان تورکہو کی اشک شوئی ہوئی اور نہ ہی صوبے نے زخموں پہ مرہم رکھی.

اب!جی ہاں اب تو 2018-023 کا دورانیہ جارہا ہے. چترال سے ایم ایم اے کے منتخب نمائدے بھاری اکثریت لے کر اسمبلیوں میں پہنچ چکے ہیں. ان کے وعدے اور دعوے بھی اہالیان تورکہو کو یاد ہیں. بلکہ موجودہ ایم این اے مولانا چترالی صاحب نے اپنے انتخابی جلسوں میں جابجا اہالیان تورکہو سے وعدہ کر چکے ہیں کہ سابقہ ایم ایم اے حکومت کے دور میں ہم نے اس روڈ کا سروے کرآیا تھا اب ہم ہی اس کے توسیعی کام کو پائہ تکمیل تک پہنچائینگے. اللہ کرے کہ وہ اس وعدے کو وفا کر سکیں.دوسری طرف پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت کا بھی کڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے اقلیتی ممبر کے زرئعے اپنی مرکزی اور صوبائی حکومت کے کرتا دھرتاؤوں کی توجہ کس طرح اس جانب مبذول کراتی ہے.
ہم اپنے منتخب نمائدوں . پی ٹی آئی . جماعت اسلامی اور جے یو آئی کی ضلعی قیادت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ سابقہ ادوار کی طرح تورکہو روڈ پر سیاسی منتربازی کی روش نہیں اپنائینگے بلکہ سیاسی تعصب سے بالا تر تورکہو روڈ کی توسیع میں اپنا عملی کردار کرینگے. نہیں تو ایم ایم اے کے منتخب نمائدے تو بجا طور سزاوار ہونگے مگر پی ٹی آئ کی قیادت کے پاس بھی اپنی صفائی میں کہنے کو کچھ نہیں بچے گا.
لیکن ان سب سے قبل اس روڈ کے نام پر اب تک خرچ شدہ رقم اور اس کی روشنی میں توسیع شدہ کام میں کرپشن کی تحقیقات اور ذمہ داران کا تعین اور انہیں کفیر کردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے.


شیئر کریں: