Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شہزادی ڈاکٹر بنے گی ………. گل بخشالوی

Posted on
شیئر کریں:

میٹرک کا سالانہ رزلٹ آیا تو عمر اکبر انگریزی کے پرچے میں فیل ہوگیا اور اُس کی بہن شہزادی بورڈ میں تیسری پوزیشن لے کر پاس ہوگئی تھی ۔عمر اکبر کے والدین شہزادی کی اعلیٰ پوزیشن پر خوش تھے لیکن عمر اکبر کے فیل ہونے پر حیران تھے اس لےے کہ عمراکبر انگریزی میں اپنی بہن کی نسبت بہت قابل تھا ۔رزلٹ آنے پر شہزادی اپنے اعلیٰ پوزیشن پر اپنی خوشی بھول گئی عمراکبر دکان سے گھر آیا تو شہزادی اُس سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگی
عمر اکبر نے بہن کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا روتی کیوں ہے پگلی ۔میں توتیرے لےے پریشان تھا کہ توانگریزی میں بہت کمزور ہے اگر تمہارے نمبر کم آئے تو میڈیکل میں داخلہ کیسے لے سکو گی ۔اسی پریشانی کے عالم میں اپنا پرچہ حل نہ کر سکا لیکن مجھے خوشی ہے کہ توڈاکٹربنے گی
والدین بھائی بہن کے درمیان محبت بھرے جملے سنتے رہے دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے عمر اکبر کیلئے والدین پریشان تھے لیکن کاموش رہے ۔
ہائی سکول کے ہیڈماسٹر جو عمر اکبر کو انگریزی کی کلاس پڑھایا کرتے تھے انگریزی کے پرچے میں عمراکبر کے فیل ہونے پر بہت رنجیدہ تھے اسے یقین نہیں آتہاتھا وہ سوچ رہے تھے میری کلاس کا ہونہار طالب علم انگریزی میں سب سے لائق عمر اکبر فیل کیسے ہوگیا ۔
اُس نے عمر اکبر کو بلوایا تو وہ جان گیا کہ ہیڈماسٹر نے کیوں بلایا ہے ۔دوسرے دن وہ ہیڈماسٹر صاحب کے حضور حاضر ہوگیا ۔ ہیڈماسٹرحضرت عمر نے عمر اکبر سے پوچھا کیا ہوگیا تھا تمہیں میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرے سکول کا قابل ترین طالب علم فیل ہوگیا اور میرے ہی مضمون میں فیل ہوگیا ۔حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہے تھے ۔عمر اکبر نے اپنے دامن میں آنسو جذب کرتے ہوئے کہا جی ماسٹر جی آپ درست کہہ رہے ہیں لیکن فیل ہونا میری مجبوری تھی ۔ اور جب عمر اکبر نے فیل ہونے کی وجہ بتائی تو ہڈماسٹر صاحب کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا ۔اُس نے عمر اکبر کو گلے لگاتے ہوئے کہا عمر اکبر میں آپ پر فخر کرتا ہوں آپ نے جو کیا یہ ہی دین مصطفےٰ کا تقاضاہے ۔
ہیڈماسٹر حضرت علی نے سکول میں پاس ہونے والے طلبا کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گاﺅں بھر میں تقریب کی تیاری کرادی گئی گاﺅں کے واحد ہائی سکول کے طلبا اُن کے والدین اور گاﺅں کے بڑے بزرگ تقریب میں شریک تھے ۔ہیڈماسٹر نے سکول کے شاندار رزلٹ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میٹرک کے طلبا نے امتیازی نمبروں سے امتحان پاس کرکے نہ صرف والدین بلکہ سکول کا نام روشن کیا سکول ہذا کے اساتذہ کی محنت کا ثمر آپ گاﺅں والوں نے دیکھا مجھے اپنے اساتذہ اور ادارہ ہذا کے طالب علموں پر فخر ہے البتہ میری طرح آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میٹرک کے 70طلبا فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئے لیکن سکول کا واحد طالب علم عمر اکبر انگریزی کے پرچے میں فیل ہوا حالانکہ وہ پاس ہونے والے تمام طلبا میں سب سے زیاد ہ ذہین اور قابل تھا میں نے عمر اکبر کو بلایا تھا جب اُس نے اپنے فیل ہونے کی وجہ بتائی تو میرا سر فخر سے بلند ہوگیا مجھے خوشی ہے کہ دور ِحاضر میں آج بھی ایسی اولاد ہے جو والدین کی رضا پر ہر قربانی دے سکتی ہے میں عمر اکبر کو سٹیج پر بلاتا ہوں وہ خود ہی بتائے گا او مجھے اُمید ہے کہ عمر اکبر نے جو کیااُس پر آپ بھی فخر کریں گے ۔
تالیوں کی گونج میں عمر اکبر سٹیج پر آیا ہیڈماسٹر ،اساتذہ اور گاﺅں کے لوگوں کو سلام کرتے ہوئے کہنے لگا:میں اپنی بہن سے بہت محبت کرتا ہوں اس لےے کہ وہ مجھ سے بھی زیادہ مجھ سے محبت کرتی ہے تعلیمی میدان میں ہم دونوں کا عموماً مقابلہ ہوتا تھا وہ انگریزی میں مجھ سے کمزور تھی اور اُس کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے لیکن میرے والد کو آپ گاﺅں والے مالی لحاظ سے بخوبی جانتے ہیں چھوٹی سی گاﺅں کی کریانے کی دکان میں وہ کتنی کمائی کر سکتے ہیں اس لےے سکول سے واپسی پر میں گاﺅں میں سبزی کی ریڑھی لگاتا ہوں آپ سب جانتے ہیں
میٹرک کے امتحان سے قبل میرے والد بہت پریشان تھے ایک دن وہ میری والدہ سے کہہ رہے تھے کہ دونوں بچے ماشاءاللہ بہت قابل ہیں دونوں کی خواہش ہے کہ میٹرک کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بنیں اور گاﺅں میں دکھی انسانیت کی خدمت کر یں لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ آخر ان کے تعلیمی اخراجات کہاں سے پورے کروں گا ، میں نے والدین کی یہ باتیں سن کر فیصلہ کر لیا کہ شہزادی ڈاکٹر بنے گی !!
ایک دن شہزادی حسب ِمعمول چھیڑتے ہوئے مجھے کہنے لگی میٹرک کے امتحان میں مقابلہ ہوگا ۔دیکھتی ہوں انگریزی میں مجھ سے کیسے زیادہ نمبر لوگے تو میں نے کہا لگی شرط!
والدہ قریب کھڑی تھی کہنے لگی کیسی شرط !میں نے کہا :ماں شہزادی نے مجھے چیلنج کیا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ نمبر لے گی اس لےے میں کہتا ہوں جو ہم دونوں میں زیادہ نمبر لے گا وہ جیت جائے گا اگر میں نے نمبر زیادہ لےے تو میں کالج میں داخلہ لوں گا اوراگر شہزادی نے نمبر زیادہ لےے تو وہ کالج میں داخلہ لے گی ۔شہزادی نے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا ٹھیک ہے تو لگی شرط !!
میں جانتا تھا کہ شہزادی انگریزی میں کمزور ہے اور میرٹ کیلئے اُسے مزید محنت کی ضرورت ہے ۔امتحان سے ایک ہفتہ قبل میں نے والدہ سے کہا امی جان امتحان سرپر ہے اور شہزادی سے میرا مقابلہ ہے اگر شہزادی نے گھر کے کام کاج سے ہاتھ اُٹھالیا ہے پڑھنے کیلئے تو میں بھی کل سے ریڑھی نہیں لگاﺅں گا میں بھی امتحان کی تیاری کروں گا ۔
میری اُونچی آواز ابا جی نے سن لی ۔وہ مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے اور کہا ہاں وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ٹھیک ہے ریڑھی مت لگاﺅ امتحان کی تیاری کرو ۔والد صاحب کے چہرے پر کھیلتی مسکراہٹ میں جان گیا تھا ۔شہزادی نے حسب ِعادت ہاتھ لہراتے ہوئے کہا بڑے آئے مقابلے والے میں دیکھتی ہوں کیسے مجھ سے زیادہ نمبر لیتے ہو اورواقعی شہزادی نے تو جیسے خود پر اپنی نیند حرام کردی اور میں تو چاہتا بھی یہی تھا ۔
امتحان میں انگریزی کا پرچہ میرے سامنے آیا تو میں خوشی سے جیسے اُچھل گیا بہت ہی آسان تھا اور مجھے یقین ہوگیا کہ شہزادی ضرور اچھے نمبروں میں پاس ہوگی میں پرچہ سامنے رکھے شہزادی کے خوبصورت ترین مستقبل کو سوچ رہا تھا ۔پرچے کا وقت ختم ہونے کو تھا تو میں نے جلدی جلدی پیپر پر بہت کچھ لکھنے کیساتھ لکھا ۔شہزادی ڈاکٹر بنے گی اور پر چہ ممتحن کو دے کر خاموشی سے گھر چلا آیا ۔شہزادی پرچہ دے کر گھر آئی تو خوشی سے اُچھل رہی تھی مجھے بار بار انگوٹھا دیکھا دیکھا کر چھیڑرہی تھی وہ بہت خوش تھی اس لئے کہ پرچہ آسان تھا اور میں اُس کی خوشی پر خوش تھا اور جب رزلٹ آیا تو میری خوشی کی انتہاءنہ رہی وہ بورڈ میں تیسری پوزیشن میں پاس ہوگئی ۔
اب شہزادی ریگولر پڑھنے کیلئے کالج میں داخلہ لے گی اور میںابا جی کیساتھ محنت مزدوری میں پرائیویٹ طور پر اپنی تعلیم جاری رکھوں گا ہم باپ بیٹا شہزادی کے تعلیمی اخراجات آسانی سے اُٹھاسکیں گے ۔
پورا پنڈال تالیوں سے گونج اُٹھا بچوں کے والدین کی آنکھوں میں عمر اکبر کے حسن کردار پر خوشی کے آنسو تھے ۔اساتذہ اور ہیڈماسٹر کا چہرہ کھل اُٹھا تھا ۔عمر اکبر کے والدسٹیج پر آئے بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے کہا بیٹا تم اپنی بہن سے محبت میں جیت گئے ۔ اورمیں اپنے بچوں سے محبت میں ہار گیا فخر ہے مجھے تم پر !!!


شیئر کریں: