Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صنف نازک کا عالمی دن……….تحریر: خالد محمود ساحر

    March 8, 2019 at 10:12 pm

    دنیا سچ کا عالمی دن، جھوٹ کا عالمی دن، رشتوں کا عالمی دن، واقعات کا عالمی دن، مردوں، بچوں وغیرہ کا عالمی دن سال میں ایک ایک دن مناتی ہے۔ آج پوری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہاہے۔ اج دنیا بھر میں خواتین کے حقوق پر آواز اٹھایا جائے گا آج خواتین کو ہر اخبار کا صفحہ اول میسر ہوگا۔ خواتین کے حق میں ریلیان نکالی جائیں گی، ان کی حق تلفی کا رونا رویا جائے گا ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جائے گی۔
    ہر ملک کے اسمبلیوں میں ان کے حقوق کی قرادادیں پیش کی جائیں گی۔ سال میں صرف ایک دن خواتین کے حق میں‌باتیں کرنا ان کے حقوق کے بارے میں باتیں کرنا یہ سب مغربی طور ہوسکتا ہے لیکن اسلام کا نہیں۔ کیونکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ سب کے حقوق متعین ہیں اور ان کی ادائیگی کسی مخصوص دن کا محتاج نہیں۔

    شاید مغربی خیال یہ ہے کہ سال میں عورتوں کا ایک عالمی دن منا کر ان کے حقوق میں قرادادیں پیش کروانے سے عورتیں اپنے حقوق کی باتیں نہیں کریں گی۔ اپنے حقوق کے حصول کی تحریکیں نہیں چلائیں گی۔ اسی طرح انکے منہ پر تالا لگا دیا جاتا ہے۔

    آج کا یہ سورج غروب ہوجائے گا اور کل کاسورج پھر وہی پرانا سورج ہوگا۔ عورتوں کے ساتھ جو معاملات کل روا تھے آنے والے کل بھی وہی ہونگے۔ اسمبلیوں کی قرادادیں مہروں کے انتظار میں کسی الماری کے کونے میں پڑے ہونگے یا کسی کوڑے دان کی نذر کئے گئے ہونگے۔ عورتوں کے ساتھ پھر وہی سلوک، وہی رویہ وہی حقارت روا ہوگی۔اکژ لوگ کہتے ہیں کہ مغرب میں عورتوں کو آزادی حاصل ہے وہاں سینکڑوں عورتوں کاروبار کرتی ہیں۔ ملک کے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبر ہیں ان کے تمام حقوق انکو میسر ہیں۔ افسوس صدافسوس ایک اہل ایمان کا یہ کہنا کہ ایک غیر مذہب میں عورتوں کو آزادی حاصل ہے انکا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ لیکن اسلام میں نہیں۔اسلام میں عورتوں کے حقوق سے متعلق غلط فہمیوں کو غیر ہوا دے رہی ہے جس سے کمزور دل والے غلطیاں سرزد کر بیٹھتے ہیں۔

    مغرب میں عورتوں کی لباس اور انکے کھلے عام گھومنے پھرنے کو تنگ نظر لوگ عورتوں کے حقوق کا نام دیتے ہیں اصلیت اس کے بر عکس ہے وہاں عورت کو ماں، بہن،بیٹی، بیوی ہونے کا حق بالکل حاصل نہیں۔ وہاں رشتوں کی اہمیت نہیں اور خاندان کی مٹھاس کا علم نہیں۔انسان کی فطرت ہے کہ وہ نفس کے ہاتھوں کھنچا چلا جاتا ہے شاید کچھ لوگ ضمن میں مغرب کی عورتوں کو آزاد کہتے ہیں۔اسے آزادی نہیں بے حیائی کہتے ہیں اور بے حیائی جس قوم میں ہو اللہ اسے پینے نہیں دیتا۔ رہی بات اسلام میں عورتوں کے حقوق کی تو اسلام نے ایک مکمل آیئن و دستور پیش کیا ہے۔ اسلام سے پہلے ہر سماج میں عورتوں کو حقیر گردانا جاتا تھا انکی تحقیر کی جاتی تھی ان پر ڈھائے مظالم کا بیان بہت مشکل ہے۔ ہندوستانی سماج میں شوہر کے فوت ہونے پراسکی بیوی کو بھی جلنا پڑتا تھا۔ چین میں عورتوں کے پیروں میں لوہے کے تنگ جوتے پہنائے جاتے تھے۔ عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا۔
    تاریخ شاہد ہے کہ انکے مظام کے خلاف صدیوں پہلے سر زمیں عرب میں نبی کریم حضرت محمدﷺ صنف نازک کے محسن کی حیثیت سے نظر اتے تھے اور صنف نازک پر ڈھائے جانے والے مظالم کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔
    آپﷺ نے عورتوں کو مرد کے مساویانہ درجہ دیا اور وراثت میں انکا حق مقرر کیا آج عورتوں کے حقوق کا بلند بانگ دعوی کرنے والے ممالک میں عورتوں کو نہ جائداد کا حق حاصل ہے نہ ووٹ کا۔
    مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے محمدﷺ نے عورتوں کے یہ سارے حقوق انکو عطا کئے۔ کتنے محسن ہے آپﷺ۔
    نبیﷺ نے عورت کو ماں، بہن،بیٹی، بیوی کی پہچان دے کر انکے حقوق متعین کئے جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ کر ماں کو عظیم الشان عظمت بخشی۔ عورت سے متعلق ارشادات ہیں بیوی کو مارنا اچھی اخلاق نہیں۔ بیوی کے ساتھ غلام جیسا برتاؤ نا کرو انکو نہ مارو، جو کھاتے ہو اسے کھلاوٗ۔
    اسے اچھا پہناو، طعنہ نہ دو، اسکے چہرے پر نہ مارو۔ اسکا دل نہ دکھاو۔ اسکو چھوڑ کر نہ چلے جاو۔
    بیوی اپنے شوہرکی جگہ جملہ اختیارات کی حاصل ملکہ ہے۔
    اسلام نے عورتوں کو نہ قفس میں بند کر رکھا ہے اور نہ کھلی فضا میں بھٹک جانے تک اڑان کی اجازت دی ہے۔ اتنے حقوق عطا کرنے کے بعد بعض حدود کا پابند بھی کیا ہے، جب شوہر دیکھے تو خوش ہو جائے حکم دے تو اطاعت کرے شوہر جب دور ہو تو اسکی ملکیت اور اپنے عزت کی حفاظت کرے۔
    دنیا کی ساری دولت سے زیادہ قیمتی شے عفت مآب بیوی ہے۔ اسی طرح آپﷺ نے عورت کے حقوق کی نشاندہی کی اور اس کے فرائض سے بھی اگاہ فرمایا۔
    یہ اعتراض بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اسلام نے عورتوں کے اتنے حقوق متعیں کئے تو پھر مرد کے لئے تعداد ازدواج کی اجازت کیوں دی۔ کیا یہ عورت کے ساتھ صریح ظلم نہیں؟
    اس سلسلے میں ہمیں تاریخ ، انسانی فطرت اور زندگی کے عملی مسائل کو توپیش نظر رکھنا ہوگا۔ تعداد ازدواج کے ساتھ انصاف کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ اگر یہ سب ممکن نہیں تو صرف ایک ہی شادی کی اجازت ہے۔ بے شک یہ عمل بے حیائی اور بربادی سے اور نفس مردود کو دور رکھنے والا ہے ۔ بدکاری کو حرام قرار دے کرتعداد ازدواج کی قانونی اجازت دینے والا حکیمانہ دین دین اسلام ہے۔ دوسرا اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ اسلام میں عورتوں کو تعلیم کے حصول سے روکا جاتا ہے۔ بے شک یہ ارشادنبوی اس بات کی منافی کر تا ہے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اور اس فرمان میں ردوبدل کی گنجائش نہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق و فرائض کا صرف ایک دن مقرر نہیں کیا بلکہ انکے فرائض و حقوق ایک دستور کی صورت نازل فرمائی۔ یہ دستور سورۃ النساء ہے۔ جس پر عمل ہر عورت پر لازم وملزوم ہے۔

  • error: Content is protected !!