Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ضلعی سطح پر پبلک مقامات پردرخت لگانے کا فیصلہ ایک مستحسن قدم ہے……زاہد علی نزاری

Posted on
شیئر کریں:

حال ہی میں چترال کی ضلعی حکومت نےسی این ڈبلیو ڈپارٹمنٹ، فارسٹ ڈپارٹمنٹ اور تحصیل میونسپل پبلک مقامات پر چنار کے درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک نہایت خوش آئند قدم ہے۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی ک کم کرنے اور ماحول کو خوشگوار اور خوب صورت بنانے میں مدد ملے گی۔ اور علاقے کی خوبصورتی میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔

حکومت کی طرف سے اس سے پہلے بھی ملک کے مختلف مقامات پر لاکھوں کی تعداد میں درخت لگائے جاچکے ہیں۔ چترال میں بھی اس سلسلے میں قابل تعریف کام ہوا ہے۔ مثال کے طور پر کاغ لشٹ، کھوتن لشٹ، قدرت آباد (پرواک)، ڑاسپوراورچند دیگر علاقوں میں شجرکاری مہم کافی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مزید انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔

جن علاقوں میں درخت لگانے پر کام ابھی تک نہیں ہوا ہے ان میں بھی ترجیحی بنیادوں پر کام کی اشد ضرورت ہے۔
آج کل ماحولیاتی آلودگی اور گلوبل وارمنگ ایک عالمی مسٗلہ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آگاہی سیمینار منعقد کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں سکول، کالج اور یونیورسٹی سطح پر تحقیق اور معلوماتی سیشن بھی ہوتے ہیں جن میں تقاریر، ٹیبلو وغیرہ کے ساتھ بعض اوقات عملی طور پر شجرکاری کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے جو نہایت ہی خوش آئند قدمٓ ہے۔ چند دن پہلے مجھے ایک انتہائی اہم اورسبق آموز مضمون پڑھا۔عنوان تھاThis Amazing Village in India Plants 111 Trees Every Time a Little Girlis Born
اس مضمون کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ہندوستان کے علاقےپپلانٹی (راجھستان) میں بچی کی پیدائش کی خوشی میں گاوں کے لوگ فردا فردا ایک سو گیارہ پودے لگاتے ہیں۔ اس کے دو مقاصد تھے: معاشرے میں عورتوں کے استحصال کے خلاف آگاہی دلانا اور بحیثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی عورت کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے پر زور دینا اس کا ایک مقصد تھا۔ جبکہ دوسرا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جہاد کرنا اور اس کی صفائی کو یقینی بنانے میں اپنا حصہ ڈالنا تھا۔

ہمیں بھی اس قسم کے فلاحی کاموں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مختلف تہواروں اور خوشی کے مواقع پر درخت لگانے کو اپنے آپ پر لازم کرلیں تو اس کے اچھے اثرات اور شاندار نتائج سامنے ائیں گے۔ اگرچہ چترال میں کسان ماحول کے تحفظ میں اپنا حصہ ڈالتے آئے ہیں، تاہم مزید بہتر اور بڑے پیمانے پر کام حکومتی سرپرستی میں ہی ممکن ہے۔

آج چترال ٹائمز میں چھپی ایک رپورٹ پڑھکر مجھے مسرت ہوئی۔ آغاخان ہائیر سیکنڈری اسکول سین لشٹ چترال میں جنگلات کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں مقابلۃ مضمون نویسی اور دیگر طریقوں سے جنگلات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ یہ بھی تعلیمی اداروں کی سطح پر جنگلی حیات کی افادیت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ طلبہ کی ہولسٹک ڈویلپمنٹ کے سلسلے میں اقدامات کا حصہ بھی ہے۔ تاکہ رسمی پڑھائی کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی ممکنہ حد تک باخبر رہیں اور ان میں وہ جذبہ اور ہنر پیدا ہوجائیں جو ان کو معاشرے کا مفید رکن بننے میں مدد گار ثابت ہوں۔

حکومت کے شانہ بشانہ مختلف فلاحی ادرے بھی کام کرتے ہیں جن کی خدمات کو عوام نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کی خدمات سے حتی الوسع فائدہ اٹھائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر ورثہ چھوڑیں۔
عوامی جگہوں پر چنار کے درخت لگانے کا فیصلہ بیشک قابل تعریف ہے جس کو عوام دل سے سراہتے ہیں۔

زاہد علی نزاری شوتخار تورکھو


شیئر کریں: