Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بزرگ گھر وں کی رحمت اور رونق …………شازیہ عندلیب

    March 4, 2019 at 7:22 pm

    نائمہ قریباً ایک برس سے کسی قسم کی الرجی کے باعث سخت مسائل کا شکار تھا۔جب بھی موسم بہار شروع ہوتا اسکے لیے گھر کے کام کاج کرنا اور سودا سلف لانے کے لیے گھر سے باہر نکلنا دو بھر ہو گیا تھا۔کبھی اچانک نزلہ زوکام کے ساتھ چھینکیں شروع ہو جاتیں تو کبھی جسم اور پیٹ میں درد شروع ہو جاتا۔کسی کام میں دل نہ لگتا تھا۔سارے گھر کا نظام ہی درہم برہم ہو گیا تھا۔زندگی کسی ڈھب پر آ ہی نہیں رہی تھی۔اسی دوران گھر بھی شفٹ کرنا پڑا۔گو کہ یہ نیا گھر شہر کے سینٹر سے قدرے دور مگر بہت کھلا اور آرام دہ تھا۔ سب بچوں کے علیحدہ بیڈ روم تھے ۔جبکہ نائمہ کی ساس کیلیے بھی علیحدہ بیڈ روم تھا۔ سب خوش تھے نائمہ بھی نئے گھر میں خوش تو تھی مگر اب تو کام اور ذیادہ بڑھ گیا تھا۔گھر اور بچوں کے کام تو وہ بیماری کی وجہ سے پہلے ہی مکمل نہیں کر پا رہی تھی مگر اب اسے اپنی ساس کو بھی سنبھالا پڑ گیا تھا۔گو کہ وہ ایک خوش اخلاق عمر رسیدہ خاتون تھیں مگر اب وہ پہلے کی طرح چست نہیں تھیں انکے کھانے پینے اور دواؤں کا خیال بھی نائمہ کو ہی رکھنا پڑتا تھا۔اسکی کچھ دوستوں نے اسے ساس کو اولڈ ہوم میں چھوڑنے یا وہاں کی مدد لینے کا مشورہ بھی دیا۔لیکن اس نے اسکی حامی ہ بھری کیونکہ ایک تو اسکا شوہر کبھی بھی اس بات کے لیے راضی نہ ہوتا دوسرے خود اس نے ااپنی نانی امں کی بہت خدمت اور دیکھ بھال کی تھی جس کی وجہ سے اسے یہ اعتماد تھا کہ وہ ان کی دیکھ بھال ٹھیک سے کر لے گی۔ویسے بھی اسے اپنی ساس کے ساتھ ایک خاص انس اور محبت سی تھی۔یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر کہتیں کہ تم تو میری بیٹیوں سے بھی بڑھ کر میرا خیال رکھتی ہو۔

    گو کہ انکی یاد داشت میں کچھ کمی آ گئی تھی لیکن انہیں اپنے پرانے واقعات جنگ عظیم دوم اور تقسیم ہند کے سارے پرانے واقعات خوب یاد تھے۔انہیں جنگ عظیم میں روسی اور جرمن فوجوں کی لڑائی اور ہندو سکھوں کی ہجرتوں اور فسادات کے واقعات خوب ازبر تھے۔جب بھی نائمہ کی سہیلیاں آتیں وہ بڑے شوق سے اسن سے ان تاریخی واقعات کے بارے میں پوچھا کرتیں ۔وہ بتاتی ں کہ کس طرح انکے محلے سے سکھ ہجرت کر گئے ہندو اپنے خزانے مکانوں کی دیواروں میں چن گئے اور مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے کیسے پاکستان پہنچے ۔ہٹلر ،لینن گراڈ اور مسولینی اور قائد اعظم جیسی تاریخی شخصیات کے واقاعات کا انہیں بخوبی علم تھا۔ نائمہ کی سہیلیاں اور انکے بچے بھی انکے منہ سے وہ تاریخی واقعات سن کر بہت خوش ہوتے جو انہوں نے اپنی تاریخ کی کتابوں میں پڑھ رکھے تھے۔ناہمہ کی دوست شہزانہ اسکی اس سے فیصل آباد کا پرانا ام لائلپور سن کر بہت خوش ہوئی۔کیونکہ اس طرح کے سوالات آج بھی بچوں سے کوئز میں پوچھے جاتے ہیں۔جب شام ہوتی سب چے اسکول سے آنے کے بعد ماں جی کے پاس بیٹھ جاتے اور ان کے بچپن کے مزے مزے کے قصے کہانیاں سن کر لطف اندوز ہوتے۔کبھی وہ اپنے بچپن کے کھیلوں کی باتیں بتاتیں کبھی ہنسی مزاق کے دلچسپ واقعاتاور کبھی اپنی نانی دادی کے اور جنوں کی دلچسپ کہانیاں سنایا کرتیں۔غرض یہ کہ ماں جی کا وجود نائمہ اور اسکے بچوں سہیلیوں اور پڑوسنوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھا۔لوگ نائمہ کو خشقسمت سمجھنے لگے جس کے گھر میں ایک خوش مزاج بزرگ خاتون مجود تھیں۔

    انکی بیٹی بھی انہیں اپنے گھر لے جایا کرتی تھی اس طرح وہ بھی انکی کمپنی سے لطف اندوز ہوتی۔انکی گرتی ہوئی یاد داشت نائمہ اور انکی بیٹی کے لیے ایک چیلنج تھا۔ دونوں نے سوچا کہ اگر ماں جی کی یاد داشت مزید کمزور ہو گئی تو انکی کمپنی کا لطفتو جاتا ہی رہے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں سنبھالنا بھی مشکل ہو جائے گا سلیے اسکا کوئی حل نکالا جائے ۔اس کے لیے ماں جی کی بیٹی نازو نے کچھ نفسیاتی ٹپس استعمال کیے جبکہ نائمہ نے انہی کے بتائے ہوئے دماغی طاقت کے نسخے آزمائے جو کہ خوب کا م کر گئے۔وہ جب بار بار ایک ہی بات دہراتیں نائمہ اور بچے ان سے نئے نئے سوال پوچھتے اور اپنی باتیں بھی بتاتے جن سے انکا جی بہلا رہتا۔چند ماہ کے بعد نائمہ کی الرجی بھی ٹھیک ہو گئی جس کیبارے میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ اب ٹھیک نہیں ہو گی۔اسکی سب دوستوں کا یہی خیال تھا کہ یہ سب ماں جی کے بابرکت قدم سے ہی ممکن ہوا ہے بے شک ہمارے بزرگہمارے گھروں کے لیے رحمت اور گھر کی رونق ہیں۔جنہیں نظر انداز کرنا یا ان سے منہ موڑنا بد نصیبی ہے۔ہمیں انکی قدر کرنی چاہیے۔

  • error: Content is protected !!