Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سی ڈی ایل ڈی پروگرام واحد ترقیاتی پراجیکٹ ہے جس میں‌سیاسی مداخلت کارفرما نہیں..کمشنرملاکنڈ

Posted on
شیئر کریں:

سوات (چترال ٹائمز رپورٹ )‌کمشنر ملاکنڈ سید ظہیر الاسلام شاہ نے متعلقہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپین یونین کے تعاون سے کمیونٹی ڈریؤین لوکل ڈویلپمنٹ (سی ڈی ایل ڈی) پروگرام کے تحت جاری منصوبوں میں شفافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ترقیاتی عمل کو آن گراؤنڈ لایا جائے تاکہ اس سلسلے میں عوام اور یورپی یونین دونوں کا اعتماد بحال ہو اور دنیا میں پاکستان کی مثبت تصویر نظر آئے اپنے دفتر سیدو شریف میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کے تعاون سے یہ پروگرام واحد ترقیاتی پراجیکٹ ہے جس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت کارفرما نہیں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی امداد کو عوام کی فلاح وبہبود کیلئے بروئے کار لانا ضروری ہے جبکہ ان پراجیکٹس میں مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کرنا وقت کا تقاضا ہے تاکہ لوگوں کا اعتماد بھی مکمل طور پر بحال ہو اور انہیں حکومت کے ترقیاتی عمل میں ملکیت کا مکمل احساس ملے انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ ان منصوبوں کی پایہ تکمیل کو پہنچانے تک انکی دیکھ بھال یقینی بنائے اور منصوبوں کو محض انجینئرز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے کہا کہ سی ڈی ایل ڈی پروگرام یورپین یونین کے مالی تعاون سے کام کر رہا ہے یہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع جن میں بٹگرام، بونیر، شانگلہ، صوابی، سوات، چترال، دیرلوئیر، دیر اپر، ہری پور، ملاکنڈ، نوشہرہ اور تورغر شامل ہیں اور زیادہ افادیت کے پیش نظر اس میں توسیع بھی کی گئی ہے سی ڈی ایل ڈی پروگرام کے تحت متعلقہ اضلاع میں گلی کوچوں اور محلوں کی سطح پر ترقیاتی سکیمیں جاری ہیں تاکہ لوگوں کے مسائل کو بہتر انداز میں حل اور انہیں ترقیاتی کاموں میں خود شامل کرکے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جا سکیں۔

……………………………………………………..

دریں‌اثنا ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم نے فائل ٹریکنگ اور ریونیو کیس ڈسپوزل سسٹمز کو سراہتے ہو ئے کہا ہے کہ انہیں متعارف کرنے سے ضلعی انتظامیہ اور عوام دونوں کو بہت سہولیات میسر ہوئی ہیں آن لائن سسٹم اور سافٹ وئیر کو سرکاری دفتروں میں متعارف کرنے سے سرکاری ریکارڈ محفوظ رہے گا اور بہت سی پیچیدگیاں بھی ختم ہو جائیگی اس طرح پیپر لیس ای گورننس کا دیرینہ خواب بھی جلد از جلد شرمندہ تعبیر بن جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے آفس میں فائل ٹریکنگ اور ریونیو کیس ڈسپوزل سسٹمز پر منعقدہ ایک روزہ تربیتی ورکشاپ میں کیا ورکشاپ کی تربیتی ٹیم میں ڈپٹی کوارڈینیٹر کیپٹن(ر) زبیر احمد نیازی، ڈپٹی کوارڈینیٹر ڈاکٹر عاکف خان، اضلاع سوات، شانگلہ، بونیر، ملاکنڈ، اپر دیر،لوئر دیر، باجوڑ اور چترال کی مختلف تحصیلوں کے ریونیو سٹاف، ریڈرز، سٹینوگرافرز، آفس اسسٹنٹس اور کمپیوٹر آپریٹرز نے کثیر تعداد میں شرکت کی کیپٹن (ر)زبیرنیازی اور ڈاکٹر عاکف خان نے ریونیو کیس مینجمنٹ سسٹم کیلئے وضع کردہ سافٹ وئیر میں اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ایم بی آر اور پی آر یو کے اپنے متعلقہ تمام آپشنز موجود ہیں جن میں زیر التوا و فیصلہ شدہ کیسوں کی تعداد اورکی واضح نشاندھی ہو گی اس موقع پر زبیر نیازی نے کہا کہ صوبے کے 10 اضلاع میں یہ آن لائن سسٹم نافذ ہے جبکہ بقیہ اضلاع میں بھی یہ سسٹم تجربہ کار ریونیو افسران کے مشوروں کی روشنی میں وضع کیا گیا ہے اور اس کو زیادہ سے زیادہ آسان اور سادہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے انہوں نے ریونیو عملہ اور انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ وہ یہ سسٹم بھر پور توجہ کے ساتھ سیکھیں اور اپنے مشوروں سے مزید کارامد بنائیں کیونکہ یہ سسٹم ہر صورت میں نافذ ہو کر رہے گا اس موقع پر ٹریننگ کے شرکاء نے مفید سولات کئے اور مناسب تجاویز بھی دیں پی ایم آر یو افسران نے فیلڈ افسران کی جانب سے سافٹ وئیر اور آن لائن سسٹم میں ان مفید تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں سسٹم میں شامل کرنے کا یقین دلایا وزیراعلیٰ محمود خان نے بھی اس ضمن میں گزشتہ ماہ پی ایم آر یو کے دورے کے موقع پر خواہش ظاہر کی تھی کہ فائل ٹریکنگ سسٹم کا دائرہ کار بندوبستی علاقوں کے علاؤہ قبائلی اٖضلاع تک بھی بڑھایا جائے تاکہ وہاں کے لوگ بھی اس سسٹم سے مستفید ہوں اور اپنا ہر کیس باآسانی آن لائن ٹریک کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: