Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کدھر سے آیا کدھر گیا وہ…………. از سرشار فقیرزادہ بمباغ چترال

Posted on
شیئر کریں:

مشہور شاعر ناصر کاظمی کو ہم سے بچھڑے آج (دو مارچ کو) پورے سینتالیس سال ہو گئے___ مگر مجال ہے کہ ان کی عظمت و شہرت میں ذرہ برابر کمی آئے
ناصر امبالہ ہندوستان میں پیدا ہوئے اور پاکستان بننے کے ساتھ وہاں سے ہجرت کرکے پاکستان تشریف لائے____ مہاجرین پر گزرنے والے حالات و مشکلات کا خود اندازہ لگا لیجئے
بے گھری کا دکھ ناصر کی غزلوں میں عیاں ہے __ ناصر کاظمی غزل گو شاعر تھے__
میر تقی میر اور جون ایلیا سے زیادہ اداسی ہے ناصر کی غزلوں میں ____ اور اختر شیرانی و احمد فراز کی رومانویت کچھ بھی نہیں ناصر کی غزلوں کے سامنے
ناصر کاظمی کے بارے میں شاید مجھے خوش فہمی ہے یا واقعی حقیقت ہے پر مجھے دعویٰ ہے کہ ہر اردو زبان جاننے والے کو ناصر کا کوئی نہ کوئی شعر ضرور یاد ہے __ مگر اسے پتا نہیں کہ یہ شعر ناصر کا ہے ___ اس وقت جون ایلیا کی شاعری کو زیادہ پذیرائی مل رہی کیونکہ لوگ ناصر کو نہیں پڑھتے ، ناصر کو پڑھتے ہوئے میں خود بھی اکتا جاتا ہوں ___ شاید ہم ناصر فہم نہیں ہیں ، تبھی تو ناصر نے دعا مانگی___
“دنیا کو نہیں تاب مرے درد کی یا رب
دے مجھ کو اسالیب_ فغاں اور طرح کے”
وقت ایک سا نہیں رہتا___ کہتے ہیں زندگی پہیے کی طرح ہے ___ حالات بدلتے رہتے ہیں___ جب برا وقت آتا ہے تو خوشی خواب لگتا ہے__
“فرصت _ موسم _ نشاط نہ پوچھ
جیسے اک خواب ، خواب میں دیکھا”
___
“کہاں سے لاؤ گے ناصر وہ چاند سی صورت
گر اتفاق سے وہ رات بھی پلٹ آئی”
چاہے جتنی اہم بات بھی کرنا چاہو ___ یہ بات یاد رکھو ، لوگ سنتے نہیں ، بس اس لیے سننے کی اداکاری کرتے ہیں تاکہ ان کی باری آئے اور وہ بولنے لگیں__
“حال کس سے کہوں کہ ہر کوئی
اپنی اپنی سنائے جاتا ہے”
جب انسان کسی خاص اور اہم انسان سے شکست کھاتا ہے تو پھر سب سے نا امید ہو جاتا ہے ___ جون ایلیا ہی کی مثال لے لو___
“اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں
جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے”
___
“وہ درد ہی نہ رہا ورنہ اے متاع حیات
مجھے گماں بھی نہ تھا میں تجھے بھلا دوں گا”
____
فکر یہ تھی کہ شب ہجر کٹے گی کیسے
لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی
___
عام انسان میں حوصلہ شاعروں سے زیادہ ہوتا ہے ___ شاعر صرف احساس ہوتے ہیں ، ذرا سی بات کا برا مناتے ہیں ہیں اور شاید آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ہمارے سب شعراء چھوٹی چھوٹی باتوں کا برا مناتے ہیں ___ خطرناک حد تک انا پرست ہیں___
شکایت کرنا تو ہر حساس انسان کا شیوہ ہے___
“وعدۂ یار کی بات نہ چھیڑو
یہ دھوکا بھی کھا رکھا ہے”
___
محبوب کی اداسی دیکھنا انتہائی ازیت ناک کام ہے ___ ساحر لدھیانوی کا ایک شعر دیکھو__
“سچ کہوں اپنی محبت پہ ندامت سی ہوئی
جب بھی دیکھی تری اتری ہوئی صورت میں نے”
ناصر اپنی اداسی یوں بیاں کرتے ہیں___
“جہاں میں ہوں تو کسے چین ہے مگر پیارے
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ کیوں اداسی ہے”
____
بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھے
تری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دوں گا”
____
خود کو بھی کوسیں ذرا__
“بھلا ہوا کہ ہمیں یوں بھی کوئی کام نہ تھا
جو ہاتھ ٹوٹ گئے ٹوٹنے کے قابل تھے ”
____
خواہش وصل یار کس کافر کو نہیں ___ اور عشاق ہر لمحہ ذکر یار میں مصروف رہتے ہیں___
“تو جیسے میرے پاس ہے اور محو سخن ہے
محفل سے جما دیتی ہیں اکثر تری یادیں”
__
“تری گلی میں بہت دیر سے کھڑا ہوں میں
کسی نے پوچھ لیا تو جواب کیا دوں گا”
____
“دل دکھاتا ہے وہ مل کر بھی مگر آج کی رات
اسی بے درد کو لے آؤ کہ کچھ رات کٹے”
__
محبوب کو کھونے کا ہمیشہ خدشہ رہتا ہے ____ وصل میں ہجر کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں عشاق ___
“کہیں تو میرے عشق سے بدگماں نہ ہو جائے
کئی دنوں سے ہونٹوں پہ تیرے نہیں ہے نہ ہاں ہے”
__
میں اسی غم میں گھلتا جاتا ہوں
کیا مجھے چھوڑ جائے گا تو بھی”
_____
ناصر کاظمی کی حساسیت ملاحظہ کیجئے___
“کیسے اندھے ہیں وہ ہاتھ
جن ہاتھوں نے توڑے پھول”
بے چارہ ناصر کو کیا پتا کہ کچھ لوگ اپنی سیاسی مفادات کی خاطر پھول جیسے بچوں تک کی جانیں لیتے ہیں ___
“اس بستی کے کچھ لوگوں نے
درد کا نام دوا رکھا ہے”
_____
کچھ بے گھر بے وطن مہاجرین کا دکھ___
“اس کی خوشبو دکھاتی ہے کیا کیا سمے
دشت غربت میں یاد وطن پھول ہے”
___
“مری تو خیر وطن چھوڑ کر اماں نہ ملی
وطن بھی مجھ سے غریب الوطن کو ترسے گا”
____
“جی جلاتی ہے اوس غربت میں
پاؤں جلتے ہیں گھاس پر ، دیکھو”
___
“خدا جانے ہم کس خرابے میں آکر بسے ہیں
جہاں عرض اہل ہنر نکہت رایگاں ہے”
____
ایک گزارش___
“میرے دل سے نہ جا خدا کے لیے
ایسی بستی نہ پھر بسے گی کبھی ”
دشمن_ جاں ___ ہم تمہیں چائے بھی پلائیں گے ابھی نندن کی طرح___
___
کچھ مزید اشعار
“تو جہاں ایک بار آیا تھا
ایک مدت سے ہے وہ گھر خاموش
اس گلی کے گزرنے والوں کو
تکتے رہتے ہیں بام و در خاموش”
____


شیئر کریں: