Chitral Times

Dec 1, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کمشنرملاکنڈ نے ملاکنڈ ڈویژن میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کردیئے

شیئر کریں:

سوات (چترال ٹائمز رپورٹ ) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام شاہ نے پاک بھارت کشیدگی اور بھارت کی جانب سے بڑھتی ہوئی سرحدی خلاف ورزیوں کے پیش نظر ملاکنڈ ڈویژن میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں تمام اضلاع بشمول باجوڑ کی ضلعی انتظامیہ کو ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کرنے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے اور زخمیوں کے فوری علاج کیلئے تمام طبی مراکز میں ادویات اور عملے کی 24 گھنٹے موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اسی طرح پولیس و شہری دفاع اور فلاحی اداروں کو بھی فعال بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے درایں اثناء ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم کی زیر صدارت ان کے دفتر میں ہنگامی اجلاس ہوا جس میں محکمہ صحت وتعلیم اور پولیس کے علاوہ تمام محکموں کے ضلعی سربراہان اور انتظامی افسران نے شرکت کی اجلاس میں پورے ضلع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل عملے اور دیگر ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کرنے اور تمام اداروں کو 24 گھنٹے الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں اس موقع پر حکام نے بھارتی جارحیت اور سرحدی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دفاع وطن کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ کام کرنے اور جذبہ قربانی کے ساتھ شہریوں کی حفاظت اور خدمت کا عزم دہرایا۔
…………………………………………….

دریں‌اثنا چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا محمد سلیم خان کی زیر صدارت آج سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلا س منعقد ہوا جس میں موجودہ حالات کے تناظر میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے موثر حکمت عملی وضع کی گئی۔ اجلاس میں آئی جی پی خیبر پختونخوا محمد نعیم خان ، انتظامی سیکرٹریز اور کمشنرز نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے تمام محکموں کے سربراہان اور کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لئے تمام ممکنہ وسائل اور افرادی قوت بروئے کارلائیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے موثر انداز میں نمٹاجاسکے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سول انتظامیہ سیکیورٹی فورسز اور اداروں کے شانہ بشانہ ملک کی حفاظت کا فریضہ بطریق احسن سرانجام دے گی اور عوام کی توقعات پر پورا اترے گی اور انہیں مایوس نہیں کرے گی۔ اجلاس میں محکمہ داخلہ میں ایک کنٹرول روم کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ تمام سرگرمیوں کو مانیٹر کریں گے اور محکموں سے روابط رکھیں گے تاکہ مربوط اور مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے کسی بھی صورت حال کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ فضائی حملے کے وارننگ نظام کو فعال کردیا گیا ہے تاکہ تمام اہم تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ قبل ازیں مختلف محکموں کے سربراہان نے اپنے متعلقہ اداروں کی تیاری اور اقدامات کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
……………………………………………………..

اسی طرح خیبر پختونخوا ایمر جنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122 ) کو کسی بھی ناخوشگوار واقعات کے لیے تیا ر رہنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا
پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا ایمر جنسی ریسکیو سروس (ریسکیو 1122 ) کو کسی بھی ناخوشگوار واقعات کے لیے تیا ر رہنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا، ریسکیو ترجمان بلا ل احمد فیضی نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122ڈاکٹر خطیر احمد نے موجودہ ملکی حالا ت کے پیش نظر ریسکیو اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دیں جبکہ ریسکیواہلکاروں کو سٹیشنز میں رہنے کی ہدایات جاری کردیں ۔ ڈاکٹر خطیراحمد نے کہا کہ ریسکیو 1122 کے اہلکارکسی بھی ایمرجنسی کے دوران فرسٹ ریسپانڈر کے طور پر خدمات فراہم کریں گے، ریسکیو1122 ایمبولینسز، فائر ویکلز،ڈیزاسٹر ویکلز اور دیگر مشینری آپریشنل خدمات کے لیے تیارہیں،کسی بھی قسم کی قدرتی یا ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی آلات, ادویات اور دیگر ضروری سامان فراہم کر دیاگیا ہے۔ ڈاکٹرخطیر احمد نے کہا کہ کسی بھی حادثے کی صو رت میں ریسکیو1122 کے موبائل ہسپتال یونٹ کو بھی بروئے کار لایا جائے۔ ریسکیو1122 کے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف گروپس کی شکل میں جائے حادثہ کے مقامات پر میڈیکل کیمپس قائم کرکے طبی اور امدادی سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ ریسکیو 1122اس وقت صوبے کے 10اضلاع میں سہولیات فراہم کر رہاہے۔


شیئر کریں: