Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کیا “مہر ” کا زیادہ مقرر کیا جانا نکاح میں رکاوٹ ہے ؟……ابوعاطف بیگال

شیئر کریں:

مہر کی تعریف اور مقدار:
وہ رقم جو مرد کی طرف سے عورت کو اپنی شہوانی خواہش کی تکمیل کے لئے نکاح کے وقت ملتی ہے یا وہ ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے اس کو شریعت میں ‘مہر’ کہتے ہیں.یہ دو قسم کی ہوتی ہیں. مہر معجّل اور مہر مؤجل.
مہر معجّل:وہ مہر جو فوراً نکاح کے ساتھ ہی ادا کر دی جائے.
مہر مؤجل: وہ مہر جو نکاح کے فوری ادا نہ کی جائے بلکہ اس کی ادائیگی کا وعدہ کر لیا جائے یا اس کی ادائیگی کی مدت مقرر کی جائے.

“مہر کی مقدار ”
مہر کی اقل یعنی کم سے کم مقدار کی حد تو مختلف احادیث کی روشنی میں فقہاء نے مقرر کی ہے مگر اس کی اکثر یعنی زیادہ سے زیادہ کے مقدار کی کوئ حد متعین نہیں ہے علماء نے اسے مرد کی مالی حیثیت پر چھوڑ دیا ہے.
عام طور پر لوگ دو وجہ سے مہر زیادہ مقرر کرتے ہیں ایک تو وہ اسے فخر اور عزت کی بات سمجھتے ہیں اور دوسرا یہ کہ شوہر عورت کو حتی الامکان طلاق نہ دے سکےحالانکہ یہ دونوں باتیں شرعی اعتبار سے غلط ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ مہر مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے. اِنّ اَعظَمَ النِّکاحِ بَرَکَۃً اَیسَرُہ. (مسند احمد) بیشک وہ نکاح زیادہ با برکت ہے جس میں زیادہ سے زیادہ آسانی ہو.
حضرت عمر رض کے زمانے میں عجمیوں کے اثر سے لوگ بہت زیادہ مہر مقرر کرنے لگے تھے. تو آپ نےسخت تنبہہ فرمائی. آپ نے فرمایا. کہ لوگو ! مہر مقرر کرنے میں غُلوّ نہ کرو,اگر یہ چیز دنیا میں با عث عزت و افتخار ہوتی یا آخرت میں اس کا کوئی ثواب ہوتا تو نبی ص اس کو سب سے پہلے اختیار فرماتے. آپ ص اپنی ازواج مطھرات میں کسی کا مہر نہ تو ساڑے بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر کیا اور اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کا اس سے زیادہ مہر مقرر کیا . (مسلم. ترمذی)

دوستو!
نکاح میں آسانیاں پیدا کرنا اسلام میں ایک پسندیدہ امر ہی نہیں معاشرتی لحاظ سے بہت سے معاشرتی قباحتوں کے سدباب کا بہترین ذریعہ بھی ہے. سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ مہر طئے کیا جانا ہی نکاح کو مشکل بنانے کی وجہ ہے ؟ یا کچھ اور عوامل بھی ہیں ؟
میری نظر میں آج کے معاشرے میں نکاح میں مشکلات کی’وجہ مہر کا کم یا زیادہ تعین نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ دیگر عوامل ہیں. مثلاً
منگنی سے لیکر نکاح اور ولیمہ تک خرافاتی رسوم رواج پر پیسے کا ضیاع اور اسے اپنے لئے باعث فخر سمجھنا.
ملکی غیر ملکی فلموں اور ڈراموں کی وساطت سے در آنے والی جاہلانہ عادات.
صاحب ثروت لوگوں کی طرف سے ایسے مواقع پر دولت کی بے جا نمائش اور اس کے زیر اثر عام لوگوں کا اس حوالے سے اذہان کا بدل جانا.
لڑکی والوں کے الٹ پٹانگ مطالبے .
لڑکے والوں کی طرف سے جہیز جیسی لعنت کا مطالبہ .
یہ اور اس طرح دیگر غیر شرعی عوامل ہیں جو نکاح کو مشکل سے مشکل بنا رہی ہیں .
کاش ہم زمانہ قدیم کی طرح اپنے بچوں کی شادیاں سادگی سے کرنے کا سوچ سکتے.


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
19174