Chitral Times

May 26, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نوائے سرُود……… شکوہ اپنے بھائیوں سے……..شہزادی کوثر

    February 22, 2019 at 5:48 pm

    اس بار موسم سرما ہم پر بڑا ہی مہربان ہوا دسمبر سے تا حال بارشیں ہو رہی ہیں اور ہم مسلسل بھیگےموسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تا ہم یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ بہت سے لوگ اس سے تنگ ہو گئے ہیں اور ان کی جھنجھلاہٹ کی وجہ بھی سمجھ میں آرہی ہےکہ گھروں کے باہر اور کچے رستوں پہ چلنا محال ہو گیا ہے ،سارا مٹیالا پانی تالاب بن کر جمع ہو رہا ہے اور شریر بچوں کی ماوں کے لیے تو یہ درد سر بنا ہوا ہے کیونکہ گھروں سے طرح طرح کی چیزیں باہر نکل کر اس میں ڈبکیاں لے رہی ہیں جن میں لوٹے،ٹشو پیپر کے ڈبے،ماچس کی ڈبیہ اور بیلن تک ہر چیز شامل ہےاور آفت کا پرکالہ خود کھانستا ہوا بڑی تندہی سے جھاڑولگانے میں لگا ہے۔ ایسی صورت میں سوائے چشم پوشی کے کوئی اور طریقہ کار گر نہیں ہوتا، بچے اپنے ذہن میں آئے ہوئے خیالات کوتجربات کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں وہ بھی ہماری طرح ایک ہی زاویہ نگاہ سے چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے اس وجہ سے سب کچھ سن کر بھی ان سنی کر دیں گے لا حاصل کوشش سے کچھ نہیں ملنے والا اس لیئے بچوں کی فطرت کے اٹل قوانین کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔ ٹھنڈ اور بھیگے شب وروزاکثریت کو خاص پسند نہیں ہوتے تاہم ایسے موسم کا انجام بڑا خوشگوار ہوتا ہے۔برف باری اوربارش کے بعد دھوپ کی تمازت فطرت انسانی میں گدگدی سی پیدا کرتی ہے۔لوگ بہار کے موسم میں سیر سپاٹے کا پروگرام بناتے اور بھرپور انداز سے لطف اٹھاتے ہیں ۔ اس موسم میں فطرت کی جلوہ گری عروج پر ہوتی ہے۔اس بار تو کچھ اور ہی منظر دیکھنے کو ملے گا۔پیاسی دھرتی نے اپنی پیاس بجھائی ہے اب ہر ویرانہ گلشن میں بدل جائے گا۔ زمین برف کی سفید چادراتار کر سبزے کی ہری چادر اوڑھے گی،چھوٹے چھوٹے خود رو پھول اپنی بھینی مہک سے ماحول کو معطر کریں گے،خاص کر قاق لشٹ کی خوبصورتی دیدنی ہو گی، اپریل کےمہینے میں ہر ایک کو اس کی یاد ستائے گی اور ذندہ دلان چترال کھانے پینے کے لوازمات سمیت وہاں کا رخ کریں گے،پھر موج مستی ،کھیل تماشے اور ناچ گانا سب کچھ ہو گا لیکن ان سب کے باوجود ایک پکار کسی کو سنائی نہیں دے گی۔۔۔۔۔۔۔ کوئی ہے جو میری مدد کرے۔۔۔جو مجھ پر ہونے والے ظلم کو روکے۔۔۔۔ اے لوگو مجھے اذیت کیوں دے رہے ہو۔۔۔میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر سال ہمارے استقبال کے لیے اپنی بانہیں وا کرنے والا قاق لشٹ ہماری بےحسی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ کئی دن تک ہزاروں مہمانوں کو اپنے دل میں جگہ دے کران کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے لیکن تقریب کے خاتمے پرغلاظت کا ڈھیر اس کے منہ پر مار دیتے ہیں اور ایک سال تک اسے تنہا تڑپنے کے لیے چھوڑ کر اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں۔کاش کوئی جا کر دیکھ لے کہ ہماری جہالت کی نشانی گندگی کی صورت میں اس کی خوبصورتی کو ںگل رہی ہے۔ یہ آواز اس جگہے کی ہے جہاں فیسٹیول کے نام پر کچرے کا ڈھیرلگایا جاتا ہے،ہر طرف گندگی بکھری ہوتی ہے،پلاسٹک کی تھیلیاں،بوتلیں کاغذ،ریپرز اور خداجانے کیا کچھ نہیں ہوتا جو وہاں نہ پھینکی گئی ہو۔ہمارے پاس لے دے کے کچھ ہی تو جگہیں جو ہماری پہچان ہیں ،لیکن ہم میں آگہی کا شدید فقدان ہے جس کی وجہ سے یہ علاقے کچرا منڈی میں بدل رہےہیں ۔سوچو ذرا اسے کون اٹھائے گا ہمارے پیچھے غلاموں کی فوج ہے جو کچرا اٹھائے گا یا جادو کی چھڑی ہے جس سے سب کچھ صاف ہو جائے گا۔یہ تربیت کسی کی نہیں ہوئی کہ جوکھاو تو بچا کھچا کہیں ٹھکانے لگا دو۔اللہ تعالی نے انسان اور حیوان دونوں کو نفس دیا ہے لیکن انسان کو عقل کی ذبردست اضافی قوت سے بھی نوازا ہے کہ اس کا استعمال کر کہ نفس کے پیچھے نا بھاگے بلکہ اس کو صحیح راہ پر لگا دے۔شعور نام کی چیز بھی ہوتی ہے،معاشرتی زندگی کے کچھ اصول ادب آداب ہوتے ہیں جو انسان اور حیوان میں امتیاز کرنے کا ذریعہ ہیں،لیکن ان پر عمل کرنا ہماری غیرت کو گوارا نہیں ہوتا،،نوجوان مجلسی زندگی کے دلدادہ ہیں،محفل آرائی ان کا محبوب مشغلہ ہے۔خانگی زندگی اور روٹین سے فرار حاصل کرنے کے لیے محفل دوستاں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔اگر قدرت کی آغوش میں ایسا موقعہ مل بھی رہا ہے توشکر کرنے کے بجائے اس کو گندگی کے ڈھیر مین بدل کردم لیں گے،اچھے خاصے ذمہ دار افراد بھی غیر ذمہ داری کا .مظاہرہ کرتے ہیں۔سوچھ کر روح تڑپتی ہے،کہ انسان کی تربیت نہ ہو تو اپنی جبلتوں کو پورا کرنے میں حیوانیت کا ثبوت دیتا ہے،ہر جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہوئے،نالیوں میں پلاسٹک دھنسے ہوئے اور سارا گندا پانی سڑک پر بہتا ہے۔صحت کے مراکز میں جاتے ہوئے ابکائی آتی ہے،ہسپتالوں کا کچرا راتوں رات دریا برد کیا جاتا ہے۔بازاروں اور گلیوں میں رن برنگے ریپرز پڑے ہیں ۔انہیں کون صاف کرے گا۔ ہماری جمالیاتی حس کہاں غائب ہو گئی، طہارت اور پاکیزگی کا فلسفہ کہاں دب گیا جو نصف ایمان ہے۔ قصاب خانے کی تمام آلائشینں ،واشرومز کا گندہ پانی دریا میں گرتا ہے،نبی پاکﷺ کے فرمان پر بھی کوئی غور نہیں کرتا کہ پانی کو گندہ مت کرو۔۔۔۔کیونکہ ہم سب کی زندگی اسی پانی سے جڑی ہے ہم اپنے ماحول کو خود ہی خراب کرنے میں لگے ہیں، تھوڑی دیر کو اپنا خوابیدہ احساس جگائیں تو ہمیں کائینات کے چہرے پو بکھرے دکھ نظر ائیں گےیہ دنیا ہمیں سب کچھ دے رہی ہے، ہم اسے کیا دے رہے ہیں۔ سوچیے گا ضرور۔ آنے والی نسلوں کو بدبودار نالیاں،گردوغبار سے اٹی سرکیں،کچرے سے سجی گلیاں،اور غلاظت سے بھرا ماحول منتقل کرنا کہاں کا انصاف ہے۔آییے تھوڑی سی کوشش کر کے صفائی کی طرف پہلا قدم اٹھاہیں اگر چہ یہ لڑکھڑاتا ہوا قدم ہو گا لیکن اس کی آواز سے میونسپل کمیٹی والے ضرور جاگ جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • error: Content is protected !!