Chitral Times

Dec 4, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ‌کی ملاکنڈ ڈویژن سمیت دیگرسیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے مسودہ کوجلد حتمی شکل دینے کی ہدایت

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ملاکنڈ ، ہزارہ اور دیگر سیاحتی مقامات بشمول ضم شدہ اضلاع میں سیاحت کی تیز رفتار ترقی کیلئے سیاحت سے متعلق قانون کے مسودہ کو جلد حتمی شکل دینے اور تمام متعلقہ محکموں کی مشاورت سے جامع اور قابل امن قانون یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے سیاحتی مقامات پر تعمیرات بلڈنگ کوڈ کے مطابق کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے سیاحوں کی سہولت کے مراکز /سروس ریسٹ ایریاز کے قیام کیلئے مناسب ترین طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ صوبے میں سیاحت کا بطور صنعت مگر ماحول دوست فروغ حتمی ہدف ہوناچاہیئے۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں سیاحت پر قائم ٹاسک فورس کے تیسرے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ سینئر صوبائی وزیربرائے سیاحت محمد عاطف خان کے علاوہ صوبائی وزراء اکبر ایوب خان ، اشتیاق ارمڑ ، سلطان محمد خان ،مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر، چیف سیکرٹری سلیم خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ٹاسک فورس کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے ۔ اجلاس کو مختلف سیاحتی مقامات پر سہولیات کی فراہمی اور نئے سیاحتی مقامات کی ترقی کے لئے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ سیاحت کے تیز تر فروغ کے سلسلے میں حکومتی اہداف کا بروقت حصول یقینی بنانے کیلئے متعلقہ قانون کو جامع بنایا جارہا ہے ۔ متعلقہ اتھارٹیز کو اختیارات دئیے جارہے ہیں تاکہ فوری اور اہم نوعیت کے اقدامات میں تاخیر نا ہونے پائے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ آئندہ تین ہفتوں کے اندر محکمہ جنگلات اور دیگر تمام سٹیک ہولڈر ز سے مشاورت کیجائے اور اتفاق رائے سے مکمل ، جامع اور تمام تر کمزوریوں سے پاک قانون کا مسودہ پیش کیا جائے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاحت کے سلسلے میں درکار اراضی کے حصول سمیت دیگر مسائل کے دیرپا حل کیلئے متعلقہ محکموں کے تحفظات کا بھی قانون میں حل موجود ہوناچاہیئے۔ اجلاس میں ٹورازم پولیس کی تخلیق سے اتفاق کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ ایک الگ یونٹ ہونا چاہیئے جسمیں بلین ٹری سونامی کی طرز پر نوجوان رضاکاروں کو بھی شامل کیا جائے ، اس مقصد کیلئے بوائے سکاؤٹس ماڈل بھی اہمیت کا حامل ہے جو عموماً حج کے دوران حجاج کی سہولیات کیلئے اختیارکیا جاتا ہے ۔ اجلاس میں کبل گلف کورس سوات ، پائیتھوم گلی باغ سوات اور قلعہ بالا حصار پشاور کی محکمہ سیاحت کو منتقلی کے مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ پہلی دو عمارتوں کبل گلف کورس اور پائیتھوم کی جلد منتقلی یقینی بنائیں جبکہ قلعہ بالا حصار کی منتقلی کے طریقے پر تاحال بات چیت جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے نئے ضم شدہ اضلاع میں سیاحتی ریزاٹس کے قیام سے بھی اتفاق کیا تاہم انہوں نے سکیم پر نظرثانی کی ہدایت کی تاکہ قابل عمل منصوبوں کو پہلی فرصت میں مکمل کیا جا سکے۔ اجلاس کو مختلف مقامات پر ریل سروس کی بحالی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ مردان تک دس سال کے بعد ریل دوبارہ چلائی گئی ہے جبکہ تقریباً 20 سال کے طویل عرصے کے بعد درگئی تک بھی مارچ میں ریل سروس کا اجراء کیا جائے گا وزیراعلی نے پشاور سے طورخم تک ریلوے ٹریک کی بحالی پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں کمشنر پشاور اور کمشنر مردان کو ہدایت کی کہ وہ درپیش مسائل اور رکاوٹیں دور کریں،انہوں نے پشاور سرکلر ریلوے ٹریک پر پیش رفت تیز کرنے اور چارسدہ اور مردان میں ریلوے ٹریک کو پشاور سرکلر ریلوے ٹریک میں شامل کرنے کی ہدایت کی وزیراعلیٰ نے پشاور میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کیلئے چمکنی سے کارخانوں تک ریل ٹریک کے ساتھ ساتھ ایک متبادل روڈ تعمیر کرنے کی تجویز دی اور اس کے قابل عمل ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے ریسکیو 1122 اور صحت کی سہولیات بھی سیاحتی مقامات پر مہیا کرنے سے اتفاق کیا اور کہا کہ یہ بہت ضروری ہے خاص طورپر سیزن کے دوران یہ سہولیات دستیاب ہونی چاہیں انہوں نے اس سلسلے میں جگہ کی نشاندہی کرنے اور طریق کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے ٹورازم پولیسنگ کیلئے ترکی اور تھائی لینڈ کے ماڈلز کا جائزہ لینے کے بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت ، پولیس ، داخلہ ، لوکل گورنمنٹ اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز آپس میں بیٹھ جائے اور ٹورازم اتھارٹی اور پولیسنگ کیلئے قابل عمل طریقہ کار وضع کریں۔ اجلاس میں سیاحت کی کشش رکھنے والے مختلف ایریگیشن ڈیمز کی سائیٹس کو سیاحتی خطوط پر ترقی دینے سے بھی اتفاق کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے معاملات کو اعلیٰ سطح پر پالیسی ساز فیصلے کیلئے لانے سے پہلے متعلقہ محکموں کے مابین اجلاس کرنے اور معاملات کو حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ صوبے کے مفاد میں بہتر سے بہتر فیصلہ سازی یقینی ہو سکے ۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ غیر ملکی شخصیات اور سیاحوں کواین او سی کے اجراء اور رجسٹریشن کے مجموعی عمل کو آسان ترین بنانے کیلئے وفاقی حکومت کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔ اس موقع پر اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ صوبے کے مختلف ریجنزمیں سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی آسان رسائی یقینی بنانے کیلئے دو درجن کے قریب موجودہ سڑکوں کی تعمیر نو اور بحالی کیلئے نان اے ڈی پی پی سی ون پیش کیا جا چکاہے اسی طرح نئے اور موجودہ جیپ ایبل ٹریکس کی تعمیر نو و بحالی کا پی سی ون بھی پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کو پیش کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذکورہ سڑکوں کی تعمیر نو و بحالی کے سکیم سے اصولی اتفاق کیا تاہم انہوں نے متعلقہ سکیم میں سڑکوں کی ترجیحات کا تعین کرنے اور حقیقت پسندانہ فیزیبلٹی کی ہدایت کی تاکہ منصوبے پر عمل درآمد کے مرحلے میں وسائل کا مسئلہ نہ بنے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مذکورہ سڑکوں کی بحالی اپنی جگہ بہت ضروری ہے ان کی وجہ سے سیاحت میں اضافہ ہوگا اور کمرشل سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جو مجموعی طور پر صوبائی معیشت کو اٹھانے اور مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچانے میں مددگار ثابت ہونگی۔ وزیراعلیٰ نے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کے بعد پہلے مرحلے میں زمین حاصل کرنے کی ہدایت کی۔وہ سیاحتی مقامات جو جنگلات اور زراعت کے علاقوں میں واقع ہیں ان کیلئے درکار زمین کے حصول کا قابل عمل طریقہ نکالیں اور متعلقہ محکموں کے تحفظات اور مسائل بھی پیشگی دور ہونے چاہئے انہوں نے واضح کیا کہ ماحول دوست سیاحت کا فروغ پوری دنیا میں ہوتا ہے ہم نے اس مجموعی عمل میں جنگلات کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہے اور سیاحت کو بھی فروغ دینا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے بھی نمٹنا ہے اور صوبے کیلئے وسائل بھی پیدا کرنے ہیں اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکمے باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ کونسی زمین محکمہ جنگلات کے زیرانتظام ہے اورکونسی زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہو سکتی ہے اور کونسی جگہ سیاحت کیلئے لی جائیگی سب کا واضح تعین ہونا چاہیئے، ٹوارزم اتھارٹی کی طرف سے بنائے گئے قوانین سیاحت کی حوصلہ افزائی کرینگے وزیراعلیٰ نے محکمہ سیاحت اور جنگلات کو ہدایت کی کہ وہ آپس میں بیٹھ جائیں اور متعلقہ زمین کی نوٹیفیکیشن یا ڈی نوٹیفیکیشن کو حتمی شکل دیں، جس کی صوبائی کابینہ سے باضابطہ منظوری لی جائیگی۔ پہلے سیاحتی مقامات کی نشاندہی کی جائے اور پھر متعلقہ زمین کی ڈی نوٹیفیکیشن کا معاملہ کیس ٹو کیس ڈیل کیا جائے وزیراعلیٰ نے ماحول دوست سیاحت کیلئے بین الاقوامی ماڈل اختیار کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں سیاحت کیلئے قائم ٹاسک فورس میں ہزارہ ، ملاکنڈ اور کوہاٹ ڈویژن کے کمشنرز کو بھی بطور ممبر شامل کرنے سے اتفاق کیا گیا تاکہ پورے صوبے بشمول نئے اضلاع میں سیاحت کو ترقی دی جاسکے۔
…………………………………………………………..

cm mehmood khan met pm imran
Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Mahmood Khan calls on Prime Minister Imran Khan in Islamabad on February 20, 2019

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی وزیر اعظم سے ملاقات
پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )‌وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے آج قومی اسمبلی کے چیمبر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات کی وزیراعلیٰ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی اور خدمات کی سرگرمیوں کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائل کی تیز تر ترقی او ر ضم شدہ اضلاع میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے پر کام کر ہے ہیں۔ بہتر امن و امان کی وجہ سے قبائلی اضلاع کی عوام کی مشاورت سے ترقیاتی پلان کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ محمود خان نے واضح کیا کہ سابقہ فاٹا میں سرکاری دفاترکے قیام ، وزراء کے دوروں اور سرکاری اہلکاروں کے کام کی وہ خود مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو قرضہ دینگے تاکہ وہ اپنا روزگار شروع کر سکیں اور معاشی اعتبار سے اپنے پاؤ ں پر کھڑا ہو سکیں۔نئے شامل ہونے والے اضلاع کی آباد کاری و تعمیر نو ، معاشی سرگرمیوں کا اجراء اور روزگار کی فراہمی اور ترقیاتی سرگرمیوں کا آغاز چیلنج ہے تا ہم وزیراعظم کے وژن اور رہنمائی میں تمام چیلنجز پر قابو پا لینگے صوبائی حکومت قبائلی عوام کی محرومیاں دور کرنے کیلئے وزیراعظم کی ہدایات پر عمل پیرا ہے نئے اضلاع میں انتظامی اور خدمات کا ڈھانچہ کھڑا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے قبائلی عوام اور غریبوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے اقدامات کو نتیجہ خیز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ فاٹا کے تمام اضلاع کی ترقی اور وہاں کے عوام کی محرومیاں ختم کرنا ترجیح ہے۔وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ صوبے میں نئے شامل ہونے والے اضلاع کو ترقیاتی پیکیج دے رہے ہیں،صوبائی وزراء سابقہ فاٹا کے دورے جاری رکھیں اور اپنے محکموں کی توسیع اور استحکام پر کام کریں وزیراعظم نے صوبے کے تمام اضلاع میں ترقیاتی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں کا آغاز اور مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ معاشی سرگرمیاں شروع کرینگے اور قبائلی نوجوانوں کو روزگار دینگے۔ عمران خان نے واضح کیا کہ انہیں قبائلی اضلاع کے لوگوں کی تکالیف کا احساس ہے۔وعدے پورے کرینگے۔ نئے اضلاع میں صحت انصاف کارڈ سب کو ملے گا۔غریب کی فلاح ترجیح ہے ،کسی کا استحصال نہیں ہونے دینگے۔
<><><><><><>
cm kp
وزیراعلیٰ‌سے ڈی ایف آئی ڈی کے وفد کی ملاقات
پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )‌ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے برطانیہ کی سٹیٹ سیکرٹری برائے انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ اور وزیر برائے ترقی خواتین و مساوات Ms. Penny Mordaunt کی سربراہی میں ڈی ایف آئی ڈی کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ خصوصی مشیر برائے سیکرٹری آف سٹیٹ، برٹش ہائی کمشنر برائے پاکستان تھامس ڈریو، مس جوانا ریڈہیڈ آف ڈی ایف آئی ڈی پاکستان اور دیگر وفد میں شامل تھے۔ جبکہ صوبائی وزراء محمد عاطف خان ، تیمور سلیم جھگڑا، شہرام خان ترکئی ، بیرسٹر سلطان محمد خان ، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سلیم خان ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری اکنامک افیئرز ڈویژن احمد حنیف اورکزئی ، صوبائی سیکرٹریز اور مختلف صوبائی تنظیموں کے سربراہان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے برطانوی وزیر اور وفد کو صوبائی حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے ، ترقی و فلاح کے اقدامات خصوصی طور پر ضم شدہ اضلاع کی فلاح و ترقی کیلئے منصوبوں سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے لوکل سلف گورننس سکیم تیار کی گئی ہے جس کے تحت بہت جلد ان علاقوں کے عوام لوکل گورننس سطح پر 3500سے زائد مقامی نمائندوں کا انتخاب کریں گے ۔ اور دوسری طرف پہلی طرتبہ صوبائی اسمبلی کیلئے 21 ایم پی ایز کا انتخاب بھی کیا جائیگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے دس سالہ سماجی و معاشی ترقیاتی پلان کا اجراء بھی ہو چکا ہے ، مذکورہ اضلاع کی ترقی کیلئے دس سالوں تک نیشنل فنانس کمیشن سے تین فیصد حصہ فراہم کیا جائیگا ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں امن بحال ہو چکا ہے ، افغانستان کیساتھ منسلک بارڈر کی فینسنگ کی جارہی ہے جو خطے میں دیر پا امن اور استحکام میں عام کردار ادا کریگا، کیونکہ اس عمل سے شدت پسندوں کا صوبے میں داخلہ روک دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاسی جماعت کو دوبارہ حکومت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے اصلاحاتی ایجنڈے اور صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا ثبوت ہے، ان کی حکومت اپنے منشور کے تحت اصلاحات کے عمل کو مزید دیر پا بنا رہی ہے تاکہ صوبے کے عوام ان سے مستفید ہو سکے اور انکی زندگی میں تبدیلی نظر آئے۔ محمود خان نے کہا کہ وہ صوبے میں پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم و تربیت کے نظام کو بہتر کر رہے ہیں، صنعت کے فروغ کیلئے پر کشش مراعات دی گئی ہے ، معدنیات سمیت صوبے کے دیگر قدرتی ذخائرکی دریافت اور استعمال یقینی بنایا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولیات دینے اور معاشی زونز کی ترقی کیلئے اکنامک زون اینڈ ڈویلپمنٹ منیجمنٹ کمپنی بنائی گئی ہے ، پن بجلی کی ترقی ، زراعت اور لائف سٹاک کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کیلئے خیبرپختونخوا کے آئل اینڈ گیس کمپنی ، بورڈ آف انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور دیگر با اختیار بنائے گئے ہیں۔ صوبے کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے عمل کو آسان ترین بنایا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے مختلف شعبوں خصوصا تعلیم اور سکل ڈویلپمنٹ میں ڈی ایف آئی ڈی کی جاری سرگرمیوں کو سراہا۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر برطانوی وزیر کو تحفہ بھی دیا بعد ازاں وزیراعلیٰ نے پودا بھی لگایا۔
cm kp met country director


شیئر کریں: