Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ‌کی صوبے کے مختلف بس اڈوں کی بہتری اور مسافروں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے ہدایت

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ہدایت کی ہے کہ تمام محکمے آلات و مشینری کی خریداری و استعمال کے حوالے سے خود اپنے اختیارات پوری خلوص نیت سے استعمال کریں۔ پروکیورمنٹ کے قواعد اور عمل کو متعلقہ محکمہ خود اپنی زیر نگرانی مکمل کرے ۔ انہوں نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے وزیراعلیٰ نے روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ فنڈ کی مد میں بچت شدہ 23 کروڑ روپے سے بس اڈوں کی مرمت ، تزئین و آرائش کے کام کے بعد باقی پیسہ محکمہ خزانہ کے ذریعے منافع بخش طور پر بروئے کار لانے کی تجویز سے اُصولی اتفاق کیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روڈ ٹرانسپورٹ بورڈکے معاملات پر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ ڈسٹرکٹ ناظم پشاور ارباب عاصم ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ محمد اسرار، سیکرٹری فنانس شکیل قادر، سیکرٹری ٹرانسپورٹ کامران خان، سیکرٹری لاء اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ، آپریشنل فنڈ ،بورڈ کی کمپوزیشن اور آکشن کمیٹی کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔اجلاس کو صوبے کے مختلف اڈوں اور ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ بس اڈوں کی بہتری اور مسافروں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کیلئے ان بس اڈوں میں مرمت اور بحالی کاکام ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت ٹرانسپورٹ کے حوالے سے اپنے لوگوں کو جدید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی ۔صوبائی حکومت روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ فنڈ کو بس اڈوں اور بس ٹرمینلز کی بہتری پر لگائے گی تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو ۔ وزیراعلیٰ کو پشاور ڈائیواڈہ کے ساتھ تمام تر معاہدوں کے حوالے سے بھی تفصیلاً بتایا گیا جس پر انہوں نے کہاکہ ان معاہدوں کو روڈ ٹرانسپورٹ بورڈاور محکمہ قانون مل بیٹھ کر اس کی جانچ پڑتال کرے اور اگلے اجلاس میں پیش کرے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ اگلے اجلاس میں پروپوزل پیش کرے کہ بورڈ کے فنڈ کو بس ٹرمینل کی بہتری کیلئے کس طرح استعمال میں لا سکتے ہیں۔ پنک بسوں کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں ضلع مردان میں خواتین کیلئے پنک بس کی سہولیات مہیا کی گئی ہیں جبکہ ضلع ایبٹ آباد میں یہ سہولت بہت جلد میسر کی جائے گی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گریٹر سرکلر پشاورکی تکمیل اور چا ئینز کمپنی سی آر سی سی کے ساتھ محکمہ ٹرانسپورٹ نے مفاہمتی یادداشت(ایم او یو) پر دستخط کئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے صوبائی حکومت کو یہ ایم او یو پہلے سے بھجوایا ہے جس کی منظوری کے بعد اس پر کام شروع کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ گریٹر سرکلر پشاور میں پشاور ، چارسدہ ، مردان ، نوشہرہ ، صوابی اور ملاکنڈ کے اضلاع شامل ہیں جس کو اضافی فیز ٹو میں مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کی سہولت کیلئے تمام تر ممکن اقدامات اُٹھائے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کی منظوری اور تکمیل بہت جلد ممکن بنائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ کے فنڈ کا پیسہ عوام کا پیسہ ہے اور اس کو عوام کی بہتری اور اُن کو سہولیات کی فراہمی پر ہی استعمال کیا جائے گا۔
ََِِ <><><><><><>
برطانوی امدادی ادارے DFIDکی سربراہ Ms. Joanna Reid کی وزیراعلیٰ سے ملاقات
پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ دیر پا ترقی ان کا بنیادی ہدف ہے۔ پسماندہ اضلاع کی خوشحالی خصوصاً صوبے میں شامل قبائلی اضلاع میں انفراسٹرکچر کی ترقی اور خدمات کے شعبوں کی بحالی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سب سے پہلے ہے، کیونکہ قبائلی اضلاع کے عوام نے ماضی میں بڑی تکالیف اُٹھائی ہیں۔ نئے اضلاع کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور معاونت کے وسیع مواقع موجود ہیں جو ہماری مربوط ور اجتماعی کاوشوں کے ہیں۔ اس مجموعی جدوجہد میں بین الاقوامی شراکت داروں اور سرمایہ کارو ں کو مکمل سہولت اور ماحول فراہم کیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی امدادی ادارے DFIDکی سربراہ Ms. Joanna Reid سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ملاقات کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا، معاون خصوصی ضیاء اللہ بنگش، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار ، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی اور دوطرفہ تعاون کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ، خصوصاً نئے اضلاع کی ترقی و خوشحالی کے پلان پر سیر حاصل بحث کی گئی۔ صوبے میں امن عامہ کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کار یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ ترقی کی راہیں امن سے وابستہ ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کی بحالی میں اداروں کے ساتھ ساتھ ہمارے عوام خصوصاًقبائل نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے قبائلی اضلاع کی تیز رفتار ترقی و خوشحالی اس وقت ہماری ترجیہات کا مرکز ہے۔ نئے اضلاع میں ترقی و اصلاحاتی سرگرمیوں کے حوالے سے ہر دس دن کے بعد جائزہ اجلاس کیا جاتا ہے۔ ایم این ایز اور ایم پی ایز پرایڈ وائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو نہ صرف ترقیاتی اور دیگر مسائل کے حوالے سے حکومت آگاہ کریگی بلکہ نئے اضلاع میں معاشرے کے مختلف طبقات سے رابطہ بھی کریگی۔ تاکہ ترقی کے مجموعی عمل میں مقامی لوگوں کو بھی شامل کیا جاسکے ۔ وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ سابقہ فاٹا کے ترقیاتی پلان کے حوالے سے عنقریب سات روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جائیگاتاکہ دیر پا ترقیاتی حکمت عملی کے تحت مذکورہ پلان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے، اس سلسلے میں تیاریا ں تقریباًمکمل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے اضلاع میں انفراسٹرکچر کی ترقی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی کافی گنجائش موجود ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ہم شراکت داری کے اس عمل کو نئے اضلاع تک توسیع دیں۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام تر سہولت فراہم کریگی۔ ملاقات میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اسکے نتائج پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے اس سلسلے میں کردار ادا کیا ہے۔ اور اب بھی اپنی سطح پر بھر پور کوشش کررہے ہیں۔ شدت پسندی کے رحجانات کی حوصلہ شکنی اور انسانیت سے محبت پر مبنی جذبات کے فروغ کیلئے درسی نصاب میں اصلاحات بھی لائی گئی ہیں۔ جو ان ریڈ صوبے میں امن عامہ کی بہتر صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور صوبے میں امن کی بحالی کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے اضلاع کی ترقی و خوشحالی میں بھی گہری دلچسپی کا ظہار کیا کہ ان کا اصلاحات نئے اضلاع کی ترقی کیلئے صوبائی حکومت کی ترجیحات اور ہر مثبت اقدام کی حمایت کرتا ہے اور مسائل کے حل میں تعاون کریگا۔
<><><><><><><><><>

وزیراعلیٰ‌کی کڈنی ہسپتال سوات کے اہم ترین ترقیاتی منصوبے میں حائل مسائل حل کرنے کی ہدایت
پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کڈنی ہسپتال سوات کے اہم ترین ترقیاتی منصوبے میں حائل مسائل حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ ہدایت انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ہسپتال کے حل طلب امور کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ، سیکرٹری صحت، ایم ایس کڈنی ہسپتال سوات اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی، وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کیلئے درکار 68ملین روپے جاری کرنے کی اصولی منظوری بھی دی۔ انہوں نے زمین کی منتقلی اور دیگر مسائل کو قانون کے مطابق حل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوامی مفاد کا بہترین منصوبہ ہے اس لئے اسکے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
<><><><><><><><>
وزیراعلیٰ‌کی کرین برڈہنٹر ایسوسی ایشن کو شکار کی سرگرمیوں کے حوالے سے درپیش مسائل حل کرنے کا یقین دہانی
پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خانے کرین برڈہنٹر ایسوسی ایشن کو شکار کی سرگرمیوں کے حوالے سے درپیش مسائل حل کرنے کا یقین دلایا ہے۔ یہ یقین دہانی انہوں نے ہنٹر ایسو سی ایشن آف کرینز ساؤتھ ریجن کے تیس رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کرائی، جس نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ان سے ملاقات کی، ایم پی اے پختون یار خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور بتایا کہ جنوبی اضلاع میں کرین برڈ کے شکار پر جزوی پابندی اُٹھائی جاتی ہے پھر لگا دی جاتی ہے۔ وفد نے درخواست کی کہ کرین برڈ کے شکار پر پابندی مکمل طور پر اٹھائی جائے۔ وزیراعلیٰ کے استفسار پر وفد نے واضح کیا کہ مذکورہ پرندے کی نسل کشی کا مسئلہ بھی درپیش نہیں ہے کیونکہ یہ سائبرین پرندہ ہے جو صرف اس صوبے سے گزر تا ہے، لہٰذا پابندی اٹھائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے یہ مسئلہ حل کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے وفد کے مطالبے پر جلد بنوں اور لکی کا دورہ کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ جنوبی اضلاع کی پسماندگی دورکرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوہاٹ سے ڈی آئی خان انڈس ہائی وے کو دورویہ کرنے کے منصوبے کا جلد افتتاح کیا جائیگا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس کرچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا انکی کوشش ہے کہ جنوبی اضلاع میں پانی مسئلہ حل کرنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ دین۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کرنے پر یقین رکھتے ہیں، اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے ہمیں واضح رہنما ہدایات دی ہیں۔


شیئر کریں: