Chitral Times

Nov 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جاوید حیات کاکاخیل کی کتاب “گرزین” نے ملکی سطح پر کہوار زبان کی نمائندگی کی

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد(نمائندہ چترال ٹائمز ) لوک ورثہ اسلام آباد میں انڈس کلچرل فورم کے زیر اہتمام پاکستان کی مادری زبانوں کے 3 روزہ ادبی میلے میں جو کہ 15 سے 18 فروری 2019 تک جاری رہا، ضلع غذر کے نامور شاعر جاوید حیات کاکاخیل کی کتاب “گرزین” نے میلے میں کھوار زبان کی نمائندگی کی . کھوار زبان و ادب میں جاوید حیات کاکاخیل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ کہوار زبان میں لکھی گئی ان کی شاعری کی کتاب “گرزین” علمی و ادبی حلقوں میں خاصی مقبول رہی جبکہ ان کی شاعری بھی موسیقی کے دھنوں کی زینت بن کر سننے والوں کو اپنی سحر میں مبتلا کرتی رہی ہے۔

یاد رہے ضلع غذر کہوار زبان کے کئی نامور شعراء کی جنم بھومی ہے۔ کہوار زبان کے مشہور دھن اور گانا خوش بیگم کا لکھنے والا امان کا تعلق بھی ضلع غذر کت اشکومن سے تھا۔ خوش بیگیم دھن ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے سے اس خطے میں محو گردش ہے۔ اسی طرح گل اعظم خان گل بھی ضلع غذر میں وقت گزارا جبکہ دور حاضر میں رحمت علی نے کم و بیش دو دھائیوں تک کہوار شاعری و گلوکاری پر راج کرتے رہے۔
مظفر الدین بیگانہ بھی کہوار موسیقی و گلوکاری کے افق پر نمودار ہوا اور آتے ہی اپنے پر سوز آواز و انداز سے سب کو اپنی سحر میں جھکڑ کر بالآخر 1999ء کو کارگل معرکے میں جام شہادت نوش کیا ۔ پھر صابر شاہ صابر اور اس کے بعد ممتاز علی انداز اپنے مخصوص انداز میں کہوار ادب و موسیقی و شاعری میں رنگ ڈالا۔
کھوار زبان کی ترقی میں گولاغتوری غذر کے شمس الحق نوازش نے بھی زباں و ادب میں کافی خدمات انجام دی ہیں۔ جبکہ جاوید حیات کاکاخیل کی تازہ تصنیف اسی سلسلے میں سب سے اہم کوشش ہے جو کہ گلگت بلتستان میں کھوار زبان کی اولین تصنیف ہے۔ کتاب میں حمد باری تعالیٰ، نعت رسول مقبولّ، صوفیانہ کلام، نظم، مرثیے اور بہت معیاری غزلیات شامل ہیں۔ یقیناً یہ کتاب جاوید حیات کاکاخیل کو کھوار زبان و ادب میں زندہ و جاوید رکھے گی۔


شیئر کریں: