Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہفتہ وار چھٹی کا مسلہ…………. ڈاکٹر اسماعیل ولی اخگر

Posted on
شیئر کریں:

یہ بات اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے- کہ انسان نے بہت سی باتیں اپنے گردو پیش میں موجود مکانی اور زمانی مظاہر سے اخذ کی ہیں- سورج کا طلوع ہونا پھر غروب ہونا ان مظاہر میں شامل ہیں- پھر دن کو صبح، دوپہر، سہ پہر میں تقسیم کیا- تاہم یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے- کہ فطرت میں سات دنوں کا کویی مظہر نہیں- شاید قمری مہینوں کو چار ہفتوں پھر ہفتے کو سات دنوں میں تقسیم کیا گیا ہو- اور سماجی محققین کے پاس کویی ٹھوس ثبوت نہیں جس کی بنیاد پر اس کی تاریخی پس منظر کو بیان کر سکیں- تاہم یہ بات علم والوں کو معلوم ہے- کہ معاشرتی ارتقا موجودہ عراق سے شروع ہویی- اس کا مطلب یہ ہے- کہ ہفتے میں سات دنوں کا تصور بھی با بلی اور سمیری تہذیبوں تک پہنچ جاتا ہے-
عربی میں ہفتے کے پانچ دنوں کو عددی نام دیے گیے ہیں- یعنی
اتوار- یوم الاحد (پہلا دن)
پیر- یوم اثنین (دوسرا دن)
منگل- یوم الثلاثہ ( تیسرا دن)
بدھ-یوم لاربعا (چوتھا دن)
جمعرات- یوم الخمیس (پانچواں دن)
دو دنوں کے نام اس اصول سے باہر ہیں- جمعہ (جمع ہونے کا دن) اور ہفتہ (سبا کا دن) – یہ باتیہاں یہاں قابل ذکر ہے- کہ عبرانی زبان میں بھی سبا یعنی “ہفتہ” کو چھوڑ کے باقی نام عددی ہیں- اندازہ یہ ہے- کہ جن دنوں کو نمبر دیے گیے ہیں- وہ میرے خیال میں مختلف کاموں کے لیے مختص تھے- اور ساتویں وہ (یہودی) کویی کام نہیں کرتے تھے- اسلیے اس کا نام “سبا” (شبات ) رکھا گیا- کیونکہ اس کی معنی “روکنے” اور ” ختم ہونے” کے قریب ہے- بالفاظ دیگر کاموں کو روکنے کا دن یا ارام کرنے کا دن- کیونکہ بایبل کے مطابق چھ دنوں میں کا ینات پیدا کرنے کے بعد “خداوند ” کو ساتوں دن سستانے کی ضرورت محسوس ہویی- اسلیے اب بھی یہودی ہفتے کو چھٹی مناتے ہیں-
دنوں کے ناموں کے عددی تصور سے جس نتیجے پر میں پہنچا ہوں- وہ یہ ہے- کہ عبرانی لوگوں کا ذہن حسابی خصوصیت کا حامل تھا- جب کہ دوسری تہذیبوں میں ان ناموں کا تعلق فطری مظاہر (سیاروں اور یا ستاروں ) یا عقاید (دیوتاوں /دیویوں) سے ہے- جسطرح انگریزی میں
Sundayسورج کا دن
Monday چاند کا دن
Tuesday ٹیوس کا دن
Wednesday اوڈن کا دن
Thursday تھور کا دن
Friday فرگ کا دن
Saturdayسیٹرن کا دن
ٹیوس، اوڈن، تھور دیوتاوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں- اور فرگ ایک دیوی کے نام سے منسوب ہے- سیٹرن سیارے کا نام ہے- اس نام سے پتہ چلتا ہے- کہ یہ نام رومن والوں کی یاد گار ہے-
عہد نامہ عتیق اور جدید میں اختلاف کی وجہ سے یہودیوں کے مطابق خداوند کے ارام کا دن “شبات” اور عیسایوں کے مطابق “اتوار” ہے- اور یہ روایت صدیوں سے چلی ارہی ہے-
صنعتی انقلاب سے پہلے اتوار کا دن عبادت کے لیے مختص تھا- صنعتی انقلاب کے بعد عبادت کا عنصر پس منظر میں چلا گیا- چھ دن مسلسل کام کرنے کے بعد تفریح اور چھٹی منانے کا عنصر غالب اگیا-چونکہ دنیا کی تجارت پر ان قومیتوں کا قبضہ ہے- جن کا تعلق تاریخی اعتبار سے یہودی اور عیسایی روایتوں سے رہا ہے- اسلیے اتوار اور ہفتے کے دن کی چھٹی کا رواج رایج ہے- اور اسی روایت کو ان کی حکومتوں نے اپنایا ہے-
اسلام میں صحت مند بالغوں کے لیے چھٹی کا کویی تصور موجود نہیں- فقہ کی کتابوں میں جمعہ کی شرایط میں جو نکات درج ہیں- ان میں چھٹی کا ذکر موجود نہیں- البتہ حنفی فقہ کے مطابق حاکم یا اس کے نایب کا ہونا ضروری شرایط میں سے ہے- اس شرط کا مطلب یہ ہے- کہ لوگوں کے مسایل سنے جایں اور حل کیے جاییں-
سیر کی کتابوں میں بھی کہیں چھٹی کا تذکرہ موجود نہیں- کیونکہ اسلام جہد مسلسل کا نام ہے- اسلیے حضرت ابو بکر سے یہ قول منسوب ہے- کہ دنیا کے کام اس طرح کے جایں گویا کہ یہ دایمی نوعیت کے ہوں- اور اخرت کے کام اس طرح انجام دیے جاییں گویا کہ یہ کام اخری ہوں-
اس تمہید کے بعد اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے- کہ خالق اور مخلوق میں فرق یہ ہے- انسان تھک جاتا ہے- اس کو نیند کرنے کی ضرورت ہے- اس کی صحت کے لیے ارام کرنا ضروری ہے- اور کچھ وقت بال بچوں اور دوستوں کے ساتھ ایک خوشگوار ماحول میں گزارنا بھی ضر وری ہے- اس کا مطلب یہ ہے- کہ شریعت میں چھٹی نہ کرنے حکم موجود نہیں- بالفاظ دیگر انسان کو یہ ازادی دی گیی ہے- کہ اپنے حالات و ضروریات کے مطابق کام اور ارام کے لیے اوقات کا تعین کرے- قانون سازی کرے- حکومتی سطح پر اگر کسی دن کو چھٹی کے لیے مختص کیا جاے- تو دور حاضر میں اس کے اثرات مقامی اور علاقایی ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی بھی ہونگے- اور اس کا اثر تجارت اور کاروبار کے علاوہ معاشرت پر بھی پڑے گا-
اسلامی شناخت کی بنیادی خصوصیات کب کی گم ہوچکی ہیں- جمعہ کو سرکاری چھٹی کے طور پر مناییں یا نہ مناییں- جس ملک میں جھوٹ، بد عنوانی، رشوت ستانی، ملاوٹ، بچیوں پہ مظالم، گھریلو تشدد، ہزار اور ایک قسم کی چال بازیاں، سیاسی منافقتیں ، مذہبی ریاکاریاں پھر غیروں پر دشنام طرازیاں روز اخبارات اور ٹاک شوز کی زینت بنتی ہوں- اور جس مملکت کے “شرفا” بد عنوانی کے الزامات کے تحت جیلوں میں ہوں- اور جو بد عنوانی بھی سامنے اتی ہے- اربوں سے کم کی نہیں ہو-اس ملک میں جمعے کے دن کی چھٹی کو اسلامی تشخص کو مستحکم کرنے کے نام پر بحال کرنا کسی طربیے کا موضوع بن سکتا ہے- لیکن کسی بنیادی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکتا-


شیئر کریں: