Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غصیلے ہجوم، سرکاری ہسپتال اور ڈاکٹرز……….تحریر: ظفر احمد

Posted on
شیئر کریں:

کسی زمانے میں باربیرین ہوا کرتے تھے جو تہذیب یافتہ شہروں پر لوٹ مار کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ آج کل ہمارے عوام بھی کسی نہ کسی موڑ پر باربیرین کی طرح رویہ اپناتے ہیں۔ ہمارے عوام کو سب کچھ چاہئیے بنا کچھ کیے اور وہ بھی فوراً۔ چونکہ یہ سب ہو نہیں پاتے تو ہر وقت غصہ ہمارے ناک سے لیکر پاؤں تک چڑھا رہتا ہے۔ ہمارے نزدیک سب نااہل اور کاہل ہیں، ان کاہلوں میں سے ایک طبقہ ڈاکٹرز کی ہے جو بس قصائی ہیں۔

قصائی اسلئے کہ ایک تو ان کا رویہ ہمارے ساتھ ہمدردانہ نہیں ہوتا اور دوسرے یہ اتنے ٹیسٹ اور دوائیاں لکھتے ہیں جن کی ہمیں قتعاً ضرورت نہیں۔ ان سے بہتر تو وہ حکیم اور دم درود والے ہیں جو بغیر کسی ٹیسٹ کے اُدھر پھونک ماری اور اِدھر ہم ٹھیک ہو گئے۔ شفا ایسی کہ جیسے کبھی کوئی بیماری تھی ہی نہیں اور دوا بھی کیا صحت بخش جڑی بوٹیاں یا پھر حکمت والے تعویز۔ فیس کا نام تک نہیں۔ یہ الگ بات ہے انعام کے طور پر کوئی ایک دو ہزار روپے یا پھر زیادہ سے زیادہ ایک بکری بخشش کر دیں۔ ان ڈاکٹروں سے تو ہزار گنا بہتر ہیں جو اتنے پڑھ لکھ کر بھی درجنوں ٹیسٹ کے بغیر زکام تک کا علاج نہیں کر سکتے۔ اُوپر سے ان کے نخرے، مریضوں کے ساتھ بے حس رویے اوراسٹائل بس اللہ ہی پناہ دے ہسپتالوں سے۔ اسلیے جب موقع ملے ان قصائیوں کو کچھ اور نہیں تو کم از کم جی بھر کے گالیاں دینا تو ہمارا حق بنتا ہے۔

کچھ ایسے ہی ہیں ہمارے رویے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی جانب۔ ایک جانب ہسپتالوں کی خستہ حالی، سہولیات اور عملے کا فقدان تو دوسری جانب ہم عوام جو سر سےپاؤں تک غصے میں نہلائے ہوئے۔ ہمیں تمام مسائل کے حل چاہیئے فوراً بنا کسی تکلیف اور انتظار کے۔

بھائی کچھ ہسپتالوں کے نظام کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت ان میں بہتری لانے کے لیے اگر کسی نجی شعبے سے پارٹنرشپ کرے تو بھی شور، فیسوں میں کچھ اضافہ کر دے تو بھی شور۔ آخر ہم چاہتے کیا ہیں ؟ جدید دوئیوں سے متنفر ، ڈاکٹروں کی اسناد پر ہمیں شکوک ، قطار پر کھڑے ہونے سے ہمیں اعتراض اور اگر کر بھی لے تو ہسپتال عملے کے رویے پر احتجاج۔

آخر سول سوسائٹی نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ کیوں نہ ہم خود بھی کچھ کر لیں۔ہسپتالوں سے اگر ہم مطمئن نہیں تو کسی کلینک پر ہی چیک اپ کے لیے جائیں ، آخر کتنی فیس ہوتی ہے ایک ڈاکٹر کی ؟ زیادہ سے زیادہ پانچ سو ؟ اگر یہ بھی نہیں کر سکتےتو ہسپتال عملے کے ساتھ مل کر ہم خود بھی ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نجی شعبے کی پارٹنرشپ کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔

لیکن ہمارے رویے بتاتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کر سکتے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہم کبھی ہسپتالوں کی رخ ہی نہ کر لیں۔ جب دم درود اور تعویز گنڈوں سے سارے مسائل منٹوں میں حل ہو سکتے ہیں تو ان قصائیوں کے پاس جانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ ہسپتالوں کو آوارہ کتوں کی رہائش گاہ بنائیں اور ہسپتال کے عملوں کی حرام تنخواہوں کو بند کرکے قومی معیشت میں اضافہ کر لیں اور اپنے بچوں کو ڈاکٹرز اور نرسیں جیسی بے تعظیم پیشوں میں بھیجنے کی بجائے حکیموں یا پھر کسی بابا کی شاگردی پہ لگا دیں۔سارے مسائل خود بخود ایک پھونک مارتے ہی حل ہو جائیگے۔ آخر ہمیں ہر مسئلے کا فوری حل چاہیئے جو میں نے بتا دی۔


شیئر کریں: