Chitral Times

Nov 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لشمینیا کے مریضوں کے علاج کیلئے مفت ادوایات فراہم کردی گئی ۔۔۔۔وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ

Posted on
شیئر کریں:

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ )خیبرپختونخواکے وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ لشمینیا کے مریضوں کے علاج کیلئے ادوایات فراہم کردی گئی ہیں، ڈبلیو ایچ او نے مرض کے علاج کیلئے9500 وائلزفراہم کیے ہیں جبکہ ضرورت پڑنے پر مقامی مارکیٹ سے بھی دواخریدنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ مرض سے بچنے کیلئے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو آگاہی بھی دی جارہی ہے ،پیر کے روز ہیلتھ سیکرٹریٹ پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیرصحت نے کہا کہ صوبہ بھر بشمول قبائلی اضلاع میں لشمینیا کے اب تک کل 22439کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں قبائلی اضلاع میں 19702کیسز بھی شامل ہیں، اس موقع پر سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر فاروق جمیل، ڈی جی ہیلتھ ارشد خان،مشیربرائے صحت اصلاحات ڈاکٹر جواد واصف، پبلک ہیلتھ ڈائریکٹر شاہین آفریدی، ڈائریکٹوریٹ آف قبائلی اضلاع ڈائریکٹر ڈاکٹر کلیم اللہ اور میڈیا کوآرڈی نیٹر دانیال خان بھی موجود تھے۔ وزیرصحت ڈاکٹر ہشام کا کہنا تھا کہ لشمینیا کے اس ٹائپ کے مرض سے گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا نہ صرف علاج موجود ہے بلکہ جلد صحتیابی بھی ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ لشمینیاکیسز کی رپورٹنگ اور اس پر فوری ایکشن لینے کیلئے لشمینیاسیل قائم کردیا گیاجس میں ملیریا کنٹرول پروگرام کے ڈاکٹر رحمان آفریدی،ایکٹنگ پروگرام کوآرڈی نیٹر گلوبل ہیڈصلاح الدین اورڈی جی ہیلتھ سے ڈاکٹر فضل شامل ہیں۔ڈاکٹر ہشام کا کہنا تھا کہ مرض کی روک تھام کیلئے ایل ایچ ڈبلیو کے ذریعے گھر گھر آگاہی دی جارہی ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لشمینیا کی ادوایات ڈریپ کیساتھ رجسٹرڈ نہیں جس سے ابتداء میں ادوایات سپلائی میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تاہم مریضوں کو مقامی سطح پر علاج کا سلسلہ جاری رکھا گیا جبکہ ڈبلیو ایچ او نے بھی وائلز ویکسین فراہم کردیئے ہیں، وزیرصحت کا کہنا تھا کہ مریضوں کو تمام ادوایات مفت فراہم کررہے ہیں جبکہ وبائی امراض پر قابو پانے کیلئے پیشگی اقدامات بھی اٹھائیں جائیں گے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز کی رجسٹریشن کا سلسلہ جاری ہے جو ایک مشکل مرحلہ ہے اور اس کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، یہ مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بہت جلد ڈاکٹروں کو ان کے آبائی علاقوں میں تعینات کرینگے،جس سے دوردراز اضلاع میں ڈاکٹروں کی کمی کا مسئلہ ختم ہوگا جبکہ ایڈہاک بنیادوں پر بھی ڈاکٹر ز بھرتی کیے جائیں گے۔


شیئر کریں: