Chitral Times

May 26, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • موسمی تبدیلی اور ھمارے روئیے……تحریر: ام کلثوم

    February 10, 2019 at 8:54 pm

    خیالات اور جذبات انسان کے احساسات کا ایسا مجموعہ ھے، جو بسا اوقات یکساں نھیں ھوتی. کبھی کوئی چیز اداس کر دیتی ھے، تو کبھی ھم خوش ھوتے ھیں، یہ انسانی فطرت ھے. لیکن جب یہی احساسات اپنے دائرے سے تجاوز کر جائیں تو بیماری کے زمرے میں آ جا تےھیں. خوش ھو جانے والی بات پہ ذیادہ خوش اور بے معنی باتوں پہ ذیادہ توجہ دے کر اپنے اوپر اسکے منفی اثرات مرتب کرنا ھماری ذھنی کمزوری کو بیان کرتا ھے. انسانی جسم اللہ تعالی کی ایسی تخلیق ھے، جس کے بارے میں ھم جتنا کھوجتے ھیں اتنے ہی راز پالیتے ھیں. ھر نظام کا اپنا طے شدہ فعل ھے. ھمارے جسم میں موجود نیوروٹرانسمٹرز دراصل ھمارے موڈ کو کنٹرول کر رھی ھوتی ھیں. انکی صحیح مقدار میں پیداوار ھمارے نارمل رھنے کیلیے بہت ضروری ھے.
    لفظ ہومیواسٹیسس اسی بات کی وضاحت کرتا ھے کے ھمارے جسمانی کنڈیشن اور ماحولیاتی یکسانیت دونوں ساتھ مل کر ایک دوسرے کی مدد کرتے ھیں تا کہ ھم تندرست انداز میں اپنی زندگی فائدہ مند بنائیں. کچھ افراد بہت جلد ذھنی بیماری کا شکار ھو جاتے ھیں، کیونکہ خاندانی تاریخ جانچنے سے اس بات کا پتہ چل جاتا ھے کے انکے خاندان میں پہلے سے یہ مسلہ موجود ھے اور آپکی جینیات کا آپ پہ سب سے زیادہ اثر ھوتا ھے.،

    ڈپریشن آج کل زیادہ پائے جا نے والی ذہنی بیماری میں سے ایک ھے. سیسونل افکٹو ڈس ارڈر ڈپریشن کی اقسام میں سے ایک ھے، جو سال کے کسی بھی سیزن میں انسان کو متاثر کرسکتی ھے.عموما اس سیزن کے اختتام کے بعد انسان دوبارہ اپنی روٹین میں آجاتا ھے. لیکن ایک مخصوص سیزن میں ڈپریشن کے اثرات مرتب ھوتے ھیں. زیادہ تر ڈپریشن موسم خزاں کے اواخر سے لیکر موسم بہار کے آوائل تک اثرانداز ہوتی ھے. بائی پولر نامی ذھنی بیماری کا مطلب ” اختتام قطبی دو” ھے،جس میں انسان کبھی خود کو آسمان کی بلندیوں میں پاتا ھے، تو کبھی اپنی زندگی سے تنگ آجاتا ھے. اس اچانک موڈ شفٹنگ سے آپکی سماجی، پیشہ وارانہ ذندگی اور آپکی صحت پر نمایاں اثر پڑھتا ھے. اس بیماری میں ڈپریشن کے علامات موسم سرما میں، جبکہ جنونیت کے آثار موسم گرما میں اپنے عروج پہ ھوتے ھیں.

    seasonal effective disorder کسی کو بھی ھوسکتا ھے، لیکن ذیادہ تر مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں پایا جاتا ھے. 55-15 سال کی عمر کے افراد اس بیماری کا تجربہ کر سکتے ھیں. اسکی ایک خاص وجہ آپکی نقل مکانی ھے. یعنی ایسی جگہ منتقلی جہاں موسم سرما میں دن کافی
    چھوٹے پڑتے ھوں اور دن کے اوقات اتنی روشنی نہ پڑتی ھو. دوسری ابھرتی وجہ “میلاٹونین” نامی ہارمون کی ذیادہ مقداد میں پیداوار ھے. موسم سرما میں روشنی نہ پڑنے کی وجہ سے اسکی پیداوار ذیادہ ھوجاتی ھے جو ڈپریشن کا سبب بن سکتی ھے.

    میلاٹونین ھمارے قدرتی حیاتیاتی گھڑی کی مخصوص کیے ھوئے سونے اور جاگنے کے نظام کو ترتیب دیتا ھے.اسکی وجہ سے ھمارے جسم میں موجود ایک اور نیوروٹرانسمٹر سیروٹونین کی پیداوار میں مسائل آجاتے ھیں،جو ھمارے موڈ پہ اثر انداز ھوتا ھے اور ڈپریشن ھوجاتا ھے.

    ماہرین کو اب تک اس بیماری کی مخصوص وجہ دریافت نہیں ھوئی، البتہ ان میں سے ایک وجہ کا ھونا ممکن ھے.اب آپکو کیسےعلم ھوگا کہ آپکو یہ موسمیاتی تبدیلی متاثر کر رھی ھے؟. مندرجہ ذیل علامات اگر آپکو ابھرتے ھوئے نظر آئیں تو فوری طور پر سائکاٹرسٹ/ سائکالوجسٹ سے رجوع کریں . جن میں سے،

    ١) اداسی یا مایوسی محسوس کرنا

    ٢)وزن کی کمی یا ذیادتی

    ٣)سرگرمیوں میں دل نہ لگنا

    ٤)نیند کی کمی یا ذیادتی

    ٥)کمزوری یا تھکاوٹ محسوس کرنا

    ٦)چڑچڑاپن

    )توجہ نہ دے پانا

    ایک ذھنی بیماری آپ کو پوری طرح سے مفلوج کر سکتی ھے. جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذھنی تندرستی کا ھونا بہت ضروری ھے. ڈپریشن سے بچنے کیلیے آپکو چاھیے کہ خود کی صلاحیتوں کو بروےکار لایئں اور خود کو مصروف رکھیں،

    منفی باتوں پر ذیادہ وقت ضائع نہ کریں، سماجی رابطے رکھیں، اپنا روٹین سیٹ کریں، کسی سے ذیادہ توقعات نہ رکھیں، ہمیشہ اچھے کی امید رکھیں اور اپنے اندر کے موسم کو صدا بہار رکھیں. کسی نے کیا خوب کہا ھے کہ،

    جیسا موڈ ھو ویسا منظر ھوتا ھے
    موسم تو انسان کے اندر ھوتا ھے

  • error: Content is protected !!