Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کنٹرکٹرز برادری کے جائز مطالبات تسلیم کئے جائیں،صبرکا مذید امتحان نہ لیاجائے.ارشدشاہین

Posted on
شیئر کریں:

دیر بالا (چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی حکومت کنٹرکٹرز برادری کے تمام جائز مطالبات تسلیم کریں اور انکو مزید احتجاجوں پر مجبور نہ کریں ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز چیئرمین کنٹرکٹرز ایسوسی ایشن دیر بالاارشد شاہین نے اپنے ٹھیکدار ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس میں کیا ۔
چیئر مین نے کہا کہ ٹھیکہ دار برادری نے صوبائی حکومت ، متعلقہ محکمہ اور دوسرے اعلیٰ افسران کو اپنے تمام جائز مطالبات سے آگاہ کے ہیں انہوں نے بتایا کہ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن صوبائی حکومت سے تاحال اپنے مطالبات حل کرنے کے بارے میں مطمئن نہیں کیونکہ ابھی تک حکومت نے انکے مسائل پر کچھ غور نہیں کیا۔ ارشد شاہین کا مزید کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک بار پھر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن دیر بالا کی ایک وفد بہت جلد پشاور کا دورہ کرکے چیف منسٹر، صوبائی وزیر بلدیات ،سیکرٹری بلدیات ،منسٹر سی اینڈ ڈبلیو اور سیکرٹری سی این ڈبلیو سے ملاقات کرینگے اور انکو اپنے مطا لبات جن میں مارکیٹ ریٹ شیڈول 2019 فی الفور لاگو کرنا،KPRA کا 15فیصد ٹیکس اور رجسٹریشن ختم کرنا ،۱۰ فیصد سے زیادہ below جانے والا ٹینڈر کینسل کیے جانے والا notificationبحال کیا جانا، جاری کاموں کے لیے ۱۰۰ فیصد فنڈز جاری کرنا ،مہنگائی کے حساب سے جاری سارے کاموں پر esclationدیا جانا، فنڈز نہ ہو نے کے صورت میں سکیم کا ٹینڈر نہ کیا جانا،جو اسکیم فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو اور ٹھیکہ دار درخواست دے تو اسکی کال ڈپازٹ واپس کیا جانا ، آئٹم ریٹ سسٹم بحال کیا جانا، ہر محکمہ کی سالانہ فیس ختم کیا جانا اور PEC پر بغیر سالانہ فیس کے ہر محکمہ میںenlistmentکیا جانا وغیرہ شامل ہیں سے اگاہ کرینگے۔ ارشد شاہین نے کہا کہ دیر ٹاون میں کس روڈ ، میراشپٹی اور ہیل سٹیشن اے ڈی پی میں سی ایم ڈائریکٹیوز میں کنٹریکٹرز کے کروڑوں روپے کے بقایاجات ہے جسکے حصول کیلے ٹھیکدار در بدر کے ٹھوکری کھا رہا ہے چیئرمین نے مزید کہا کہ ٹی ایم اے واڑی میں دو سال پہلے ٹینڈرز ہوئے ہیں جن میں ٹھیکداروں نے میلینز روپے کال ٹیپازٹ جمع کی ہے نہ تو ان سکیموں میں فنڈز آئے ہیں اور نہ محکمہ کال ٹیپازٹ واپس کررہے ہیں لہذا حکومت اس میں جلد ازجلد فنڈز جاری کرنے کے احکامات جاری کریں اور کنٹریکٹرز برادری کے صبر کا مزید امتحان نہ لیں۔


شیئر کریں: