Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں موسمیاتی تبدیلی اور اس کا حل…… تحریر: مسرور حسین حیات

شیئر کریں:

کیا قوم اب بھی خواب غفلت سے جا گی نہیں ہے ۔ کہ مو سمیاتی تبدیلی انسانی صحت پر اثر انداز ہو تی جا رہی ہے ۔ اور ما ہرین چترال میں خود کشی کی بڑھتی ہو ئی وا قعات کو بھی مو سمیاتی تبدیلی کی وجہ بتا رہے ہیں ۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضا فے کی وجہ سے گلیشر پگھل رہے ہیں جو مستقبل میں عذا ئی و آبی قلت کا سبب بن سکتی ہیں ۔ خدا نحواستہ اگر یہاں گلیشر پگھل کر ختم ہو جا ئیں ۔ تو سطح سمندر سے بلندی کی وجہ سے یہاں زیر زمین پا نی بھی میسر نہیں ہو گا ۔ گر میوں میں مون سون کی بارشیں نہیں ہو تی ہیں آبپاشی کے لئے پا نی اپنی جگہ پینے کے لئے بھی پا نی کا بندو بست کس طرح کیا جائے گا ؟ اس لئے اب وقت آگیا ہے ۔ ایک ذمہ دار حکومت ہے ۔ مو قع کو منا سب سمجھ کر کوئی ایسی حکمت عملی تیار کرنی ہو گی جس سے مو سمیاتی تبدیلی پر قا بو پایا جاسکے ۔ اس کے لئے مندر جہ ذیل تجا ویز پر غور کیا جا سکتا ہے ۔

(1)مختلف جگہوں پر چھوٹے چھوٹے ڈیم تعمیر کئیے جائیں ۔ جس سے پا نی ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی بھی پیدا کی جائیگی ۔ اس پانی سے بنجر زمینو ں کو سیراب کی جا سکے گی ۔ یہ ڈیمز نہ صر ف بجلی ، زراعت ، شجر کا ری وغیر ہ کے لئے فائدہ مند ہونگے ۔ بلکہ آبی جانوروں کے لیے پناہ گاہ اور علا قے کی خوبصورتی میں بھی نما یا ں اضا فہ کر لینگے ۔

(2)چترال میں ایندھن کے طور پر لکڑی کا استعمال کیا جا تا ہے جس سے جنگلات کی بے دریع کٹا ئی کے علا وہ لا کھوں کی آبادی سے نکلتا ہوا دھوا ں سے نہ صرف ائیر پا لو شن میں بے انتہا اضا فہ ہو تا ہے ۔ بلکہ یہ گلیشر پگھلنے کی بہت بڑی وجہ بن جا تی ہے ۔ ایسے حا لات میں حکومت کو چاہئیے کہ کم از کم لکڑی کے متبادل سستی بجلی اور گیس فراہم کرے تاکہ فضائی الودگی سے ما حول کو بچا یا جا سکے ۔

(3) قاقلشٹ اپر چترال کے درمیاں میں ایک وسیع و عریض میدان ہے ۔ جس کو زر عی ٹیکنا لو جی کی مدد سے پا نی فراہم کیا جا سکتا ہے ۔ اور وہاں بجائے انفسٹر کچر کے پھل دار پو دوں سے سجا کر دنیا کا خوبصورت ترین سیا حتی مقام بنا یا جا سکتا ہے ۔اور یہ جگہ چالیس سے زائد قسم کے پھل دار پو دوں کے لئے انتہائی مو زون جگہ ہے ۔ دو دریا ؤں کے سنگم میں مو جو د یہ میدان اپنی چاروں طرف گلیشر سے ڈھکی سفید پوش پہاڑوں سے صرف دو سے تین میل کا فا صلہ رکھتی ہے ۔ اس میں شجر کاری سے درجہ حرارت متوازن ہوگااور فضائی الودگی میں کمی ہو گی ۔

(4)مویشی پالنے کا رجحا ن بڑ ھتا جا رہا ہے ۔ ایسے نا منا سب وقت میں بعض جگہوں پر غیر ضروری مال مویشی پالنا نقصان دہ ہو گا جس کا پورا انحصار چراگاہوں اور جنگلات پر ہے ۔ اسی وجہ سے چرا گاہوں میں نبا تات اور جنگلی حیوا نات کے انواع کا خاتمہ ہو رہا ہے ۔ نئے پودے اگنے نہیں دیتے کوئی ایسا قا نون رکھا جائے کہ ایسے علا قوں میں مال مویشی محدود کی جائے ۔ یا خطرناک جگہوں میں مکمل پا بندی لگا ئی جائے ۔اور حکومت وقت کی طرف سے کوئی پروجیکٹ /اسکیم لایا جائے ۔ جس سے شجر کا ری میں مد د ملے ۔ دیہی تنظیمیں بنائی جائیں جس کو حکومت کی مدد حا صل ہو تنظیم کا کا م علا قے کے عوام کومو سمی تغیرات اورآنے والے خطرات سے اگاہ کریں ۔ اور عوام میں شجر کاری کی دلچسپی پیدا کریں ۔

اس سلسلے میں بلین ٹری سو نا می کو محکمہ جنگلات نے نا کام بنا دیا اب سر سبز و شا داب پا کستان کا نیا منصوبہ آرہا ہے یہ منصوبہ محکمہ جنگلات سے لیکر ٹی ایم ایز اور یو نین کونسلوں کو دید یا جائے ۔ محکمہ جنگلات پر سے لو گوں کا اعتماد اُ ٹھ چکا ہے ۔ ان اقدا مات سے چترال میں مو سمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات اور نقصا نات کا ازا لہ کیا جا سکتا ہے ۔

Kaghlasht and climate change 3

Kaghlasht and climate change 1


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
18556