Chitral Times

Feb 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لواری ٹنل تو بن گیا لیکن میری قسمت نہیں بدلی۔…..سعید اللہ جان

Posted on
شیئر کریں:

جولائی ۱۹۶۲ء کا واقعہ ہے ۔ہم چندساتھی کالج میں داخلہ کے لئے پشاور کی طرف عازم سفر ہوے ایک جیپ کے ذریعے سفر کا اعاز ہوا۔عشریت تک تو جیپ چلی۔وہاں سے اگے سڑک ٹوٹ جانے کی وجہ سے ہمیں پیدل سفر کرنا پڑا۔رات بھر لواری سے پیدل سفر کر تے ہوے ہم دیر پہنچ گئے۔

لواری ٹاپ سے سفر کرنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔اُسکے بعد اتے جاتے لواری کی صعو بتیں برداشت کرتا رہا۔اُس زمانے میں مرحوم اتالیق جعفر علی شاہ صاحب قومی اسمبلی میں چترال کے نمائیدہ ہواکرتے تھے۔مرحوم اسمبلی میں لواری ٹنل کے لئے اواز اُٹھا تے رہے اور میرے دل مٰیں یہ اُمید پیدا ہو گئی کہ چونکہ اواز اٹھی ہے ایک نہ ایک دن ایسا بھی وقت ائیگاکہ لواری ٹنل بن جائیگااور اگر ہم نہیں تو ہمارے بچے وہ دن دیکھینگے اور انکو لواری کی صعوبتوں سے چھٹکارا مل جائیگا۔پھر اللہ کا کرم ایسا ہوا کہ میری زندگی ہی میں یہ ٹنل بن گیا اور مجھے کئی بار اس ٹنل سے سفر کرنے کا موقع ملا ۔بلا شبہ اس ٹنل کا بنناایک بڑا کار نا مہ ہے ۔اسکے لئے ہم اس ٹنل کے سلسلے میں کوشش کر نے والوں کی جتنی بھی تعریف کریں کم ہے۔

اگر میں نے یہ کہا کہ اس ٹنل کے بننے سے مُجھے کوئی فائیدہ نہیں ہوا تو یہ بڑی نا انصافی اور ناشکری ہوگی تاہم موسم سرما میں بارش کے دن دیر سے ٹنل تک پہنچنے میں جو اذیت مجھے بر داشت کر ناپڑتی ہے اسکی وجہ سے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ٹنل تو بن گیا لیکن میری قسمت نہیں بدلی۔

راولپنڈی صدر سے اسلام اباد تک اگر مٹرو روٹ بنایا جاسکتا ہے تو دیر سے لواری ٹنل تک سڑک کو خطرناک مقامات پر چھت ڈال کر ٹریفک کیلئے محفوظ کرنا بھی کوئی بہت مشکل کام نہیں ہو گالیکن اسکے لئے حکمران ایسا ہونا ضروری جس کے دل میں لو گوں کی تکلیف محسوس کرنے کا گوشہ موجود ہو۔

اللہ پاک سے دُعا ہے کہ وہ ہمارے نئے حکمرانوں کے دلوں میں ایسا گوشہ پیدا کرے تاکہ وہ نہ صرف میری بلکہ میرے جیسے ہزاروں چترالی اپنے بھائیوں اوربہنوں کی اس اذیت ناک اوردردناک تکلیف کو محسوس کریں۔۔امین

سعیداللہ جان ۔۔۔۔۔۔کوراغ
ضلع چترال۔


شیئر کریں: