Chitral Times

Dec 7, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یوم یکجہتی کشمیرکے حوالے سے گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہائی سکول چترال میں تقریب

Posted on
شیئر کریں:

چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) ہر سال 5 فروری کو، پاکستانی عوام اور حکمران طبقہ کی طرف سے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کیلئے، یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں، ایلمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختوا کی ہدایت پر محکمہ تعلیم چترال نے گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول (بوائز) چترال میں ایک انتہائی شاندار اور پروقار تقریب کا اہتمام کیا۔ چترال کے معروف سیاسی، سماجی، کاروباری، سرکاری و نیم سرکاریاور مذہبی شخصیات نے تقریب کو رونق بخشی۔ محکمہ تعلیم چترال کے افسران بالا او ر شہید اسامہ وڑائچ اکیڈمی کے طلباء و طالبات نے بھی اپنی شرکت سے تقریب کو چار چاندلگا دیے۔

گورنمنٹ سینٹینیل ماڈل ہائی سکول (بوائز) چترال اور شہید اسامہ وڑائچ اکیڈمی کے اساتذہ کی کثیرتعداد بھی سٹیج ُپررونق افروز تھے۔ ٹھیک 10بجے صبح پورے ایک منٹ کے لئے مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ بعدازاں اللہ تبارک وتعالی کے بابرکت نام سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ شہید اسامہ وڑائچ اکیڈمی کے ڈائریکٹر فدا الرحمن نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیے۔ آپ نے کہا کہ کشمیریوں کے دل پاکستاں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور کشمیر کی آزادی تک تکمیل پاکستان کا خواب ادھورا ہے۔ اشہید اسامہ وڑائچ اکیڈمی کی طالبہ ام حبیبہ نے نبی ﷺ کے حٖضور عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ پرنسپل سکول ہذا شاھد جلال نے شرکاء مجلس کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ آپ نے کشمیر میں آزادی کی مختصر تاریخ بیاں کی اور آج کے دن کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ آپ نے بتایا کہ کشمیر کی حسن سے مبہوت ہو کر مغل بادشاہ جہانگیر نے بے ساختہ امیر خسرو کے یہ فارسی اشعار پڑھے تھے کہ
گر فردوس بر روئے زمیں است
ہمیں است و، ہمیں است و ہمیں است

اور اپنی تقریر کا اختتام اس شعر پر کیا کہ ـــــــ

ظلم پھر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جا تا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

پرنسپل شاھد جلال کے استقبالیہ خطبے کے بعد طلباء نے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت کی داستانوں، کشمیریوں کی لازوال قربانیوں، عالمی برداری کی مجرمانہ خاموشی ، بھارت کی ڈھٹائی اور دیدہ دلیری اور اقوام متحدہ کی بے حسی اور بے بسی کا تذکرہ اپنے تقاریر کے ذریعے بڑے اچھے اور خوبصورت انداز میں پیش کیے اور حاضریں سے خوب داد وسمیٹ لئے۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشںافیسرمحترم حافظ نور اللہ صاحب اس شاندار تقریب کے مہماں خصوصی تھے۔ آپ نے اپنی تقریر میں کہا کہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ بین الاقوامی دنیا کی عدم توجہی اور بے رخی کی بدولت مسلہ کشمیر گزشتہ ستر سالوں سے التواء کا شکار ہے اور اس سلسلے میں کہیں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی۔ مسلہ کشمیر پاک بھارت کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ ہے اور چار جنگوں کی شکل میں اس کشیدگی کی قیمت بھی ہم ادا کر چکے ہیں۔ پاکستا ن اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں تو اب جنگ کا سوچنا بھی خودکشی کے مترادف ہوگا، اس لئے دونوں ملکوں کے حق میں بہتر ہوگا کہ اس مسلے کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جائے اور امن کو ایک موقع دیا جائے۔آپ نے اس توقع کا اظہار بھی کیاکہ کشمیر کی آزادی کا سورج ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ،انشاء اللہ۔
محترم کمال الدیں ، سابق پرنسپل گورنمنٹ سنٹینیل ہائی سکول چترال نے اپنے صدارتی خطبے میں جہاد کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ حق اور باطل کے درمیاں یہ کشمکش ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ تقریب کے آخر میں متفقہ طور پر یہ قراداد منظور کیا گیا کہ
۱۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
۲۔کشمیر مذہبی، جغرافیائی، تہذیبی اور ثقافتی لحاظ سے پاکستان کا حصہ ہے۔
۳۔پاکستان کشمیری عوام کی حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی۔
۴۔ کشمیری عوام کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور مقبوضہ وادی میں آزادی کا سورج بہت جلد طلوع ہوگا۔
۵۔ پاکستان کی عوام اور حکومت کشمیری عوام کی استقامت اور قربانیوں پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں اور ان سے بھرپور یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں
۶۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتی رہے گی۔

قرارداد کی منطوری کے بعد دعا کے ساتھ یہ شاندار اور پروقار تقریب اپنے اختتام کو پہنچا۔

kashmir solidariyt day obserd gcmhs chitral3


شیئر کریں: