Chitral Times

Jan 22, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جو لوگ سرکاری نمبر پلیٹ لگانے کے مجاز نہیں انکو کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ لگانا ہوگا..محکمہ ایکسائز

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )چھ سو سرکاری اہلکاروں کی گاڑیوں سے گرین نمبر پلیٹ ہٹا دئے گئے، جو لوگ سرکاری نمبر پلیٹ لگانے کے مجاز نہیں انکو کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ لگانا ہوگا، صوبہ بھر میں سب گاڑیوں پر یکساں کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس لگی ہونگیں، گیارہ فروری کے بعد موٹر وہیکل رجسٹریشن قانون کے تحت فی گاڑی پانچ ہزار جرمانہ ہوگا، صوبہ بھر میں لگے سو سے زائد چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے دوران دس ہزار گاڑیوں کے نان کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ اتار لئے گئے، گرین نمبر پلیٹ کے مجاز نہ ہونے پر تین وی سیز کے گرین نمبر پلیٹ بھی اتار لئے گئے۔
سیکرٹری و ڈی جی ایکسائز ٹیکسیشن کی ہدایت پر پیر سے صوبہ بھر میں ارریگولر، سیلف میڈ، جعلی، گرین و نان کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ کیخلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ریاض خان محسود نے یہاں سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گیارہ فروری تک آگاہی مہم چلائی جارہی ہے جس کے بعد فی گاڑی پانچ ہزار جرمانہ عائد ہوگا اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں کی جائیگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ سرکاری حضرات جو گرین نمبرپلیٹ لگانے کے مجاز نہیں وہ اپنے گاڑی کا کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ استعمال کریں۔
سیکرٹری ایکسائز کا مزید کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر کریک ڈاون جاری رہے گا اور ہرٍ ضلع کے داخلی و خارجی راستوں پر ایکسائز سکواڈ کی چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں جو کہ گاڑیوں کی نقل و حمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں، صوبے کے بندوبستی علاقوں سے چھ ماہ کے اندر اندر غیررجسٹرڈ، نان کسٹم پیڈ اور جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کا خاتمہ کرینگے۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن عاطف خان کا کہنا تھا کہ ہمارا وژن صوبے کے جاری کردہ نمبرپلیٹوں کی دیگر صوبوں میں ساکھ کی بحالی ہے جس کیلئے یہ آپریشن ناگزیر ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کی وجہ سے دیگر صوبوں میں ہماری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو تنگ کیا جاتا ہے جو کہ صوبے کیلئے بدنامی کا باعث بنتی ہے۔نان کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹوں کیخلاف جاری کریک ڈاون کی تفصیلات دیتے ہوئے ایکسائز انٹلیجنس بیورو کے سربراہ نوید باچاکا کہنا تھا کہ صوبہ بھر میں دس ہزار سے زائد گاڑیوں کے نمبر پلیٹ اتار دئے گئے ہیں صوبے کے مختلف اضلاع میں سو سے زائد چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں جہاں پر نان کمپیوٹرائزڈ، خودساختہ اور غیرمجاز سرکاری نمبرپلیٹوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب ڈائریکٹر پشاور ریجن خالد خان کا کہنا تھا کہ پشاور شہر کے داخلی و خارجی استوں پر پانچ چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جہاں چار ہزار سے زائد گاڑیوں کے نمبر پلیٹیں اتار لی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین نمبر پلیٹ کا سب سے زیادہ بے جا استعمال پشاور میں ہے اور پہلے روز پشاور کی مختلف چیک پوسٹوں پر تین سو سے زائد غیر مجاز سرکاری گاڑیوں کے نمبر پلیٹ اتار لئے گئے۔ پشاور شہر میں مختلف چیکنگ کے دوران تین وائس چانسلرز کی گاڑیوں کے گرین نمبر پلیٹ بھی اتار لئے گئے ۔مجوزہ آپریشن صوبہ بھر میں گیارہ فروری تک آگاہی مہم کے طور پر چلائی جائیگی جبکہ اسکے بعد فی گاڑی موٹر وہیکل آرڈیننس کے تحت پانچ ہزار جرمانہ عائد ہوگا جبکہ دیگر قوانین کی خلاف ورزی قوانین کی روشنی میں تادیبی کارروائی ہوگی۔


شیئر کریں: