Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پہلی ہیلتھ پالیسی کے نفاذ سے شہریوں کوبلاتفریق معیاری صحت سہولیات فراہم ہونگے..وزیرصحت

شیئر کریں:

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ)خیبرپختونخوا کے وزیرصحت ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ صوبے کی پہلی ہیلتھ پالیسی رات ورات بنائی گئی ہے بلکہ پانچ ماہ کے طویل عرصہ میں تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز اورماہرین کے ساتھ باہمی مشاورت اوراجلاسوں کے بعد اس پالیسی کی منظوری دی گئی،بین الاقوامی ادارہ ڈی آئی ایف ڈی جوہیلتھ ایڈوائزری کونسل کا ممبر بھی ہے ،نے پہلی ہیلتھ پالیسی بنانے پر خیبرپختونخوا حکومت کو 6.4ملین پاؤنڈزبطورانعام دیئے جو بین الاقوامی اداروں کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت اور محکمہ صحت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ان فنڈزپرخیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں 200بی ایچ یوز کو اپ گریڈکیاجائے گا،پالیسی کے تحت خیبرپختونخوااور قبائلی اضلاع میں پرائمری و سکینڈری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مضبوط کیا جائے گا جبکہ صحت شعبے میں احتساب وشفافیت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ بچوں وحاملہ خواتین میں غذائی کمی پرقابو پانے سمیت متعدی اور غیرمتعدی امراض کی روک تھام اورہسپتالوں کی مینجمنٹ اورہیومن ریسورس مینجمنٹ کی بہتری کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے ،پالیسی کے نفاذ سے تمام شہریوں کو بلاتفریق ضروری اور معیاری صحت سہولیات کی فراہمی یقینی ہوسکے گی جبکہ اس بات کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے گی کہ پالیسی پرمن وعن عملدرآمدہوسکے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روزہیلتھ سیکرٹریٹ پشاور میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران کیا ، اس موقع پر سیکرٹری صحت ڈاکٹر فاروق جمیل، مشیرصحت ڈاکٹر جواد واصف اورمیڈیا کوآرڈی نیٹر دانیال خان بھی موجود تھے۔وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ جب انتیس اگست کو انہوں نے بحیثیت صوبائی وزیرچارج سنبھالا تو انہوں نے پہلی ہیلتھ پالیسی پر باقاعدہ کام کا آغاز کیا، جس کیلئے صوبے کی پہلی ہیلتھ پالیسی تیار کرنے کیلئے ہیلتھ پالیسی ایڈوائزری کونسل (HPAC)بنائی گئی جسکے نمائندوں میں وزیرصحت خیبرپختونخوا، سیکرٹری ہیلتھ، سیکرٹری پاپولیشن ویلفیئر خیبرپختونخوا، چیف پلاننگ آفیسر ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، چیف ایچ ایس آر یو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسزکے پی، ڈین خیبرمیڈیکل کالج پشاور،ڈائریکٹر جنرل پی ایچ ایس اے، ایگزیکٹیوڈائریکٹر ہیلتھ سروسز اکیڈمی، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد،کنسلٹنٹ لیڈی ریڈنگ ہسپتال، ڈائریکٹر سوشل ہیلتھ پروٹیکشن انیشیٹیو، ڈائریکٹر انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ، ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ اورڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) جی او سی، جیکا، کے ایف ڈبلیو، یوایس ایڈ، ورلڈ بینک، ڈبلیو ایچ او، یورپین یونین، آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک اور یواین ایف پی اے کے نمائندے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانچ ماہ کے عرصہ میں مانیٹرنگ ٹیموں نے1100ہیلتھ فیسیلیٹیز میں عملے اور آلات کی کمی، آلات کے فعال یا غیرفعال ہونے سمیت دیگر مسائل کا جائزہ لیااوراس مناسبت سے انکی رینکنگ کی گئی ، ایڈوائزری کونسل کے متعدد اجلاس کے بعد ان نمائندوں کی آراء،تجاویز اورسفارشات کی روشنی میں ہیلتھ پالیسی ڈرافٹ تیار کی گئی جس میں ایک عام آدمی کی حیثیت سے انہوں نے بھی اپنی سفارشات پیش کی جس کے بعد صوبائی کابینہ نے اسکی باقاعدہ منظوری دی ۔ڈاکٹر ہشام کا کہناتھا کہ ہیلتھ پالیسی کے تحت ایم ٹی آئیز سمیت صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں میں ہیلتھ کیئر سسٹم خصوصا پرائمری وسکینڈری ہیلتھ کئیرکو بہترکیا جائے گا،تمام شہریوں کو ضروری، معیاری،منصفانہ اورپائیدار طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور احتساب وشفافیت کیساتھ ساتھ ہیومن ریسورس مینجمنٹ،گورننس اورہسپتالوں میں مینجمنٹ سسٹم کو بہتربنانا، ہسپتالوں میں مریضوں اور عملے کیلئے صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا،متعدی اور غیرمتعدی امراض کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھانا خصوصا بیماریوں سے جلد متاثرہونے والے افراداورکمیونیٹیوں میں بیماریوں کے تدارک ،پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اسہال، ہیضہ، خسرہ، ملیریا، غذائی کمی، اے آرآئی پرایک حکمت عملی کے تحت قابو پانا ،تین سال سے کم عمربچوں اور حاملہ خواتین میں غذائی کمی کے مسئلے پر قابوپانے کیلئے ایک پروگرام شروع کرنا،محکمہ صحت دفاتر اور ہسپتالوں میں خواتین ملازمین کیلئے ویمن فرینڈلی ماحول یقینی بنانا،صحت شعبے کیلئے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا،صوبے اورقبائلی اضلاع میں ایمونائزیشن کوریج بڑھانا،صحت سروسز کو بہتربنانے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کی خدمات حاصل کرنا، ایمرجنسی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری رسپونس میکنزم ترتیب دیناوغیرہ کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے ۔ متعلقہ اہداف کے حصول کیلئے سٹیک ہولڈرز اور پارٹنرز کا تعاون حاصل کیا جائے گا،ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت کیلئے صحت کے شعبے میں کمزور ریفرل پالیسی، غذائی کمی، ماں وبچے کی خراب صحت، کم ایمونائزیشن کوریج، بڑھتی آبادی، ذرائع آمدن بڑھاناوغیرہ بڑے چیلنجز ہیں جن سے حکمت عملی کے تحت نمٹا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ صحت کے تمام کیڈرز کے ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کی بہتری ، میڈیکل اور نرسنگ ایجوکیشن کو مزیدمعیاری بنانا ، فارماسوٹیکل انڈسٹری کی بہتری کے ساتھ ساتھ صحت شعبے میں خودمختاراداروں کومزید مضبوط کرنے اورطبی سروسز کی بہترفراہمی کیلئے فنڈز میں اضافہ کیاجائے گا ۔وزیرصحت کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کی ہیلتھ سیکٹر ریفارمز یونٹ اورہیلتھ پالیسی ایڈوائزری کونسل پالیسی پرعملدرآمد میں تعاون فراہم کرے گی اور اس پالیسی کے ذریعے لوگوں کو صحت کی معیاری سہولیات تک رسائی ممکن بنائی جائے گی،انہوں نے کہاکہ پالیسی سے غریب لوگ زیادہ مستفید ہوں گے جبکہ ہیلتھ سیکٹرمیں خامیوں اورکمیوں پرقابوپایاجاسکے گا، اسی طرح کمیونیکیبل اورنان کمیونیکیبل ڈیزیز کی روک تھام سمیت پریوینٹیو ہیلتھ کیئرسسٹم پر بھی بھرپور توجہ دی جائے گی ۔ وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ پالیسی پر عملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیشن میکنزم بھی ترتیب دیاجائے گا، موثر مانیٹرنگ اورنگرانی کے ذریعے پالیسی پر پروگریس سے متعلق اندازہ ہوسکے گا۔ ہیلتھ پالیسی ایڈوائزری کونسل کے ہرتین ماہ بعد باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ وہ پالیسی پر عملدرآمد کاجائزہ لے ، وزیرصحت نے کہا کہ بہتر مینجمنٹ ،شفافیت اور احتساب کے تصور کے بغیر ہسپتالوں کی حالت ٹھیک نہیں ہوسکتی لہذا ان شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں ملک میں پہلی بارصوبائی حکومت ہیلتھ پالیسی بنانے میں کامیاب ہوئی ہے اور عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبے اورقبائلی اضلاع کے تمام لوگوں کو معیاری سہولیات کی فراہمی ان کی گھروں کی دہلیز پر یقینی بنائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سمیت تمام بڑے جاری منصوبوں کو رواں سال مکمل کرلیا جائے گا اوران میں مرحلہ وار سروسز کی فراہمی شروع کی جائے گی جس سے نہ صرف محکمہ کو آمدنی حاصل ہوگی بلکہ لوگوں کو معیاری علاج کی فراہمی بھی ممکن ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ بڑے منصوبوں میں تاخیر کی بڑی وجہ وسائل کی کمی بھی ہے ، تحریک انصاف حکومت نے ایک ایسے وقت میں حکومت سنبھالی جب ملک کو مالی بحران کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں عملے کی کمی دورکرنے کیلئے ایڈہاک بنیادوں پر بھرتیاں کرنے کیساتھ ساتھ موجودہ انفرسٹرکچر کوبہتر بنائیں گے ۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں ترمیم ان ہسپتالوں میں مزید بہتری اور چیک اینڈبلینس کا نظام بہتربنانے کیلئے کیا گیاہے جس کے ذریعے ان کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہ لوگوں کے صحت کے معاملے میں پریشر برداشت کرینگے نہ کسی کی سفارش مانیں گے بلکہ ڈاکٹروں کو متعلقہ اضلاع میں بھیجیں گے۔ قبائلی اضلاع سے متعلق سوال پر وزیرصحت نے کہا کہ وہاں کچھ ہسپتال بہتر ہیں تاہم وہاں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہا کہ انکی لیڈرشپ، بیوروکریسی اور سکیورٹی فورسز ایک پیج پر ہیں اور انہیں قبائلی اضلاع میں صحت کا نظام بہتر بنانے کیلئے ان کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کیلئے اے ڈی پی کا جائزہ لیاجارہا ہے اور وہاں ہیلتھ نظام کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیابھی مسائل کی نشاندہی اور نظام کی بہتری کیلئے ہمارا ساتھ دیں ۔میڈیا کی رپورٹس پر باقاعدہ ایکشن لیا جائے گا۔


شیئر کریں: