Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پختونخواریڈیوکی نشریات کو شانگلہ اور چترال سمیت ملحقہ اضلاع تک بڑھایا جائیگا..عاطف خان

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز ) خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر برائے سیاحت، ثقافت، آثارقدیمہ و امور نوجوانان محمد عاطف خان نے سوات میں سیاحت کی ترقی کیلئے پختونخوا ریڈیو کے کردار کو سراہتے ہوئے اسکی نشریات کو بونیر، شانگلہ اور چترال و دیر سمیت ملحقہ اضلاع تک بڑھانے کیلئے درکار سہولیات اور بوسٹرز کی تنصیب پر کام شروع کرنے اور مطلوبہ فنڈز کی جلد فراہمی کا اعلان کیا ہے انہوں نے کہا کہ ریڈیو پختونخوا ایف 98سوات میں سیاحت کی ترویج کا باعث ہے اگر اس کیلئے درکار بوسٹرز پہاڑوں کی چوٹیوں پر لگا دئیے جائیں اور سامعین کی تعداد بڑھ جائے تو سیاحوں کو بھی مختلف پیغامات پہنچائے جا سکتے ہیں اس امر کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ سوات کے آخری مرحلے میں محکمہ اطلاعات کے علاقائی دفتر اور پختونخوا ریڈیو ایف ایم 98کے دورے اور پروگرام “رنگونہ د سوات” کو خصوصی انٹرویو میں کیا چیئرمین ڈیڈیک سوات فضل حکیم خان یوسف زئی، ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد اور ریجنل ڈائریکٹر انفارمیشن غلام حسین غازی بھی ہمراہ تھے عاطف خان نے انکشاف کیا کہ انکی حکومت نے صوبے بھر میں باقاعدہ ماسٹر پلان کے تحت سیاحت کو بطور صنعت ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت موجودہ اور مزید نئے صحت افزاء و تاریخی مقامات کا بڑے منظم اور سائنسی انداز میں تعین و نشاندہی کرکے وہاں انفراسٹرکچر کی بہتری پر فوری کام شروع کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں رواں مالی سال کیلئے 20نئے مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے جن میں 5سکی ریزارٹ ہیں ان کیلئے 50کروڑ روپے کے خطیر فنڈز بھی مختص کئے گئے ہیں اور ان میں اپر سوات کا دیومالائی علاقہ گبین جبہ بھی سرفہرست ہے سیاحت کی ترقی، نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور سیاحوں کو معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے صوبائی ٹورازم اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جس کی کابینہ سے منظوری کے بعد اسے صوبائی اسمبلی کے ذریعے قانون اور دستور کا حصہ بھی بنا دیا جائے گا اتھارٹی میں ٹوارزم ،کلچر اور آرکیالوجی ممبران ہونگے اس کا بنیادی مقصد سیاحت،ثقافت اور آثار قدیمہ سمیت مختلف محکمے اکھٹے بیٹھ کر صوبے میں موجود صحت افزاء اور تاریخی مقامات پر مبنی سیاحت کی ترقی کیلئے کام دن رات کام ہو گا سوئس سفیر کا دورہ سوات دنیا بھر سے غیرملکی سیاحوں کی آمد کی شروعات ہے اب دیگر ممالک کے سفیر بھی سوات اور دوسرے دلکش سیاحتی علاقوں کے دورے کرینگے انہوں نے کہا کہ تمام سیاحتی علاقوں میں مواصلات کی ترقی اور وہاں تک ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی باسہولت رسائی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے عالمی معیار کی چھوٹی بڑی شاہراہوں کی تعمیر ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے پہلے سے اے ڈی پی سکیمیں منظورہو چکی ہیں اور مزید بھی زیرغور ہیں جبکہ کرپشن کا لیول زیرو پر لانے سے ترقیاتی فنڈز کی برکت بھی عوام دیکھ لیں گے میزبان شائستہ حکیم اور وقار سواتی کے سوالات کے جواب میں عاطف خان کا کہنا تھا کہ یکم مئی کو سوات موٹروے کے افتتاح کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں شاہراہوں کے نئے میگا منصوبوں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے جن میں سوات موٹر وے کی چکدرہ تا چترال اور شموزئی تا کالام دوشاخہ توسیع کے علاوہ انہیں اگلے مرحلے میں سی پیک کا حصہ بنانے اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملانے کا پلان بھی ہے جو یقیناًگیم چینجر منصوبہ ہے اور اس عالمی روڈ نیٹ ورک کی بدولت یہاں کی سیاحتی اہمیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تجارتی اور عوامی قافلے بھی ان شاہراہوں پر رواں دواں نظر آئیں گے اور وہ دن دور نہیں جب درہ خیبر کے راستے پشاور تا افغانستان اور سوات، دیر و چترال کے راستے چین و تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ہمارے روابط یک جان دو قالب کی مانند انتہائی دوستانہ و گرمجوشانہ بن جائیں گے اور نہ صرف ہماری عالمی تنہائی کا خاتمہ ہو گا بلکہ تجارتی حب کے طور پر اس پورے خطے کی عظمت رفتہ بحال ہو جائے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاحت و تجارت کی آسانیوں کیلئے ہمارا مقصد روڈ نیٹ ورک کو اتنا آسان بنانا ہے کہ نہ صرف بونیر تا سوات و شانگلہ اور دیر تا چترال اور باجوڑ پورا ملاکنڈ ڈویژن اتنا مربوط بن جائے کہ سیاح اتنی دور کی سیاحت کے بعد اسی راستے واپسی کی بوریت محسوس کرنے کی بجائے ملحقہ اضلاع میں نت نئے سیاحتی اور تاریخی مقامات سے گزرتے خوشگوار یادوں اور دلکش مشاہدات کے ساتھ واپس ہوں سوات میں پختونخوا ریڈیو کی نشریات کو فعال بنانے کا مقصد بھی پورے سفر میں سیاحوں کی موسم سے لیکر مختلف مقامات تک ہر طرح رہنمائی اور معلوماتی تفریح کی فراہمی ہے ٹورسٹ پولیس فورس سے متعلق سوال پر عاطف خان کا جواب تھا کہ دنیا حتیٰ کہ کئی مغربی ممالک میں ٹوارزم پولیس موجود ہے ہم بھی خیبر پختونخوا میں ٹوارزم پولیس فورس بنارہے ہیں جون تک اس پر کام مکمل ہوجائیگا ٹورسٹ پولیس کے تربیت یافتہ جوان سیاحتی علاقوں میں لوگوں اور سیاحوں کی مدداور رہنمائی کرینگے انہوں نے کہا کہ ہم آرکیالوجیکل سائٹس کیلئے بھی فورس بنا رہے ہیں جس کا مقصد آرکیالوجیکل سائٹس کی حفاظت ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ قبائل اضلاع کے انضمام کے بعد اب خیبر تا ڈیرہ اور چترال تمام علاقے ہمارے لئے یکساں اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور یہ تمام سیاحتی و تاریخی مقامات سے بھی مالا مال ہیں اسلئے ہم انکی ترقی و ترویج کو یقینی بنا کر ہی دم لیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سیاحت کے فروغ کیلئے مکمل سنجیدہ ہے 175ممالک کو ای ویزاجبکہ 50ممالک کو ویزا آن ارائیول ہو گا جبکہ حساس جگہوں کے علاوہ تمام سیاحتی علاقوں میں اب این او سی کی ضرورت نہیں ہوگی یہ صوبائی حکومت کی بڑی کامیابی اور مثبت پیشرفت ہے انہوں نے پختونخوا ریڈیو کے ذریعے عوام کو پیغام دیا کہ علاقے کا حسن زیادہ درخت اور صحت و صفائی ہیں مقامی لوگ اور سیاح پرفضاء سیاحتی علاقوں کے حسن و جمال کا پورا خیال رکھیں سوات کے لوگوں پر خوشحالی کا اچھا وقت آرہا ہے سیاحت اور امن وامان کی بہتری میں معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا چاہئے۔


شیئر کریں: