Chitral Times

Dec 7, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لشمینیا کے مرض پرقابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھارہے ہیں..ڈاکٹرفاروق

Posted on
شیئر کریں:

پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ)خیبرپختونخوا کے سیکرٹری صحت ڈاکٹر فاروق جمیل نے کہا ہے کہ وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کی ہدایات کی روشنی میں صوبے اور قبائلی اضلاع میں لشمینیا کے مرض پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، جمعہ کے روز ہیلتھ سیکرٹریٹ پشاورمیں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری صحت نے کہا کہ سینڈفلائی نامی مچھر سے یہ بیماری زیادہ تر دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے میں پھیلتی ہے، جس سے جسم پر بدنما داغ اورزخم رونما ہوتے ہیں۔اس موقع پر ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ شاہین آفریدی، ڈائریکٹوریٹ قبائلی اضلاع ڈائریکٹر ڈاکٹرکلیم ، محکمہ صحت ایچ ایس آریوچیف شاہد یونس، محکمہ صحت میڈیا کوآرڈی نیٹر دانیال خان اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ سیکرٹری صحت کا کہنا تھا کہ صوبے اور قبائلی اضلاع میں اس وقت لگ بھگ 21000لشمینیا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر کیسز قبائلی اضلاع میں رپورٹ ہوئے، خیبرمیں 9378،مہمند میں 5373، باجوڑ میں 2802اورکرک میں 1017کیسز رپورٹ ہوئے۔ ڈاکٹر فاروق نے بتایا کہ کیسز رپورٹ ہونے کے بعد فوری طور پر میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں کو پہنچائی گئیں اور انہیں ڈبلیو ایچ او کے گائیڈلائن کی روشنی میں علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں، اسکے علاوہ ضلعی ہسپتالوں ڈی ایچ کیوز میں بھی طبی امداد دی جارہی ہے ، اسی طرح متاثرہ علاقوں میں آگاہی مہم بھی شروع کی جاچکی ہے تاکہ لوگوں میں اس مرض سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانے سے متعلق آگاہی دی جاسکے۔ ڈاکٹر فاروق جمیل کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے اوربیماری کے علاج کیلئے 1100وائلز فراہم کرے گی جنہیں اگلے چند دنوں میں دستیاب ہونگی تاہم فی الفورمقامی ادوایات اور انجیکشن کے ذریعے بھی مریضوں کو امداد دی جارہی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں سپرے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ہسپتالوں میں ڈرماٹولوجسٹس اور نرسز کی چوبیس گھنٹے موجودگی یقینی بنائی جائے جبکہ باجوڑ میں پاک آرمی کے تعاون سے متاثرہ افراد کو امداد دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ڈرماٹولوجوسٹس کی کمی ہے وہاں تربیت یافتہ میڈیکل آفیسرز کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ لشمینیا مریضوں کاعلاج کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بیماری افغان مہاجرین کی وجہ سے صوبے میں پھیلی، مرض کے علاج کیلئے ادویات کو زیادہ عرصہ کیلئے سٹور نہیں کیاجاسکتا کیونکہ انکے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے لہذا ضرورت پڑنے پر اسے منگوایاجاتا ہے اسی طرح ان ادوایات کے غلط استعما ل کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں خصوصی سنٹرز میں لشمینیا سے متاثرہ افراد کو علاج فراہم کیاجارہا ہے، جبکہ انہوں نے خود ضلع خیبرکا دورہ کرکے وہاں مریضوں کو دی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا ۔ڈاکٹر فاروق نے بتایا کہ یہ مرض صرف پاکستان نہیں بلکہ دیگر ایشیائی ممالک اور افریکہ میں بھی پائی جاتی ہے جس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: