Chitral Times

May 26, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نوائےُ سرود………….. تین رحمتیں………….. شہزادی کوثر

    January 30, 2019 at 7:31 pm

    کچھ دن پہلے کی بات ہے صبح ٓانکھ کھلتے ہی انتہائی خاموشی نے کان میں سرگوشی کی کہ ٓاپ کا استقبال کرنے کے لیے قدرت نے برف کے گالوں سے بنی چادر بچھائی ہے جو تھوڑی دیر بعد رضائی میں بدل جائے گی۔ دروازے کا ایک پٹ کھولا تو سرد ہوا نےآا کر بڑے تپاک سے ہمارا ماتھا چوما اور یخ بستہ مسکراہٹ سے صبح بخیر کہا۔اس وقت یہ خیال ذہن میں گردش کرنے لگاکہ اب ٹھنڈ بڑھے گی کام کرنا دشوار ہو گا۔برتن،جھاڑو،اور دھلنے والے کپڑےآانکھوں کے سامنے گھومنے لگے،بچے اٹھیں گے تو شور مچاتے ہوئے برف میں کھیلنے جائیں گے،موزے،دستانے،جوتے اور سارے کپڑے گیلے کریں گے،برف جیسے ہاتھ پاؤں اور سرخ ناک کے ساتھ ان کی واپسی ہو گی۔کیوں نہ مخمل کا غلاف بنا کر ان کی ناک پے چڑھا لوں۔پتا نہیں کتنے دن تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور یہ برف کب پگھلے گی؟ فورا ہی ذہن کو جھٹکا دے کر فالتو خیالات سے پیچھا چھڑایااور برف کے فوائد پر غور کرنے لگی۔دیکھا جائے تو جو چیز ہمیں تکلیف دہ لگتی ہے اصل میں اتنی ہوتی نہیں۔وہ ہمارا نقطۂ نظر ہوتا ہے جو ہم اپنے بل بوتے پر تخلیق کرتے ہیں۔قدرت ہم پر بہت مہربان ہے ،ہماری کوتاہیوں ،اور گناہوں کو خاطر میں لائے بغیرہماری ضروریات اور ٓاسائشوں کا بھی بھر پور خیال رکھتی ہے۔ہم ساری عمر سجدہ ریز بھی رہیں تو شکر ادا نہیں کر سکتے۔موسم ہی کو لےئجے پانی سے بھر پور برف کی نعمت نازل ہوتی ہے۔مخلوقات کے ساتھ ساتھ نباتات اس کے فوائد سے مستفید ہوں گے،پانی کے ذخائر میں اضافہ ہو گاخشک کنویں پانی سے بھر جائیں گے چشمے پھوٹ بہیں گے۔فصلیں اور میوے صحت مند ہو جائیں گے۔گرد وغبار اور خشک سردی کی بیماریوں سے چھٹکارا ملے گا۔اس جیسے کئی فوائد حاصل ہوں گے۔لیکن ہم اس کی ظاہری کیفیت اور موجودگی کو ہی برداشت کرنے کے ہی روادار نہیں ہوتے کیوں کہ ہم اپنے بنائے ہوئے فلسفے کی گمراہ کن روشنی میں سوچتے ہیں۔قدرت کی اس نعمت میں کتنی خوبصورتی ہوتی ہے کبھی اس کے اندر جھانکنے کی کو شش کریں تو پتا چلے گا کہ کہ حسن ہر رنگ اور ہر روپ میں کیف وسرور کی دولت بخشتی ہے ۔دوسری رحمت جو زحمت لگتی ہے وہ مہمان ہے۔خاص کر اگر اس موسم میں ٓائے،اکثریت کی رائے ہے کہ مہماں آائیں لیکن ان کے ساتھ بچے نہ ہوں اور اگر ہوں بھی تو ایک ہو جو زیادہ باتونی اور رونے والا نہ ہو شرارت نہ کرے،سر جھکا کر ماں کے گھٹنے سے لگ جائے اور ایک دن سے زیاد ہ ان کا قیام نہ ہو،اس سے بھی اچھی بات یہ ہو گی کہ وہ قیام ہی نہ کرے۔ایسا سوچنے والوں کی تعداد دس میں سے نو فیصد ہے اور ایک فیصد جو ایسا نہیں سوچتے وہ جھوٹ بولتے ہیں۔اس رحمت کو بھی کچھ زیادہ پسندیدگی حاصل نہیں ہوتی۔ حلانکہ وہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے اس کی وجہ سے ہم بھی کھاتے ہیں،اور جاتے ہوئے اپنے ساتھ ہمارے تمام مصائب اور پریشانیاں بھی لے کر جاتا ہے۔اس دور میں کوئی ہمارے گھرآائے توشکر کرنا چاہئیے کہ اللہ تعالی نے ہماری مصیبتوں کو دور کرنے کا وسیلہ بھیجا ہے، کوئی بھوکا ہو کر کسی کے گھر نہیں جاتااوپر والے نے بھیجا ہوتا ہے اگر ہمارا بس چلے تو اس کو اوپروالے کے ہی گھر میں بٹھا کر بھاگ جائیں،لیکن مسئلہ ہماری ناک کا ہوتا ہے جس کے کٹنے سے ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے،اس لئے دل پر جبر کر کے اس رحمت کو برداشت کرتے ہیں ۔ایک اور رحمت بھی ہوتی ہے جسے کچھ خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوتی،حلانکہ گھر کی رونق اس کے دم قدم سے ہوتی ہے۔خدمت،محبت اور خلوص کی مثال اگر کچھ ہے تو وہ صرف بیٹی ہے۔ہر مرد کو اپنی ماں سے بے پناہ محبت ہوتی ہے،اپنی شریک حیات سے سب پیار کرتے ہیں،لیکن بیٹی کو اس پیار کاآادھا بھی نہیں ملتا۔پیدائش سے پہلے ہی؛ اگر پتا چلے کہ اللہ ہمیں رحمت سے نوازنے والے ہیں تو باپ کا چہرہ لٹک جاتا ہے۔ساس کی پیشانی پہ بل پڑ جاتے ہیں۔اس مجبور ماں کی خاموش فریاد کوئی نہیں سن سکتاجو گھر والوں کے اس روئیے کی وجہ سے لمحہ لمحہ سولی چڑھ رہی ہوتی ہے۔اس کے دنیا میں آاتے ہی گھر میں گھسنے والا ہر انسان یہی کہتا ہے کوئی بات نہیں اللہ تمہیں بیٹا بھی دے گا۔۔۔گویا کہ لوگ بیٹی کو اولاد ہی نہیں سمجھتے۔کوئی انہیں بتائے کہ ماں بھی تو بیٹی ہے جس کی وجہ سے تم دنیا میں آائے ہو۔وہ عورت بھی تو بیٹی ہے جو تمہارے غم اور خوشی کی ساجھے دار ہے۔تو جسے قدرت نے ٓاپ کی جھولی میں ڈالا ہے اس معصوم کے لئے یہ سرد رویہ کیوں؟ اگر اس کی جگہ قدرت تمہیں پاگل بیٹا عطا کرتاتو؟ یا بیٹا دے لیکن اسے ہدایت نصیب نہ کرے تو کیا کرو گے؟یا اپاہچ اولاد بخشے تب؟ بیٹی کو رحمت کہنے والی ہستی نے اپنے حبیبﷺ کو بھی بیٹیوں سے نوازا تھا۔اگر یہ رحمتیں عطا ہوئی ہیں تو ان کی صحیح تعلیم و تربیت کی توفیق بھی مانگنی چاہئیے.بیٹا ہو یا بیٹی اگر خالق کی مہربانی شامل حال نہ ہو تو ان کی پرورش ہم جیسوں کی استطاعت سے باہر ہے۔بیٹی پھول ہے جو زندگی کے چمن کو اپنی خوشبو سے مہکاتی ہے،ایسی شمع جو روشنی کے ساتھ ساتھ حرارت بھی دیتی ہے۔پتہ نہیں وہ روز ہمارے برے روئیوں کے کتنے دوزخوں سے گزرتی ہو گی۔بھائی کے سامنے اپنی بے حیثیتی کا دکھ برداشت کرتی ہو گی۔باپ کی محبت حاصل کرنے اور بھائی کے دل کو تسخیر کرنے کی کو شش میں زندگی گزارتی ہو گی۔اگر غور سے سنو تو گھر میں ہر طرف اس کے کومل لہجے کی بازگشت سنائی دیتی ہے جو اپنی بے غرض اور سچی محبت سے ہر چیز میں زندگی کی حرارت بھر دیتی ہے۔ہمیں تین رحمتوں یعنی مہمان،بارش اور بیٹی سے نوازا گیا ہے ان کا شکر ادا کرنا اگر فرض نہیں تو واجب ضرور ہے۔

  • error: Content is protected !!