Chitral Times

Jun 14, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبرٹیچنگ ہسپتال میں غلط کینولہ لگانے کے نتیجے میں مریض کا ہاتھ کاٹنے کی انکوائری مکمل،

Posted on
شیئر کریں:

پشاور( چترال ٹائمزرپورٹ )صوبائی وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان کے احکامات پر محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے خیبرٹیچنگ ہسپتال میں ذیابیطیس کے مریض کو مبینہ طور پر غلط طریقے سے کینولہ لگانے اور اسکے نتیجے میں اس کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق معاملے کی تحقیقات مکمل کرلی ،انکوائری رپورٹ میں متعلقہ واقعہ کو ہسپتال میں خراب مینجمنٹ اورمعیاری ہیلتھ کیئر فراہم نہ کرنے کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے ہسپتال ڈائریکٹراورمیڈیکل ڈائریکٹر کو اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیاہے،وزیرصحت نے اپنے پیغام میں واضح کیا ہے کہ نئے پاکستان میں ڈیوٹی سے غفلت اورلاپرواہی کسی طور برداشت نہیں کی جائیگی جبکہ معیاری صحت سہولیات پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، محکمہ صحت اعلامیہ کیمطابق ہنگو کے احمد فراز خان ، جو شوگر کا مریض تھا، کو ہسپتال کے میڈیکل اے یونٹ میں داخل کیا گیا تھا جہاں لواحقین نے الزام لگایا کہ مریض کو کینولہ غلط طریقے سے لگانے سے انفیکشن پھیلا جسکی وجہ سے اسکا دائیں ہاتھ کاٹنا پڑا۔ جس پر وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے واقعہ پرانتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے معاملے کی شفاف انکوائری کرانے کی ہدایت کی تاکہ واقعہ میں ملوث ذمہ داران کا تعین ہوسکے ۔ اعلامیہ کیمطابق کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ متعلقہ مریض کوعلاج فراہمی میں اکیڈیمک اور پروفیشنل پروٹوکولز اور ایس او پیزکو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے جبکہ رپورٹ میں ہسپتال میں غیرمعیاری ہیلتھ کیئر ،میڈیکل ونرسنگ سطح پر کم پیشہ وارانہ سکلز کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی میں تاخیر، خراب کلینکل اور انتظامی خامیوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جس کی وجہ سے مذکورہ واقعہ پیش آیا۔ انکوائری رپورٹ کیمطابق ہسپتال ڈائریکٹر اورمیڈیکل ڈائریکٹر کی حیثیت سے ڈاکٹر نیک داد خان اورڈاکٹر روح المقیم اپنی ڈیوٹی بہتر اور پیشہ وارانہ طور پر نبھانے میں ناکام رہے ہیں لہذاسیکرٹری صحت نے بحیثیت چیئرمین بی اوجی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نیک داد خان اورمیڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر روح المقم کواپنے عہدوں سے ہٹا دیا ہے جبکہ ایک دوسرے اعلامیہ کے مطابق آئی ایم یو کے ڈائریکٹر ڈاکٹرشہزاد فیصل کو خیبرٹیچنگ ہسپتال کا ہسپتال ڈائریکٹراورایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب کو میڈیکل ڈائریکٹر کا اضافی چارج سونپ دیاگیا ہے۔

دریں اثنا وزیرصحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے بعض افسران کے سرکاری معاملات نمٹانے میں تاخیر پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئندہ خط وکتابت اورفوری رابطوں میں تاخیر پر رولز کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اس حوالے سے مقامی اخبار میں وزیرصحت سے متعلق خبر شائع ہونے کی بھی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ خط پروزیرصحت نے معذرت کی ہے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا میڈیا سیل کے ترجمان کے مطابق وزیرصحت کی جانب سے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے تمام ملازمین، پروجیکٹس اور فنڈز وغیرہ سے متعلق مکمل ڈیٹا گیارہ جنوری تک مانگا گیا تھا جسے وقت پر فراہم نہیں کیا گیا، جس پر وزیرصحت کے دفتر سے ایک مراسلہ متعلقہ افسران کو جاری کیا گیا اوراس میں ٹارگٹ وقت پر پورا نہ کرنے اور خط وکتابت میں تاخیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیااورکہا گیا کہ اس سے نہ صرف معاملات تاخیر کا شکار ہونگے بلکہ عوام میں محکمہ کا امیج خراب ہوگا، محکمہ صحت کے ترجمان نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ وزیرصحت نے خط کے حوالے سے کسی قسم کی معذرت کی ہے بلکہ واضح کیا ہے کہ آئندہ تاخیر کی صورت میں رولز کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ بیان میں محکمہ صحت افسران کو بھی میڈیا میں ایسے بیانات دینے سے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ جس سے محکمے میں بداعتمادی کی فضاء قائم ہو بصورت دیگر ایسی بیانات کی روک تھام کیلئے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
18254