Chitral Times

May 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پبلک سروس کمیشن نے سبجیکٹ سپیشلسٹ کے نتائج میں مبینہ طورپرناقابل یقین تبدیلی کی…امیدواران

Posted on
شیئر کریں:

چترال ( محکم الدین ) خیبر پحختونخوا پبلک سروس کمیشن نے میرٹ کی دھجیاں اڑا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔جس میں اہل امیدواروں کو ایک سوچےسمجھےسازش کے تحت میرٹ سے باہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کےزیر انتظام سبجیکٹ سپشلسٹ بیالوجی , میتھ کیلئے تحریری امتحان اگست 2018میں منعقد ہوا تھا ۔ اور ستمبر میں اس کے نتائج کا اعلان کیا گیا تھا ۔ کمیشن کی تاریخ میں پہلئ مرتبہ میرٹ اورشفافیت کو یقینی بنانے کیلئےاس ٹیسٹ کے سوالات و جوابات (Answer key)کو کمیشن کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا ۔جسے تمام امیدواروں نے مثبت قدم قرار دیا تھا ۔ لیکن پانچ مہینے گزرنے کے بعد کمیشن کی طرف سےامیدواروں کے نتائج میں حیران کن اور ناقابل یقین تبدیلی کی گئی ہے۔ اور اہل امیدواروں کو ایک سو چے سمجھے سازش کےتحت میرٹ سے باہر کیا گیا ہے ۔ متاثرہ امیدواروں کے مطابق ٹیسٹ پیپرز اور نتائج شیٹ(Answer key) کےمطابق ان کے نمبرز تصحیح کے بعد بڑھ جانے کی بجائے حیران کن طور پر کم ہو گئے ہیں ۔ اور ان کے نتائج میں 70نمبرز کی کٹوتی کی گئی ہے ۔ جبکہ بعض امیدواروں کے نمبرز میں 80سے 90نمبرز کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ متاثرہ امیدواروں کے مطابق پانچ سوالات کی تصحیح کے بعد 20نمبرز کا اضافہ ممکن ہے ۔لیکن بعض امیدواروں کے نتائج میں 80 سے 90 نمبرز کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ جو کہ پبلک سروس کمیشن کے تمام نتائج کو مشکوک بنادیتا ہے ۔ متاثرہ امیدواروں نے ریوائزڈ نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ۔ اور مطالبہ کیا ہے ۔ کہ صوبائی حکومت امیدواروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کیلئے میرٹ کو یقینی بنائے۔ اور ریوائزڈ نتائج کو فوری طور پر کمیشن کی سائٹ پر اپلوڈ کرے ۔ متاثرین نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے ۔ کہ فورا ایک کمیٹی بنا کر ایس ایس بیالوجی و میتھ کےٹیسٹ پیپرز اور ان کے درست جوابات کا جائزہ لے ۔اورہر قسم کی غلطی سے پاک اور درست Answer key بنا کر امیدواروں کے پیپرز کو دوبارہ چیک کیا جائے ۔ اور اس Answer key کو کمیشن کی ویب سائٹ پربھی اپلوڈکیا جائے ۔ تاکہ امیدواروں کو تسلی ہو ۔ متاثرہ امیدواروں نے 30 جنوری تک انصاف نہ ملنے کی صورت میں کمیشن آفس کے باہر دھرنا دینے کا بھی عندیہ دیا ہے ۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
18250