Chitral Times

Apr 19, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ‌اوروزیراعظم کی توانائی حوالےسے میٹنگ، واپڈا/پیسکوکو بہترکرنے کا عزم

شیئر کریں:

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کواے جی این قاضی فارمولے کے تحت پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ حل کرنے کایقین دلایا۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت تیل اور گیس کی رائلٹی کو صوبے میں تیل اور گیس کی تلاش و استعمال کے مقاصد کیلئے بروئے کارلانے کیلئے ایک آزاد اور با اختیار اتھارٹی تشکیل دے گی ۔ وزیراعظم پاکستان عمرا ن خان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے درمیان اسلام آباد میں اہم اجلاس ہو ا جس میں پن بجلی کے خالص منافع کے مسئلے پر بریفینگ دی گئی اور اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت اس کے حل پر زور دیا گیا ۔ اجلاس میں یقین دلایا گیا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں توانائی سے متعلق منصوبوں پر کام کریں گی خصوصاً واپڈا / پیسکو کو بہتر کیا جائے گاتاکہ مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صوبے میں توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے ایک پیج پر ہوں گی اور اس سلسلے میں ایک دوسرے کی سرگرمیوں سے آگاہ رہیں گی ۔ وزیراعلیٰ نے عمران خان کو اے جی این قاضی فارمولہ کے تحت نیٹ ہائیڈل مسئلے سمیت چترال میں توانائی کے چار منصوبوں ، صوبے میں موجود بجلی اور اس کے نیشنل گرڈ میں جانے یا پھر صوبے میں صنعتی ترقی کیلئے استعمال میں لانے کی اجازت کے حوالے سے بریفنگ دی ۔اجلاس میں صوبے کو آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی ، این ٹی ڈی سی اور دیگر تمام بورڈز اور فورمز میں نمائندگی دینے سے بھی اتفاق کیا گیا تاکہ وفاقی سطح پر صوبے کے مسائل اور آواز کو نظر انداز نہ کیا جا سکے ۔ اجلاس میں موجودہ لکی بلاک کے قریب اضافی نئے بلاکس کی فراہمی کیلئے وزیراعلیٰ کی تجویز سے بھی اتفاق کیا گیا تاکہ صوبہ تیل اور گیس سے متعلق منصوبوں پر عمل درآمد کرسکے اور صوبے میں سرمایہ کاروں کو سہولیات دے سکے۔محمود خان نے صوبائی حکومت کی طرف سے قائم کئے گئے 356 مائیکرو ہائیڈل پراجیکٹس کے موجودہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پن بجلی کے چھوٹے منصوبوں کا مقصد لوگوں کو گھریلو استعمال کیلئے سستی بجلی فراہم کرنا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے کے دوردراز علاقوں میں آبی وسائل بے کار جارہے تھے اس لئے صوبائی حکومت نے یہ منصوبے شروع کئے تاکہ کم ازکم اُن علاقوں کو ترقی دی جا سکے ، سستی بجلی پیدا کی جا سکے اور اُس بجلی کو متعلقہ علاقوں کے غریب عوام کو سستے داموں مہیا کیا جاسکے ۔ 326 نیٹ ہائیڈل پاور سٹیشن قائم کئے جا چکے ہیں ، جو آئندہ دو سے تین ماہ کے اندر متعلقہ کمیونٹی کے حوالے کر دیئے جائیں گے ۔ کمیونٹیز ان منصوبوں کی مالک ہو ں گی اور خود ہی ان منصوبوں کو چلائیں گی اور اس کا انتظام سنبھالیں گی ۔ اجلاس میں صوبے میں گیس اور بجلی کی چوری پر قابو پانے کیلئے اقدامات سے بھی اتفاق کیا گیا۔ محمود خان نے صوبے کے قدرتی وسائل کو صوبے کے مفاد میں اور عوامی ترقی میں استعمال میں لانے سے متعلق بھی بات کی اور کہاکہ اس سلسلے میں تمام شعبوں پر مشتمل ایک جامع اور کثیر الجہتی پلان موجود ہے جس کے تحت صوبے کی دیرپا ترقی کیلئے منصوبے شروع کئے جائیں گے ۔ ہم تمام پیداواری شعبوں کی بہتر ی پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ مالی لحاظ سے صوبے کو اس کے اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے ۔ہم دوسرے پر انحصار کرنے کے عمل سے نکل کر خود کفالت کی طرف جانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے مگر ہم اس کا برابر کا حل رکھتے ہیں اور ہمارے پاس عزم بھی ہے ۔ ہم وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے تحت ایک ترقیافتہ اور خوشحال اور خود کفیل اور خیبرپختونخو اکی منزل حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہاکہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ صوبے میں بجلی اور گیس سے متعلق مسائل حل کریں کیونکہ اس سلسلے میں عوامی سطح پر بڑی تشویش پائی جاتی ہے جو امن عامہ کی صورتحال کے سلسلے میں مسائل پیدا کرسکتی ہے ۔ وزیراعظم نے انرجی سے متعلق تمام مسئلے حل کرنے کی ہدایت کی اور تیل گیس کی چوری کا نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بچلی چوری کے خلاف مہم میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ جو لوگ بل ادا کرتے ہیں وہ متاثر نہ ہوں اور جو لوگ چوری کرتے ہیں اُن کی حوصلہ شکنی ہو


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
18233