Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قلم کاروان اسلام آباد کے زیر اہتمام ادبی نشست

Posted on
شیئر کریں:

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) قلم کاروان اسلام آباد کی ادبی نشست گزشتہ دن G6/2اسلام آبادمیں منعقد ہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی ادبی نشست میں ’’ثریاسے زمیں پر‘‘کے موضوع پربزرگ صحافی غلام محمداعوان ،معاون مدیر ہفت روزہ ایشیاء لاہور ،کا مضمو ن تھا۔معروف دانشور سیدظہیراحمدگیلانی نے صدارت کی ۔نشست کے آغازمیں محمدانورسلیم کمال صدیقی نے تلاوت قرآن مجید پھرایک نوجوان حافظ محمدطیب نے بھی اپنی خوبصورت تجویدمیں قرات کی،حبیب الرحمن چترالی نے مطالعہ حدیث نبویﷺ اورشیخ عبدالرازق عاقل نے نعت شریف کلام شاعربزبان شاعرکے مصداق سنائی۔
صدرمجلس کی اجازت سے غلام محمداعوان نے اپنی تحریربعنوان’’ثریاسے زمیں پر‘‘پڑھ کرسنائی،تحریرمیں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب پیش کیے گئے تھے اور قرآن و سنت کی تعلیمات اور تاریخ انسانی کے واقعات سے تجزیاتی نتائج پیش کیے گئے تھے۔پس تحریرشیخ عبدالرازق عاقل نے سوال کیاکہ متن میں درج کی گئی احادیث نبوی ﷺ ہمارے زمانے کے لیے بیان کی گئی تھیں کیا؟؟؟،توفاضل مصنف نے کہاکہ یہ احادیث ہر زمانے کے لیے اورقیامت تک کے لیے زندہ ہیں اورمسلمانوں سمیت کل انسانیت کے لیے راہ عمل ہیں۔ساجد حسین ملک نے کہاکہ قول کی بجائے عمل پر زوردیاجانا چاہیے ،انہوں نے کہاکہ امت میں عمل کافقدان ہے۔عطاء الرحمن چوہان،صدر تحریک نفاذاردوپاکستان نے کہاکہ مضمون بہت عرق ریزی اورمحنت سے لکھاگیاتھااور تجزیہ بے لاگ تھا۔ساجدالرحمن بانیان نے کہاکہ امت کاشاندارماضی صرف تجدیدجہادسے ہی لوٹ سکتاہے ۔محمدانورسلیم کمال صدیقی نے موضوع کی تعریف کی اور کہاکہ تحریرمیں صاحب تجزیہ کا درددل صاف چھلک رہاتھا۔محمودالرحمن نے کہاکہ پاکستان نے اگرامت کی قیادت کرنی ہے تویہاں اردوکانفاذازحدضروری ہے،انہوں نے کہاکہ اگرتمام سرکاری امتحانات اردوزبان میں منعقد ہونے لگیں توپاکستان کے غریب عوام کابہت بھلاہوجائے گا۔مرزاضیاء الاسلام نے کہاکہ سوشل میڈیاکے ذریعے قومی زبان کی نفاذکی مہم چلانی چاہیے جس میں نوجوان بھی شامل ہوجائیں گے۔حبیب الرحمن چترالی نے کہاکہ امت کے زوال کے بہت سے تجزیے پیش کیے گئے،انہوں نے کہاکہ اج کاتجزیہ بھی ہوش کے ناخن لینے کے لیے کافی ہے،انہوں نے مزید کہاکہ جب تک امت مسلمہ کی قیادت اتحادویگانگت کامظاہرہ نہیں کرے گی اس وقت تک اغیاراس امت کااستحصال کرتے رہیں گے۔اس کے بعد شیخ عبدالرازق عاقل نے اپنی خوبصورت تازہ غزل نذر سامعین کی جس سے محفل کابوجھل پن دم توڑ گیااورسنجیدگی و متانت میں نرمی واقع ہوگئی۔
آخرمیں صدرمجلس سیدظہیر احمد گیلانی نے کہاکہ امت جن راستوں سے زوال کاشکارہوئی،انہی راستوں کوتلاش کرکے ان کاتدارک کرناہوگا،انہوں نے صاحب تحریرکی مثبت فکر،امت کادرداور تحریرکے جملہ خواص کی بہت تحریرکی،انہوں نے کہاکہ تحریر میں شاعرانہ اسلوب بہت زیادہ ہے جس نے تحریرکاحسن دوبالا کیاہے۔صدرمجلس نے شرکاء کی طرف سے کیے گئے تبصروں کو بھی معیاری قراردیا اورکہاکہ یہ قلم کاروان کاخاصہ ہے۔صدارتی خطبے کے بعدمیرافسرامان کے بیٹے کی رحلت پر حبیب الرحمن چترالی نے فاتحہ پڑھائی اورپھرآج کی نشست اختتام پزیر ہوگئی۔


شیئر کریں: