Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • لواری ٹاپ پر فالٹ آنے کی وجہ سے چترال کے صارفین بجلی متاثر کیوں‌؟ ..امیراللہ

    January 24, 2019 at 9:38 pm

    سابق وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے مطابق گولین گول ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے چترال کو 36میگاواٹ بجلی دینے کا اعلان ہوا تھا۔ جب کہ ارندوے سے بروغل تک یہ بجلی سب کو ملنا چاہیے تھا۔ ابھی تک تحصیل دروش کے نصف آبادی مذکورہ بجلی سے محروم ہے ۔ تحصیل چترال کے کافی آبادی اس بجلی سے محروم ہے ۔ سلیم خان اور افتخار الدین صاحب کی مہربانیوں سے تحصیل لٹکوہ کے تمام ابادی کو اس بجلی سے محروم رکھا گیا۔ تحصیل موڑکہو ، تحصیل تورکہو اور تحصیل مستوج کے بھی نصف نصف آبادی گولین گول کی بجلی سے ابھی تک محروم ہیں۔ جہاں بھی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ واپڈا مختلف تیکنکی بہانہ بنا کر چترال کو اندھیروں میں ڈوبا رہا ہے ۔ میرے معلومات کے مطابق چترال کیلئے جوٹی لشٹ میں گرڈ اشٹیشن بنا یا گیا ہے ۔ جبکہ ابھی دیر سے تیمرگرہ کے درمیان لائن میں فالٹ آنے کی صورت میں یہ بہانہ بنا یا جاتا ہے کہ تیمرگرہ تک لائن خراب ہے ۔ جب کہ چترال کا گرڈ اسٹیشن جوٹی لشٹ چترال میں ہے ۔ 28ارب روپے کا پروجیکٹ اتنا کیسا ناقص بنا یا گیا تھا کہ لواری میں دو فٹ برف پڑنے کی وجہ سے لائن میں خرابی پیدا ہوتی ہے یا ٹرانسفرمیر خراب ہو جاتے ہیں۔

    صوبائی حکومت وفاق سے بجلی کی مد میں اربوں روپے سب سیڈی لیتی ہے چترال کو سب سڈی دینے کے بجائے محکمہ واپڈا ہر ماہ ہزاروں روپے کا بل غریب عوام پر تھونک دیتا ہے ۔ چترال میں کونسا لیڈر ہے جو کہ واپڈا سے پوچھ لیں ہمارے سابقہ لیڈرز غریب عوام کے پیسوں سے اپنا بنک بیلنس بنا کے اپنے گھروں میں پُر تعیش زندگی گذار رہے ہیں۔ ہمارے موجودہ منتخب لیڈر ز اسمبلیوں میں صرف دعا کر نے بیٹھے ہیں عوام کا کوئی فکر نہیں ۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ہمارے انتظامیہ کا کیا غم ڈپٹی کمشنر صاحب ، ایس پی صاحب ، ڈسٹرکٹ ناظم صاحب اور ایکسن واپڈا کیلئے سرکاری جنریٹر اور مفت فیول موجود ہے ۔ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ بجلی موجود ہے یا نہیں ۔ میں چترالی عوام کیطرف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان سے ہمدردانہ درخواست کر تا ہوں کہ چترال کے غریب مکینوں پر رحم فر ما یا جائے ۔ اور اس کا نوٹس لیا جائے ۔ کیونکہ چترال کیلئے گرڈ اسٹیشن جوٹی لشٹ میں موجود ہونے کے باؤجود مین لائن تیمرگرہ یا لواری ٹاپ میں فالٹ آنے کی صورت میں چترال کو کیوں تاریکی میں ڈبویا جا رہا ہے ۔

    امیراللہ خان
    سوشل ورکر چترال زرگراندہ ۔

  • error: Content is protected !!