Chitral Times

May 27, 2019

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترالی معاشرے میں خودکشی اور بیروزگاری …..از قلم:دلشاد پری بونی چرانٹیک

    January 23, 2019 at 10:06 pm

    چترال ایک پرامن علاقہ ہے،مگر اج کل کچھ ایسے مسائل پیدا ہورہے ہیں جنکی وجہ سے کوئی چترال کو غربت کا مرکز کوئی ذہنی مریضوں کا علاقہ اور بہت سے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ائے روز اخبارات، نیوز،وغیرہ میں چترال کے بارے میں سننے کو بہت کچھ مل جاتے ہیں،غرض جتنی منہ اتنی باتیں ۔یہ تمام باتین بہت تکلیف دیتے ہیں۔

    میں ان باتوں سے اتفاق بالکل نہیں کرتی۔ضلع چترال قدرتی وسائل سے مالامال ایک پرامن علاقہ ہے۔مگر کچھ عرصے سے پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ۔کہ بہت سے مسائل نے اس جنت نظیر وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لئے ۔جن میں سے کچھ کا ذکر اور حل اپنے ناقص عقل کے مطابق قلم کی نظر کرنا چاہونگی۔

    آج کل چترال کو جن مسائل کا سب سے ذیادہ سامنا ہے وہ خودکشی اور بیروزگاری ہے۔آئے روز اخبار ات میں خودکشی پہ ارٹیکل لکھی جاتی ہے،جسکی وجہ کوئی غربت کوئی ذہنی تناؤ اور کوئی بیروزگاری بتاتی ہے۔بہت پہلے یہ خواتین میں عام تھی مگر رفتہ رفتہ مرد حضرات بھی اس کے مرتکب ہوتے چلے گئے۔میں اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتی کہ خودکشی کی وجہ غربت اور بیروزگاری ہے۔میرے خیال میں اس کی اصل وجہ مشکل حالات سے مقابلہ کرنے کی بجائے بزدلی سے بھاگنا اور راہ فرار اختیار کرنا ہے۔ہم اپنے اولاد کی تربیت ہمیشہ لادڈو پیار سے کرتے ہیں ۔ہم ان کو تصویر کا ایک رخ دیکھاتے ہیں کہ بس یہی زندگی ہے۔پڑھ لکھ کے اگے جانا ہے ،اور مقابلہ کرکے فسٹ آنا ہے۔ہم اس کو تصویر کا دوسرا رخ نہیں دیکھاتے ہیں کہ جب ا ن پہ کوئی بھی مشکل وقت آجائے تو ان کو کس طرح ایڈجسٹ کرنی ہے۔اپنے بچوں کو مشکل حالات سے مقابلہ کرنا نہیں سکھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ماں باپ کا ایک تھپڑ بھی برداشت نہیں کرتے اور خود کو دریا برد کرتے ہیں۔اور ماں باپ کی ساری زندگی کی محنت کا یہ صلہ دیتے ہیں۔

    میں نے ایک ایسی ماں کو اپنے بیٹے کی خودکشی کرنے پہ عش کھا کر گرتے اور بلک بلک کر روتے دیکھا جس نے ساری زندگی اپنی اولاد کو اف تک نہیں کی تھی۔پھر بھی خودکشی کرتے وقت بیٹے نے ایک پل کے لئے بھی نہیں سوچا کہ میرے بعد میری ماں کا کیا ہوگا؟یہاں پہ میں ایک مثال اپنے مغزز قارئین کی نظر کرنا چاہونگی۔۔۔

    اسلم نامی لڑکے کا اپنے محلے کے ایک لڑکے سے جھگڑا ہوتا ہے،جوکہ ہا تھا پائی اور مارپیٹ کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔انتہائی د لبرداشتہ ہوکے گھر میں داخل ہوتا ہے،اور کمرے کے اندر اکے دروازہ بند کرکے پستول اٹھاکر کنپٹی سے لگا کر خودکو ختم کرنا چاہتاہے مگر ٹرائیگر دبانے سے پہلے اسے دوست کی نصیحت یاد آجاتی ہے جو اس نے ایسی واقعات کے بعد رونما ہونے والے صورتحال پر تصوراتی طور پر ۳۰ منٹ کے لئے سوچنے کو کہا تھا۔وہ تصور میں خود کشی کے بعد کی صورتحال میں کھو جاتی ہے کہ جب وہ فائر کرتا ہے اور مر جا تا ہے تو فائرنگ کی آواز سن کے ماں اور بہنیں بھاگ کے آجاتے ہیں اور جب ماں اکلوتے بیٹے کو خون میں لت پت دیکھتی ہے توپاگل ہو جاتی ہے۔اور گھر کی جمع پونجی ماں کے علاج میں چلی جاتی ہیں۔اور بہنوں کی پڑھائی چھوٹ جاتی ہے،ان کو تو ڈاکٹر بننے کی خواہش تھی مگر وہ بھوکے اور بے اسرا بن جاتے ہیں۔جب وہ ۳۰ منٹ کی تصوراتی دنیا سے ہوش و حواس میںآجاتا ہے تو پستول نیچے پھینک دیتا ہے اور بھاگ کے اپنی بہنوں کے کمرے میں پہنچ جاتا ہے اور بہن کے سر پہ ہاتھ رکھ کے کہتا ہے جاؤ سٹڈی کر آپ لوگوں کو ڈاکٹر بننا ہے۔کاش ہر کوئی ایسی تصوراتی صورتحال ۳۰ منٹ کے لئے سوچ لے تو اس ناسور سے بچ سکتا ہے۔

    ایک چترالی بھائی نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے چترال کے خواتین میں خودکشی کی وجہ ذہنی دباؤ ،گھریلو تنازعہ اور ڈیپریشن بتایا،اس بات سے میں بھی اتفاق کرتی ہوں۔چترال کے اکثر لوگ توہمات کا کچھ زیادہ شکار ہیں ،مثال کے طور پر جب کوئی نئی بہو بیاہ کے لائی جاتی ہے اور خدانخواستہ اس گھر میں فوتگی ہو جاتی ہے تو اس بہو کے قدم منحوس قرار دے کر ساری زندگی اجیرن کی جاتی ہے۔کوئی یہ نہیں سوچتے کہ زندگی اور موت اللہ پاک کے اختیار میں ہیں۔

    معذرت کے ساتھ چترال کے کچھ گھرانوں میں مرد حضرات رات کے ۱۲ بجے تک بیٹھے گپ شپ لگا رہے ہوتے ہیں اور گھر کے خواتین سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی سونے کی زحمت نہ کرے پھر اسی عورت سے صبح ۵ بجے اٹھنے کی توقع رکھی جاتی ہے،اور مرد حضرات خود خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔اور کوئی عورت تھوڑی نیند پوری کرے اور زرا لیٹ اُٹھ جائے تو اس کو بد تہذیب کہا جا تا ہے۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے لازمی بات ہے ذہنی دباؤ کا شکار تو ہوگی۔ہمیں اپنی زندگی آسان بنانے کا طریقہ بھی نہیں آتا۔شہر کے لوگ اپنی نماز بھی قضا نہیں کرتے اور اپنی نیند بھی پوری کرتے ہیں۔ہم ۲عدد چپاتی سے جنگ کرنے صبح ۵ بجے اٹھ جاتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ہمارے ۱۴ سال کی بچی کے چہرے پہ بھی ۴ یا ۵ لکیریں نظر اتی ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب ٹافی مٹھائی کی طرح اوپر نیچے باندھ کے قبر میں رکھا جاتا ہے۔جبکہ شہر کی ۶۰ سال کی بوڑھی عورت بھی ہم سے جوان نظر آتی ہے۔آج کل تو بہو ڈھو نڈتے وقت یہ رواج عام ہے کہ بہو یا تو کمانے والی ہو یا پکانے والی چا ہے ان کا بیٹا سست،کاہل اور میٹرک فیل کیوں نہ ہو۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ بہو میرے بیٹے کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارے۔ پھر یہی مرد احساس کمتری کا شکار ہو کے عورت کی زندگی اجیرن کرتی ہے کاش ہم اپنے بہو کے لئے بھی وہ سوچ رکھے جو بیٹی کے لئے رکھتے ہیں تو خود کشی کی نوبت ہی نہ آتی۔۔اکثر جب نئی نویلی دلہن بیاہ کے لائی جاتی ہے تو شوہر صرف زیادہ سے ز یادہ دس دن گزار کے دبئی یا ملک کے اندر ہی کہیں کمانے کے بہانے چلا جاتا ہے اور۲ سال تک واپسی کا کوئی پتہ بھی نہیں چلتا ۔ایک نئی نویلی نوعمر دلھن کو جو محبت اور توجہ چاہیے ہوتی ہے وہ اس کو نہیں ملتی تو ڈیپرشن کا شکار ہو جاتی ہے۔شہر کے مرد حضرات جس جگہ بھی کمانے جاتے ہیں وہ اپنی بیوی بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں تب شہروں میں خودکشی بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

    میرے بہت سے بھائیوں نے مختلف چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے چترال میں خودکشی کی وجہ بیروزگاری اور غربت بتا دےئے،میں اس بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتی۔ہمارا خو بصورت علاقہ چترال قدرتی وسائل اور اللہ تعالی کے لازوال نعمتوں سے مالامال ہے۔

    ہمارے یہاں سے دوسرے علاقوں کے لوگ اخروٹ،ڈرائی فروٹ،اُونی ملبوسات اور دیگر اشیاء لے جا کر اپنی کاروبار چمکاتے ہیں۔جبکہ یہاں ہمارے کچھ بھائی صاحبان ٹانگوں پہ ٹانگ ڈال کے اپنی قسمت کا رونا روتے ہیں۔حرکت میں برکت ہوتی ہے۔یہاں پھر معذرت کے ساتھ یہ بات کہتی ہوں ہمارے کچھ بھائیاں ایسے بھی ہیں جوکہ چترال یا پشاور کے کسی بازار میں بیٹھ کے اپنے چترالی بہنوں کے شلوار قمیض پہ خوب مرچ مصالحہ لگا کر تبصرہ تو کر سکتے ہیں مگر اسی بازار میں بیٹھ کر سیب اور دوسرے پھل اور ڈرائی فروٹ بیجنے کے حلال رزق کمانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔اور کوئی لڑکا حلال رزق کے لئے کسی ہوٹل میں جاب کرے تو اس کو معمولی جھگڑا ہونے پہ بُرے آلقاب سے طعنہ دیا جاتا ہے۔

    جس بہن پہ ہمارے مرد حضرات تبصرہ کرتے ہیں کبھی اس بہن سے پوچھنے کی زحمت بھی کی ہے کہ وہ کس مجبوری کے تحت گھر سے نکلتی ہے؟اس بہن پر وہ کیا شفقت کا ہاتھ رکھ سکتے ہیں؟وہ تو اپنا توہین سمجھے گا۔ایک خالی ذہن شیطان کا آماجگاہ ہو تا ہے اسلئے ایک بیکار بیٹھا شخص تبصرے کے سوا اور کیا کر سکتا ہے؟

    میں اکثر سول کپڑوں میں دفتر جاتی ہوں باپردہ ہوکے،راستے میں اپنے بہت سے بھائیوں کو پاس سے گزرتے وقت سگریٹ کے کش لے کر گنگناتے اورفقرے اُچھالتے دیکھتی ہوں جو آجے دیوگن بننے کے ناکام کوشش کرتے ہوئے ا مریش پوری جیسے ولن نظر آتے ہیں۔مجھے ان پہ زرا بھی غصہ نہیں آتا۔مجھے تو ان پہ ہنسی آتی ہے،کیونکہ آج یہ سگریٹ جس نخرے سے کش لے کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا ہے اور بطور فیشن استعمال کرتا ہے کل کو اس کے بے جا استعمال سے گردے اور پھیپڑے فیل ہو جائیں تو دن کو بھی تارے نظر ائیں گے تو یہ بات ان کی سمجھ میں آجائے گی۔اس سے بہتر ہے کہ بازار میں بیٹھ کے کوئی مکئی بھون کے بیج دے۔

    جس وقت ہمارے فارغ بیٹھا بھائی اپنے چترالی بہنوں پہ تبصرہ کر رہا ہوتا ہے بالکل اسی وقت اس کا ہم عمر پٹھان کا بچہ بزنس سنبھال رہا ہوتا ہے۔ہمارے گھروں میں تیار ہر چیز مل جاتی ہے تب ہم تیار خور بن چکے۔اس وجہ سے ہمارا ایم فل پاس بیٹا بھی خالی گھوم کے فخر سمجھتا ہے۔عورت مرد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔اگر مرد عورت کو صحیح سپورٹ نہیں کرتا تو عورت گھر سے کمانے نکلتی ہے۔اور یہی مرد پھر احساس کمتری کا شکار ہوکے مارپیٹ سے بھی باز نہیں آتا۔۔چترالی شریف کہہ کہہ کے ھمارے منہ پہ ٹیب باندھی گئی ہے اسلئے ہمیں ہمارا حق مانگنا بھی نہیں آتا۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی ذمہ داریوں اور حقوق کا اگر احساس ہوجائے تونہ گھریلو جھگڑے کی وجہ سے خودکشی کی نوبت آئے گی نہ بے روزگاری ہوگی نہ غربت۔۔شکریہ ٓٓٓ

    مغزز قارئین۔اس تحریر کا مقصد کسی کی دل ازاری یاطنز کرنا نہی بلکہ اس معاشرہ میں ہونے والے واقعات پر ایک تنقیدی اصلاح کی کوشیش ہے،

  • error: Content is protected !!