Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہائے میری بچپن واپس آؤ نا…………مقبول علی جناح

Posted on
شیئر کریں:

ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر

آج جب بارش ہوئی تو مجھے میرا بچپن یاد آ گیا تھوڑی دیر تک عالم مدہوشی میں، میں نے بارشوں کی بوندوں کو محسوس کرتا رہا اور اپنے خیال میں گم ہو گیا۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا نا !

تین دن برفباری ہو اور پھر اچانک دھوپ نکلے ،2 فٹ برف ہو سردیوں میں یہی ہمارے کھیل کا ٹائم ہوتا تھا ۔جب ہم چھت سے برف ہٹا کر یعنی( استان درے) واپس آتے ,کھانا کھانے کے بعد باہر نکلتے ،جوہی گلی میں کوی مل جائے اس کے اوپر برف کے گولے برسانا ،بس پھر کیا ہمارا کھیل سٹارٹ ہو جاتا۔ ایک دن غضب یوں ہواکہ میرے سارے کزنز مل کر ایک دوسرے کے اوپر برف کے گولے برسا رہے تھےمیں سب سے چھوٹا تھا سارے مجھے گھر جانے کو کہہ رہے تھے۔ میری ضد تھی کے نہیں مان رہا تھا۔کھیل سٹارٹ ہو گیا سارے ایک دوسرے کو برف کےگولون سے مار رہےتھے، اتنے میں میری ایک کزن نے برف کے گولے اٹھا کر میرئ چھاتی میں دے مارامیں بے ہوش ہو گیا۔ ہماری قسمت اچھی تھی فیملی میں سے کسی کو پتہ نہیں چلا ورنہ جو ہمارے ساتھ ہوتا اللہ بہتر جانتا ہے

تھوڑی دیر بعد مجھے ہوش آ گئی اور میں ٹھیک ہو گیا بس اس دن میری وجہ سے کھیل ختم ہو گیا ۔برف باری تو فروری کے آخری ہفتے تک ہوتی رہتی ہیں جب برف باری رک جاتی ہے موسم صاف ہونے کی وجہ سے سردی اور بھی بڑھ جاتی ہے جتنی برف پڑی ہوتی ہے وہ جم جاتی ہے اور کھیتوں میں برف بہت سخت ہو جاتا ہے ۔پھر کیا ! ان سردیوں کے موسم میں ہم صبح جلدی اٹھ جاتے اور برف کے اوپر جا کے کرکٹ کھیلتے ، یہاں تک کہ برف نرم نہ ہو جائے دھوپ پڑھنے کی وجہ سے یا کسی فیملی ممبر کے ہاتھوں مار کھانے کے بعد کھیل ختم کرکے چپکے سے گھر آ جاتے ۔شمالی علاقہ جات میں مارچ کی پہلی تاریخ کو سکول کھل جاتی ہیں ۔ہم بہت خوش ہو جاتے تھے تاکہ دو مہینے بعد دوستوں سے ملاقات ہو گئی اور ہماری پسندیدہ کھیل ایس اسکیٹنگ بھی کرسکتے ہیں باوجود اس کے تھوڑا دکھی بھی ہوتے ، ہوم ورک پورے نہیں ہوتے پہلے دن خوش آمدید کی بجائے ہماری دلائی ہوتی تھی۔اللہ بھلا کرے ان ٹیچر کا جو انگلیوں کے اندر پین رکھ کر انگلیاں دبا تے تھے اور سکول سے واپس آ کر کھانا بھی نہیں کھا سکتے تھے ۔

ایک دن میں اور میرے ‏کزنز سکول سے آتے ہوئے راستے میں اسکیٹنگ کر رہے تھے۔ قسمت بری تھی چچا نے ہمیں دیکھ لیا ۔ پہلے تو بہت پیار سے پاس بلایا اس دن ھماری اتنی دہلائی ہوئی کہ ہمیں ہماری نانی یاد آ گئی اس دن اتنی مار کھائی ہے کے شاید جون سینا نے دی گریٹ کالی کے ہاتھوں کھائی ہو ۔اس دن ہم نے توبہ کر لی لیکن کم بخت دل کو کہان قرار آتی ہے ۔سکول جاتے ہوئے راستے میں برف ہو اور ہم اسکیٹنگ نہ کرے یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔بچپن کی دو باتیں ضرور یاد رہ جاتی ہیں کسی نے آپ کو کچھ خاص چیز تحف تن دی ہویا آپ کسی شرارت کی وجہ سے ٹیچر یا بڑھون کے ہاتون دہلای ہوئی ہو وہ دن بہت خاص ہوتے ہیں اور ہمیشہ یاد رہجاتے ہیں ۔
مجھے سردی لگی، بارش اور تیز ہو گی اتنے میں ،میں خواب بچپن سے بیدار ہو گیا موبائل چیک کیا ۔ واٹس اپ گروپ میں ایک میسج پایا ۔میسج کچھ یوں تھا ۔
آج سردی بہت تھی میں چادر لپٹے گلی میں جا رہا تھا ۔ساتھ والی پڑوسن نے آواز دے کر پوچھا ۔اے پروین تو سسرال سے کب واپس آئی ۔
اس کے ساتھ میں اپنی بچپن کی یاد سمیٹے ہوئے نم آنکھوں کے ساتھ کمرے کی جانب چل دیئے ۔


شیئر کریں: