Chitral Times

Sep 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

17اضلاع کی دیہی علاقوں کےمختلف سڑکوں‌کی تعمیرنوکی جائییگی…وزیراعلیٰ‌

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے صوبے کے 17 مختلف اضلاع کے دیہی علاقوں میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور جاپان انٹرنیشنل کو آپریشن ایجنسی(جائیکا) کی باہمی تعاون سے 589 کلومیٹر طویل مختلف سڑکوں کی تعمیر نو و بحالی کیلئے سروے کرانے کا عندیہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس منصوبے میں ضلع سوات کے مختلف دیہی علاقوں میں مختلف نوعیت کے 53 کلومیٹر طویل مختلف روڈ زاورپانچ پلوں کی تعمیر کیلئے بھی سروے عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جائیکا کی مدد سے مینگورہ میں ایگرکلچر ریسرچ سٹیشن کا قیام بھی ممکن بنایا جائے گا۔انہوں نے جائیکا کی ٹیم کو حکومت کی جانب سے مکمل مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے حکومت خیبرپختونخوا اور جائیکا مشن ٹیم کے درمیا ن وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران کیا۔اجلاس میں وزیر مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ محمد اسرار ، سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو، سیکرٹری پی اینڈ ڈی ، جائیکا ٹیم ممبر نائلہ الماس اور عامر بخاری کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے بھی شر کت کی۔اجلاس کو جائیکا ٹیم کی طرف سے خیبرپختونخوا رورل روڈز امپورومنٹ اور ری ہبلیٹیشن پراجیکٹ پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور دوبارہ بحالی کے حوالے سے پری فزبیلٹی رپورٹ بھی اجلاس کو پیش کی گئی ۔ اجلاس کو منصوبے کے طریقہ کار ، عمل درآمد اور ٹائم لائن کے حوالے سے بھی تفصیلاً بتایا گیا۔اجلاس میں صوبے میں پلوں کی مرمت کے حوالے سے فنڈ ز کی فراہمی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ فروری سے جائیکا ٹیم ان منصوبوں کیلئے طریقہ کار وضع کرے گی جس کے بعد جون اور جولائی میں حکومتی سطح پرایگریمنٹ کیا جائے گا اور ستمبر میں اس پرباضابطہ عملی کام کوممکن بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ روڈوں اور پلوں کی بحالی کے اس عمل کیلئے پہلے سے نشاندہی کی جا چکی ہے ۔ صوبائی حکومت کی طرف سے کوئی بھی مسئلہ درپیش نہ ہو گااور ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ چونکہ سوات ایک سیلاب زدہ اور جنگ زدہ علاقہ رہ چکا ہے لہٰذا حکومت کی خواہش ہے کہ سوات اوراس طرح دیگر پسماندہ علاقوں میں بحالی کاکام جلد مکمل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاحت کو فروغ دینے کیلئے سوات اور اس جیسے علاقوں میں روڈ وں اور پلوں کی بحالی سے نہ صرف وہاں کے علاقے ترقی کر سکیں گے بلکہ یہ پورے صوبے کے خاطر خواہ مفاد میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے خواہش ظاہر کی کہ جائیکا کی ٹیم زراعت کے شعبے میں کیپسٹی بلڈنگ کے حوالے سے بھی صوبے میں کام کرے اور زمینداروں کی شعبہ زراعت میں ٹریننگ کو ممکن بنائے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات میں پھلوں اور سبزیوں کے روزگار کو ایک صنعت کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں خصوصاً سوات میں روڈز اور پلوں کی بحالی پر پانچ سے چھ مہینوں میں کام کے عمل کو ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سوات میں روڈز اور پلوں کی تعمیر کیلئے درکار اراضی کی فراہمی کو حکومت ممکن بنائے گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سوات کو سیاحت کا مرکز بنایاجائے گا جس سے پورے صوبے کے ترقی کے عمل کو ممکن بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے جائیکا کی ٹیم کو چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی اور کہاکہ یہ منصوبہ زراعت کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔
<><><><><><>

دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ایکٹ میں ترامیم اور بورڈ کی تشکیل نو کے سلسلے میں سیکرٹری فنانس کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے مذکورہ ٹاسک کو دو مہینوں میں حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ آئی ٹی بورڈ کی مزید فعالیت اور مختلف محکموں کے ساتھ روابط میں تیزی لانے کیلئے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کامران بنگش کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے سیف سٹی پراجیکٹ پشاور اور اسلحہ لائسنس کی ذمہ داری بھی آئی ٹی بورڈ کو دینے کا عندیہ دیا ہے۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں کے پی آئی ٹی بورڈ کے نویں اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے نئے قبائلی اضلاع و صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کامران بنگش، چیف سیکرٹری نوید کامران بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش، سیکرٹری فنانس شکیل قادر خان، ایم ڈی کے پی آئی ٹی بورڈ ، آئی ٹی بورڈ کے دیگر سٹاف و متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو ڈیجیٹل پالیسی 2018-23، سات مختلف اضلاع میں پولیس آن لائن رپورٹنگ سسٹم کے اجراء، صوبے بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں انٹرنیٹ کے ذریعے بہترین صحت سہولیات اور ٹیلی میڈیسن کی فراہمی ، صوبے میں پہلا سائبر ریکارڈ سنٹر، خیبرپختونخوا یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام ، کپیسیٹی بلڈنگ پروگرام، چائنہ انٹرنشپ پروگرام اور دوسرے فارن فنڈنگ پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اجلاس سے پہلے آئی ٹی بورڈ حکام آپس میں میٹنگ کرلیا کریں تاکہ مسائل تیز رفتاری سے حل کئے جا سکیں ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخو ایوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام سے 8 ہزار لوگ استفادہ کر چکے ہیں اور اس پروگرام کو اب نئے ضم شدہ اضلاع تک توسیع دی جارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کے پی آئی ٹی بورڈ کے حکام اخراجات اورادارے کی دیگر ضروریات کے حوالے سے مکمل تفصیل فراہم کریں ۔ انہوں نے بورڈ کی تشکیل نو اور اسے حقیقت پسندانہ بنانے کے لئے بھی احکامات دیئے ۔ وزیراعلیٰ نے ڈیجیٹل سٹی پراجیکٹ پر مزید ہوم ورک کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ اس کیلئے مختلف آپشن اگلے اجلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ پیش کئے جائیں جس میں صوابی، ہری پور اور حطار انڈسٹریل زون سے منسلک سرکاری اراضی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل پالیسی کو مزید آگے لے کر جائیں گے ۔انہوں نے ڈیجیٹل پالیسی میں پرائیوٹ سیکٹر کولانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ کے پی آئی ٹی بورڈ کو متحرک ہونا چاہیئے تاکہ ادارے کو فیصلہ سازی میں کوئی دقت پیش نہ آئے ۔ انہوں نے کہاکہ بورڈ کی تشکیل نو سے بورڈ زیادہ فعال بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کے پی آئی ٹی بورڈ اُسی حالت میں خود مختار ہو گاجس حالت میں پہلے تھاتاکہ آزادانہ فیصلہ سازی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ آئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے تمام اداروں کو خود مختاری اور آزادانہ فیصلوں کیلئے ہر ممکن سہولت فراہم کی ہے ۔ ہماری حکومت اداروں میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت برداشت نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہاکہ آئی ٹی بورڈ تمام اداروں کے ساتھ کوآر ڈ نیشن کو مضبوط اور فعال بنائے ۔ انہوں نے کہاکہ کے پی آئی ٹی بورڈ کو ضم شدہ اضلاع میں مزید تیز کام کرنا ہوں گے ۔وزیراعلیٰ نے کے پی آئی ٹی بورڈ کے فارن فنڈڈ پراجیکٹس اور دیگر نئے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے کہاکہ متعلقہ حکام آپس میں بیٹھ کر تمام معاملات کو حتمی شکل دیں۔ وزیراعلیٰ نے اس حوالے سے جلد اجلاس بلانے کا عندیہ دیااور بورڈ کے حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں مکمل تیاری کے ساتھ آئیں اور جامع پلان پیش کریں تاکہ اس پر آگے بڑھا جا سکے۔


شیئر کریں: