Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان اوراستورٹیچرزایسوسی ایشن کااجلاس،سیکریٹریزکے باربارتبادلوں‌پراظہارتشویش

شیئر کریں:

گلگت (چترال ٹائمزرپور ٹ ) گلگت بلتستان ٹیچرز ایسوسی ایشن کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت حاجی شاہد حسین منعقد ہوا جس میں ایسو سی ایشن کے گلگت اور دیامر ڈویژن کے ضلعی صدور کے علاوہ صوبائی کابینہ کے عہدیداران نے شرکت کی ۔ اجلاس کے اختتام پر درج ذیل قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
یہ کہ محکمہ تعلیم حکومت گلگت بلتستان کا سب سے بڑااور حساس ادارہ ہے۔لیکن سال 2018 ؁ء کے ایک سال کے دوران تین سیکریٹریز کے پے درپے پوسٹنگ سے محکمہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ شنید یہ ہے کہ موجودہ سیکریٹری بھی ایک طویل ٹریننگ پر جانے والے ہیں اور محکمہ کا اضافی چارج کسی دوسرے سیکریٹری کو دئے جانے کا امکان ہے۔گلگت بلتستان ٹیچرز ایسوسی ایشن کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے حساسیت کے پیش نظر موجودہ سیکریٹری کی تعیناتی کو مستقل طور پر یقینی بنایا جائے۔
آج کا یہ اجلاس محکمہ تعلیم سکولز میں برسوں سے گریڈ 17کی سینکڑوں پوسٹوں کے خالی ہونے کے باوجود گریڈ 16کی سنیارٹی کو فائنل نہ کر کے سینئر اساتذہ کو پروموشنز سے محروم رکھے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اسے محکمہ کی نا اہلی سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور گریڈ 16کی سنیارٹی کو فائنل کر کے سینئر اساتذہ کو گریڈ 17میں پروموشن دیا جائے ۔

آج کا یہ اجلاس منظور شدہ اور واضح نوٹیفیکیشن اور سابقہ روایات و پالیسی کے باوجود سال 2014 ؁ء سے اپ گریڈیشن کے اہل اساتذہ کو ڈی پی سی کی تاریخ سے اپ گریڈ کئے جانے والے فیصلے کو امتیازی سلوک سے تعبیر کرتے ہوئے اسے نوٹیفیکیشن کی روح کے منافی قرار دیتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ سابقہ طریقہ کار کے مطابق اہلیت کی تاریخ سے اپ گریڈیشن کے آرڈرز فی الفور جاری کئے جائیں۔

آج کا یہ اجلاس گلگت بلتستان چیف کورٹ کے یکم جنوری 2011سے ایس ایس ٹی کے پوسٹوں کو اپ گریڈ کئے جانے کے فیصلے اور گلگت بلتستان سروس ٹریبونل کے دوران تعطیلات کنونس الاؤنس کی ادائیگی کے واضح فیصلے پر عملدرآمد نہ کئے جانے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور ان عدالتی فیصلوں پر فی الفور عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ اگر ان فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو محکمہ کے ساتھ اب تک کئے جانے والے تعاون کی پالیسی پر نظر ثانی بھی کی جا سکتی ہے۔

آج کا یہ اجلاس محکمہ تعلیم سکولز کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مکمل ہم آہنگی سے پوسٹوں کی ری ڈسٹری بیوشن کے نوٹیفیکیشن مورخہ یکم جولائی 2015 ؁ء پر تاحال عملدرآمد نہ کئے جانے کو اساتذہ کے حقوق غصب کرنے سے تعبیر کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ فی الفور اس نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد کیا جائے نیز جب تک اس نوٹیفیکیشن پر عمل درآمد نہیں ہوتا ان پوسٹوں پر کسی کی پروموشن نہ کی جائے۔

آج کا یہ اجلاس محکمہ تعلیم سکولز کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے طے پائے جانے والے فارمولے کے مطابق سروس رولز مرتب کیا جاکر پرفیشنلز کو محکمہ تعلیم کے اعلیٰ انتظامی عہدوں تک مناسب رسائی دی جائے۔
آج کا یہ اجلاس سال 2002 ؁ء کے مطابق اب تک گریڈ 17سے اوپر کی نئے کریٹ ہونے والی پوسٹوں پر چار درجاتی فارمولے کا اطلاق نہ کئے جانے کو گلگت بلتستان کے سینئر اساتذہ کے ساتھ نا انصافی قرار دیتا ہے اور اس فارمولے کا اطلاق موجودہ پوسٹوں پر کئے جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔
آج کا یہ اجلاس محکمہ تعلیم تعلیم گلگت بلتستان کی سینئر پوسٹوں کو دیگر محکموں کو دئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے محکمہ تعلیم سے بد دیانتی تصور کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ان تمام پوسٹو ں کو محکمہ تعلیم کو واپس کئے جائیں۔

……………………………………………………………
دریں‌اثنا ہائی سکول استور میں بھی ٹیچرز ایسوی ایشن استور کا بھی ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت صدر ٹیچرز ایسوی ایشن ڈسٹرکٹ استور جمشید علی منعقد ہوا۔جس میں محکمہ تعلیم سے متعلق مسائل و امور زیر بحث رہیں۔
صدر ٹیچرز ایسوسی ایشن ڈسٹرکٹ استور نے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3سالوں سے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں سیکریٹریز صاحبان بار بار پوسٹنگ کی وجہ سے ڈیپارٹمنٹ غیر یقنی صورت حال کا شکار ہے اور معمول کے کام نہ ہونے کے برابر ہے۔لہٰذا مستقل طور پر سیکریٹری صاحب کی تعیناتی کا یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے گریڈ 16کے اساتذہ کی پروموشن پوسٹوں کے خالی ہونے کے باوجود حیلے بہانوں کا شکار ہے اور ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی اس سلسلے میں عدم اطمینان بخش ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گریڈ 16کے اساتذہ کا پروموشن کے لئے فوری اقدامات کر کے اساتذہ کی بے چینی کا ازالہ کیا جائے۔
یہ کہ اعلیٰ عدالت چیف کورٹ گلگت بلتستان نے یکم جنوری 2011 ؁ء سے گریڈ 16کے ٹیچرز کے اپ گریڈیشن کا حکم دیا ہے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے حکم نامہ اور معزز عدالت چیف کورٹ کے فیصلے کا پاس رکھتے ہوئے 2011سے مذکورہ پوسٹوں کی اپ گریڈیشن کی نوٹیفیکشن کا اجراء کیا جائے۔
یہ کہ فاضل عدالت گلگت بلتستان نے سروس ٹریبونل نے دوران تعطیلات سرما و گرما میں اساتذہ کے لئے کنونس الاؤنس کی کٹوتی کو ظلم قرار دیتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ لہٰذا حکام بالا عدالتی فیصلے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے لیت لعل سے کام لے رہے ہیں اور اساتذہ کے ساتھ سوتیلاسلوک کی روش کو جاری رکھے ہوئے ہیں بیک ڈیٹ سے کنونس الاونس کا سلسلہ بحال رکھا جائے بصورت دیگر اساتذہ برادری دوران تعطیلات سرما و گرما میں کوئی ٹاسک انجام دینے سے معذرت کرے گی۔


شیئر کریں: