Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے میں تیل اور گیس کی استعداد کو ترقی اورخوشحالی کیلئے بروئے کار لائیں گے..وزیراعلیٰ

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے خیبرپختونخوآئل اینڈ گیس کمپنی کودرپیش مسائل حل کرنے کیلئے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے اس امر کو خوش آئندقرار دیا کہ کمپنی اب پیشہ وارانہ خطوط پر اپنی حقیقی ذمہ داریوں کی انجام دہی اور اہداف کے حصول پر گامزن ہے۔صوبے میں تیل اور گیس کی استعداد کو ترقی اور خوشحالی کیلئے بروئے کار لائیں گے اور اس مقصد کیلئے سرمایہ کاروں کو آئیڈیل ماحول دیں گے، انہوں نے کرک آئل ریفائنری کا جلد افتتاح کرنے کا عندیہ دیا اور اس مقصد کیلئے متعلقہ حکام سے رابطہ کی ہدایت کی۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی وزیربرائے اطلاعات شوکت یوسفزئی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان ، سیکرٹری توانائی ، خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمٹیڈ کے نمائندوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو کمپنی کے قیام ، اس کے دائرہ کار ، جاری سرگرمیوں اور مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بریفینگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2014میں صوبے کی ہولڈنگ کمپنی کے طور پر آئل اینڈ گیس کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا،تاہم کمپنی اپنے اصل بزنس کی بجائے دیگر سرگرمیوں میں زیادہ ملوث رہی ، موجودہ حکومت کی ہدایت پر کمپنی کی سمت درست کی گئی ہے، اور اسکے بورڈ کی بھی تشکیل نو کی گئی ہے۔ اب کمپنی اپنے دائرہ کار کے اندر اصل اہداف پر توجہ دے رہی ہے، اجلاس میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے مناسب ماحول دینے کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ کمپنی تیل اور گیس کی استعداد کو استعمال میں لانے کیلئے متحرک ہے، اور صوبائی حکومت اس سلسلے میں بھر پور تعاون کرے گی۔اس موقع پر کمپنی کے مختلف منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور بتایا گیا کہ لکی بلاک ستمبر 2018 کو ایوارڈ کیا گیا لکی بلاک کا ایریا بنوں ، لکی ، مروت ، اور ڈیرہ اسماعیل خان پر مشتمل ہے، ایکسپلوریشن لائسنس جاری کیا جا چکا ہے، اس منصوبے کی آپریٹر خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی ہے۔ لکی بلاک سے متوقع منافع تیس ارب روپے ہے، منصوبے پر کام شروع ہے جیو لاجیکل میپنگ اور سکاوٹنگ ہو چکی ہے، اسکے علاوہ سسزمک ٹینڈر بھی ہو چکا ہے، کمپنی نے سفارش کی کہ لکی بلاک میں توسیع کی ضرورت ہے جس پر وزیراعلیٰ نے تعاون کا یقین دلایا۔اجلاس کو صوبے میں متعدد دیگر بلاکس سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ ضم شدہ نئے اضلاع میں بھی کم از کم 6بلاکس موجود ہیں،جن پر غور و فکر جاری ہے۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ گیس کے پیداواری اضلاع کے دیہات کو سلنڈر کے ذریعے گیس کی فراہمی کے ماڈل پر بھی سوچ بچار جاری ہے ۔حکومت کی اجازت اور منظوری سے مجوزہ سکیم کا اجراء کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کرک آئل ریفائنری کا جلد سنگ بنیاد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ اس منصوبے پر عملی پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے حطار ، رشکئی اور ڈی آئی خان کے اکنامک زون میں گیس سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر بھی پیش رفت طلب کی اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی۔
><><><><><><><><>< CM Photo surprise visit LRH listen problems of the people

وزیراعلیٰ‌کی لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا اچانک دورہ،
پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے عوامی شکایات پر ہفتے کی شام لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا اچانک دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ ایک عام گاڑی میں تھے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی اور ان کا ذاتی ڈرائیور وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے ۔ وزیراعلیٰ کا دورہ خفیہ رکھا گیا تھا ۔ یہاں تک کہ اُس کی ذاتی سکیورٹی، ذاتی سٹاف اور شہر کی سکیورٹی اہلکار بھی اس دورے سے لاعلم رہے۔ وزیراعلیٰ نے نیورولوجی اور کارڈیالوجی وارڈز کا دورہ کیا اور مریضوں سے اُن کی مزاج پرسی کی اور اُن سے ہسپتال میں دی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ وزیراعلیٰ نے مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے ان کے رشتہ داروں سے بھی ملاقات کی اور اُن کے علاج معالجے سے متعلق اُن کے مسائل سنے ۔وزیراعلیٰ نیورولوجی وارڈ میں داخل ایک بچے کے پاس بھی گئے جو روڈ ایکسنڈنٹ میں شدید زخمی ہوا تھا اور اس کی دونوں ٹانگیں ٹو ٹ گئی تھیں اورسرپر چوٹ کی وجہ سے کومے میں تھا۔ بچے کے والد کی درخواست پر وزیراعلیٰ نے بچے کے علاج و معالجے کی خود ذمہ داری لی اور کہا کہ مریض پر اُٹھنے والے تمام اخراجات وہ اپنی جیب سے ادا کریں گے ۔ وزیراعلیٰ کو بغیر پروٹوکول کے دیکھ کر مریضوں کے ہمراہ آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو ئی اور وزیراعلیٰ کی ذاتی دلچسپی پر اُن کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ہسپتال آئے اور اُن کے مریضوں اور اُن کو دی جانے والی علاج معالجے کی سہولیات کے بارے میں پوچھا۔ وزیراعلیٰ نے نیورولوجی وارڈ میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر موجود ہسپتال عملے سے بھی پوچھا کہ وارڈز میں کتنے ڈاکٹر وں کی ڈیوٹی ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ آئندہ ڈاکٹروں کی غیر حاضری اور مریضوں کو طبی سہولیات میں غفلت ناقابل برداشت ہو گی ۔وہ ہسپتالوں اور سماجی خدمات کے شعبوں کے مراکز کے اچانک دورے کریں گے ہر کوئی سن لے کہ عوامی فلاح خصوصاً مریضوں کی علاج معالجے کی سہولیات میں کوئی حیلہ بہانہ نہیں چلے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ طب کا شعبہ ایک نوبل شعبہ ہے جو براہ راست بیماروں اور دُکھی انسانیت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ڈاکٹر معاشرے کا مسیحا ہوتے ہیں اوراُنہیں اپنے رویے اور کشادہ دلی اور اخلاص سے اپنے آپ کو مسیحا ثابت کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ ایل آر ایچ ایک بڑا ہسپتال ہے اور صوبے کے دیگر علاقوں سے غریب اور مفلس لوگ یہاں آتے ہیں ، اسلئے اُنہیں یہاں پر بہترین طبی سہولیات فراہم ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی ہے بہتر طبی سہولیات اور ادویات کی فراہمی کیلئے وافر وسائل فراہم کئے ہیں تاکہ مریض اور اُن کے لواحقین کو مایوسی نہ ہو ۔ اس موقع پر موجود ڈاکٹروں نے وزیراعلیٰ کو چائے کی آفر کی جس پر وزیراعلیٰ نے اُن کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ اُنہیں زیادہ خوشی ہوگی کہ ڈاکٹرز غریب مریضوں کو بہتر سہولیات اور ادویات فراہم کریں تو یہ رویہ بحیثیت وزیراعلیٰ اپنے لئے ڈاکٹروں کی طرف سے انعام سمجھوں گا۔


شیئر کریں: