Chitral Times

Mar 3, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سرکاری اہلکاراپنا قبلہ درست کریں ۔آئندہ رعایت نہیں ہوگی….. وزیراعلیٰ

Posted on
شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ڈسٹرکٹ کونسل ہال پشاورکا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اہلکار اپنا قبلہ درست کریں ۔آئندہ رعایت نہیں ہو گی ۔عوام کو سرخ بتی کے پیچھے لگانے والے تحصیلیداروں اور سرکاری اہلکاروں نے عوام کو مایوسی اور حکومتی مشینری سے متنفر کیا ہے۔ عوام کو سبز باغ دکھانے کی بجائے ان کی عملی خدمت یقینی بنائے ورنہ حکمرانی کے پورے سٹرکچر میں سے ایسے عناصر نکال باہر کئے جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی حکومت کی جانب سے پشاور کے عوام کیلئے ان کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی یعنی ہوم بیسڈ ڈیلیوری آف سروسز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے آئی ٹی کامران بنگش، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی محمود جان ،ڈسٹرکٹ ناظم پشاور ارباب عاصم، اراکین صوبائی اسمبلی، ضلعی ناظمین ، ضلعی ممبران ، کمشنر پشاور ،ڈپٹی کمشنر پشاوراور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کو معیاری خدمات اور سہولیات کی فراہمی کیلئے صوبائی حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہے ۔ اس ضمن میں ہوم بیسڈ ڈیلیوری آف سروسز یقیناًایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا اور خصوصاً ضلع پشاور کے عوام کیلئے اس سروسز کا اجراء غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہوم بیسڈ ڈیلیوری آف سروسز سے زمین کے انتقالات ، فردات کے اجراء ، ڈومیسائل کے مسائل اور دیگر خدمات کے سلسلے میں عوام کو درپیش دیرینہ مشکلات کا مستقل ازالہ ممکن بنایا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت عام آدمی کو خدمات کے حصول میں درپیش مشکلات کے خاتمے اور سرکاری اداروں کے جوابدہی کے ضمن میں عملی اقدامات اٹھارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے عوام کے ساتھ جو وعدے اور اعلانات کئے ہیں اس پر من و عن عمل کیا جائے گا ۔انہوں نے صوبے کے تمام تحصیلداروں کو ہدایت کی کہ انتقالات کے عمل کو عوام کیلئے سہل بنائیں اور جو بھی تحصیلدار اس ضمن میں کوئی رکاوٹ یا مشکلات پیدا کرے گا اسکے خلاف تادیتی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج عوام کو اُن کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی یعنی” ہوم بیسڈ ڈیلیوری آف سروسز” کو ممکن بنادیا گیا ہے جو کہ صوبائی حکومت کیلئے باعث فخر ہے۔ اس اہم کامیابی پر ضلعی انتظامیہ پشاور بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے شروع دن سے عام آدمی کی سہولت کیلئے کا م شروع کیا ہے ۔ ہم صر میٹنگ ، جلسوں اور فائلوں کی حد تک عوامی فلاح پر یقین نہیں رکھتے ۔ بلکہ عملی اور نظر آنے والے اقدامات کے قائل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا وژن اور مشن ہے کہ عوام کی فلاح کیلئے ایسے ٹھوس اقدامات کئے جائیں جو عوام کو نظر آئیں، عوام کے مسائل کا دیر پا حل دیں ، عوام کی تکلیف کا مداوا کریں اور عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی لے کر آئیں۔ ہم نے اپنے اس عزم پر کبھی پہلے سمجھوتہ کیا اور نہ آئندہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی صوبائی حکومت ہے جس نے اقتدار میں آتے ہی خود کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا ہے ۔ اس مقصد کیلئے درجنوں قوانین اور ادارے بنائے گئے ہیں۔ 2013 میں اطلاعات تک رسائی کا قانون (آر ٹی ایس ) نافذ کیاتاکہ عوام سے کوئی بھی سرکاری امر پوشیدہ نہ رہے ۔اُس کے بعد خدمات تک رسائی کا قانون نافذ کیاتاکہ عوام کو ضروری خدمات کے شفاف حصول میں کوئی رکاوٹ نہ رہے ۔ ہم نے اداروں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنایاہے ۔ذاتی پسند و ناپسند ، اقرباء پروری اور رشوت خوری کے خلاف اقدامات کئے تاکہ ادارے صحیح معنوں میں غریب عوام کی خدمت کر سکیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا پٹوار سسٹم ، زمین کے معاملات نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان بھر کا ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے ۔صوبائی حکومت اس سلسلے میں بھی عوامی مسائل سے بخوبی آگاہ تھی اور خاموش نہیں رہی ہے۔ہم نے صوبے میں لینڈر یکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا پلان بنایاہے اور ابتدائی طور پر ضلع مردان میں اس عمل کا کامیاب تجربہ بھی کیاہے۔ اس منصوبے کو صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائیگی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن پشاور نے مستعدی اور عوام دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اس مشکل کام کو مکمل کیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے زمین کے معاملات اور دیگر خدمات کی فراہمی کے عمل میں عوام الناس کی سہولت، جدت اور شفافیت کی طرف ایک عملی قدم ہے۔اب عوام الناس کو اس شعبے میں خدمات حاصل کرنے کیلئے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس نظام کے تحت عوام کو گھر کی دہلیز پر ڈومیسائل کا اجراء کیا جائے گا۔ اسی طرح فردات کیلئے بھی عوام کو دفاتر کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے ۔ زمین کے انتقالات میں رشوت ستانی کے آگے ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دی گئی ہے ۔ اب انتقالات کے چالان کی بذریعہ پوسٹ آفس گھر گھر فراہمی کا آغاز کیا جارہا ہے ۔ سائل ٹیکس چالان براہ راست بینک میں خود جمع کروائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتقالات میں فراڈ اور غیر ضروری کاروائیوں سے بچنے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم کا اجراء بھی کیا جا رہا ہے ۔ اب انتقال کے وقت کا تعین سائل کی اپنی مرضی سے ہو گا۔ اس سلسلے میں تمام تحصیلداروں نے اپنے فیس بک پیج ، تحصیل دفاتر اور دیگر اہم مقامات پر دورہ جات کا سالانہ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ تحصیلیداروں کے دورہ جات کی کاروائی کو شفاف بنانے کیلئے ویڈیو کانفرنس اور فیس بک پیج پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ زمین کے معاملات کو جلد ی حل کرنے کیلئے ڈپٹی کمشنر آفس میں ریونیو سیل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مذکورہ تمام اقدامات نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان کی تاریخ میں منفرد اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ضلعی انتظامیہ صرف اس خدمت کے افتتاح پر ہی اکتفا نہیں کرے گی بلکہ اس کو عملی جامہ بھی پہنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سسٹم کو صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی۔اس موقع پر ضلع ناظم پشاور ارباب عاصم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عوام کے مسائل کا مقامی سطح پر حل ضلعی حکومت کی ترجیح ہے۔ ضلعی حکومت عوام کو مسائل کی دلدل سے نکال کردم لے گی۔ ہم سسٹم کو شفاف بنائیں گے اور میرٹ اور عوام دوست فیصلوں کو پروان چڑھائیں گے۔
cm mehmood2
<><><><><>
دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں ضم شدہ نئے اضلاع میں صحت اور تعلیم کے مسائل کو کل وقتی طور پر حل کرنا حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ان قبائلی اضلاع میں غیر فعال سکول جلد سے جلد فعال بنائے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سکول اور ہسپتالوں میں سٹاف کی کمی کوفوری طورپر پورا کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو سکول اور ہسپتال تباہ شدہ ہے ان کی بحالی کے عمل کو تیزتر کیا جائے گا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ خود فاٹا یونیورسٹی کا دورہ کرینگے تاکہ وہاں پر تمام انتظامات و سہولیات کو جلد ممکن بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے سابق فاٹا کیلئے 100بلین روپے کے استعمال کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ ضرورت کے مطابق سیکٹر میں کام کیا جاسکے۔فاٹا یونیورسٹی میں تمام مسائل بروقت حل کئے جائیں گے ۔ آبادی اور ضرورت کے مطابق ان اضلاع میں نئے سکولوں اور ہسپتالوں کا قیام عمل میں لایا جائے گاجہاں پر سکول، ہسپتال کی ضرورت ہو وہاں یہ سہولیات لازمی فراہم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نئے قبائلی اضلاع میں صحت اور تعلیمی اداروں کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے منعقد ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے تعلیم ضیاء اﷲ بنگش، نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے سینٹر ز، ایم این ایز ، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، سپیشل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ محمد خالق،متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلع باجوڑ میں سالا رزئی اور برنگ کالجز کے قیام کا عمل جلد سے جلد ممکن بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم تمام قبائلی اضلاع کا وزٹ یقینی بنائے اور رپورٹ پیش کرے کہ کتنے کالجز فعال ہیں اور کتنے غیر فعال ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جو ایس این ایز (SNEs)ہیلتھ اور ایجوکیشن میں مکمل ہوئے ہیں اُن پر جلد ہوم ورک کرکے نئے اضلاع کے تعلیم اور صحت کے اداروں کو سٹاف کی فراہمی جلد سے جلد ممکن بنائی جائے اوراس عمل کو تیز کیا جائے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے اضلاع میں تمام کالجز ایک مہینے میں فعال ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ہر کالج کے لئے پلان مرتب کرنے کی ہدایت کی تاکہ طلباء کے تناسب سے اساتذہ کی فراہمی کی جا سکے۔انہوں نے ہدایت کی کہ آئی ایم یو تمام تعلیمی اداروں کا وزٹ کرے اور اساتذہ و دیگر سٹاف کی حاضری ممکن بنائے اور جو سرکاری اہلکار ڈیوٹی نہیں کرتے اُن کو فارغ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم یو تمام تعلیمی اداروں بشمول کامرس کالج ، ٹیکنکل کالجز اور دوسرے تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ ممکن بنائے۔ انہوں نے کہاکہ جو تعلیمی نظام بندوبستی اضلاع میں ہے وہی تعلیمی نظام ان نئے اضلاع میں بھی فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ جس ضلع میں سکولوں کی ضرورت ہے وہاں سکول قائم کئے جائیں اور جہاں پر ہیلتھ سہولیات کم ہیں وہاں صحت پر فوکس کیا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اب ہم نے ان ضم شدہ نئے اضلاع میں پرانہ نظام تبدیل کرنا ہے اور وہاں پر تمام مسائل حل کرنے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی مسنگ سہولیات ہیں اُسے جلد پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام تعلیمی اداروں کا تین مہینوں میں سروے مکمل کرکے رپورٹ کیا جائے تاکہ جہاں پر اساتذہ کی کمی ہے اُسے جلد پورا کیا جا سکے ۔ انہوں نے منتخب نمائندوں سے بھی اپیل کی کہ سکولوں سے باہر جو بچے ہیں اُن کو سکولوں میں لائیں ۔ انہوں نے وہاں کے عوام سے بھی اپیل کی کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکول میں لائے تاکہ ان نئے اضلاع میں تعلیم سے ترقی لائی جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جو بھی وزیر ان اضلاع کا دورہ کرے وہ ایک دن پہلے وہاں کے منتخب نمائندوں کو آگاہ کرے۔ انہوں نے کہاکہ مقامی لوگوں سے پوچھ کر کہ جہاں سکول اور ہسپتال کی ضرورت ہو وہاں سکول اور ہسپتال بنائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ان نئے اضلاع میں ڈاکٹروں کی تعیناتی ڈومیسائل کی بنیاد پر کی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تمام ایم این ایز اپنے متعلقہ سیکرٹری کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنے اپنے علاقے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ ہسپتالوں اور سکولوں میں سٹاف کی حاضری ممکن بنائی جائے گی اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ کو نئے اضلاع میں تعلیمی اداروں کی بحالی ، اساتذہ اور ڈاکٹروں کی تعیناتی ، فاٹا یونیورسٹی ، ہسپتالوں اور صحت کے دیگر مسائلوں اور ان پر پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ قبائلی اضلاع میں اساتذہ کی تعیناتی ہر حال میں ممکن بنائی جائے گی۔ ڈاکٹروں اور دیگرمتعلقہ محکموں کے سٹاف کی تعیناتی ڈومیسائل کی بنیاد پر کی جائے گی ۔ اجلاس نے وزیراعلیٰ کو ان نئے اضلاع میں جاری مختلف سکیموں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ۔ وزیراعلیٰ کوتعلیم اور صحت کے شعبوں کے حوالے سے مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نئے اضلاع کے سکولوں اور ہسپتالوں میں سٹاف کی حاضری کو ممکن بنایا جائے گا۔ اس مقصد کیلئے آئی ایم یو کے اہلکار تمام تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ کریں گے ۔ اجلاس نے گورنمنٹ، پرائیوٹ اور دینی مدارس میں بچوں کی انرولمنٹ کے حوالے سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ نئے اضلاع کے ایم این ایز متعلقہ سیکرٹری کے ساتھ مل بیٹھ کر اپنے اپنے اضلاع کے مسائل کے حل کیلئے ہوم ورک تیز کرے تاکہ ان علاقوں میں تمام مسائل کو کل وقتی طور پر حل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ نئے اضلاع میں گورنر ماڈل سکولز کو عالمی معیار کے تعلیمی اداروں کی طرز پر بنائیں جائیں گے اور ان کے مستقلی کے لئے لائحہ عمل ممکن بنایا جائے گا۔
<><><><><><><><>


شیئر کریں: