Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود ………..ترستی ہے زباں میری……….. در مکنون

Posted on
شیئر کریں:

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے،جس میں ہر چھوٹے ،بڑے،مرد،عورت،مسلم غیر مسلم حتی کہ جمادات،نباتات تک کا خیال رکھنے اور انہیں ایذا نہ پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔ان احکامات کی پاسداری کرنے سے ہی نظام کائنات میں ایک توازن اور یگا نگت کی فضاقائم ہے۔تمام انواع واقسام کی مخلوقات اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔جس کی وجہ سے فطرت کی رعنا ئیاں اپنی پوری ٓاب و تاب کے ساتھ ہماری بصارت کو تسکین دے رہی ہیں. بدلتے موسم اپنے ساتھ نیا رت لے کرآتے ہیں جس سے دنیا اپنا چولا بدلتی ہے،چار خوبصورت موسم اپنی انفرادیت کی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی نعمتوں سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو زندگی بڑی بے رنگ اور یکسانیت کا شکار ہو جاتی۔؛قدرت کا یہ نظام ازل سے ابد کی جانب محوسفرہے۔اگر یہ دنیا ہمیشہ کے لئے اسی طرح ہی ہوتی تو کیا ہی اچھا ہوتا،لیکن اس سے بھی خوبصورت جگہ ہمارے لئے محفوظ رکھی گئی ہے۔جہاں کا ہر رنگ اور خوشبو اپنی مثال آپ ہے۔جہاں ذائقوں کی نوعیت یہاں سے ہزار درجے بہتر ہے۔وہ جگہ صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے۔اگر دنیا میں کہیں ایسی جگہ موجود ہو تو وہاں انگریز ڈیرے ڈالتے ہیں،ہم اپنے بل بوتے پر تو ایسی جگہوں پر قابض بھی نہیں ہو سکتے۔اگر قدرت ہمیں خوبصورتی عطا کرتی بھی ہے تو اس کا ستیاناس کرنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔اس کے باوجود ہر مسلمان اس سوچ میں ہے،کہ ہمیں جنت تو ہر صورت میں ملے گی کیونکہ،،،،
بہ روز حشر میں بے خوف گھس جاوءں گا جنت میں
وہیں سے ٓائے تھےآدم وہ میرے باپ کا گھر ہے
بات آپ کی بجاآادمؑ وہیں سے ٓائے تھے لیکن برخوردار وہ ایسی جگہ نہیں جہاں ہر کوئی منہ اٹھائے گھس سکے۔وہاں داخلے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔اپنے آپ کو صحیح مسلمان بنانا ہوتا ہے، حقوق العباد اور حقوق اللہ کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔جھوٹ، رشوت،دھوکہ چوری ،ملاٹ،بے ایمانی، قتل،فساد حرام ایسی ہزاروں چیزوں سے خود کو بچایں تووہاں جانے کی اجازت مل سکتی ہے۔لیکن ہمارے لیے ان برائیوں سے بچنا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔جھوٹ ہماری زبان پر چڑھ چکا ہے،ملاٹ کرنے میں کوئی دوسرا ہمارے مقابلے پرآ ہی نہیں سکتا۔انسانی جان اتنی سستی ہو گئی ہے کہ پتنگ لو ٹنے پر بھی چھینی جاتی ہے۔فساد ڈلوانے سے ہمارے دل کو سکون ملتا ہے۔حرام ہمارے لئے شیر مادر ہے۔ان تمام برائیوں کو کرنے والے ہم لوگ قصور وار شیطان کو ٹہراتے ہیں۔اگر غیر جانبداری سے سوچیں تو ہے شیطان پر سراسر تہمت ہے،ہمارا اپنا نفس اتنا مکار ہو چکا ہے ،کہ شیطان کے بہکاوے کی ضرورت نہیں پڑتی۔وہ بیچارہ توپہلے دور کے لوگوں کو بہکاتا ہو گا،ہمارے ہم عصر تو اس کے بہکانے سے پہلے ہی تمام ذمہ داریاں اچھے طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہے کہ شیطان کے کارندے ثابت ہو رہے ہیں، مذہبی حوالے سے اتنے تنگ نظر اور ؛تنگ دل کہ معقول بات بھی قابل قبول نہیں؛ مساجد میں دین اسلام ؛اللہ اور ر؛سو؛لؐ کی تعلیمات کے علاوہ دنیاوی امور؛ اور سیاسی تقاریر ہوتی ہیں۔نسلوں اور قوموں کو موضوع گفتگو بنایا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ فلاں کو ووٹ دینے اور فلاں کو نہ دینے کے احکامات بھی صادر کیے جاتے ہیں؛۔کوئی نعتیہ محفل؛ منعقد کی جائے یا کسی عالم دین کو مذہبی تقریر کے لیے بلایا جاتا ہے؛تو رات گئے تک لاوڈاسپیکرکے ذریعے پورے گاوءں بلکہ ٓاس پاس کے گاوٗں کو بھی پوری کاروائی سنائی جاتی ہے۔اس دوران انہیں احساس بھی نہیں ہوتاکہ مائک بند کر کے صرف مسجد کے اندر موجود لوگوں کو ہی تقریب میں شریک کیا جائے تو مناسب ہو گا۔کیونکہ کسی بیمار کو شدید تکلیف کے بعد تھوڑی سی ٓارام کی نیند نصیب ہوئی ہو گی۔یا کوئی بچہ روتے روتے ابھی ماں کی ٓا غوش میں سو رہا ہو گا۔ یا لوگ سارا دن محنت مزدوری کر کے اآارام کر رہے ہیں ابھی ان کے سکون میں خلل ڈالنا مناسب نہیں، ہمارے دین میں سختی نہیں اور نہ ہی کسی پر جبر کی گنجائش ہے،تو اپنے روئیوں سے دوسروں پر جبر کرنے کے مئرتکب کیوں بن رہے ہیں۔یہ ساری باتےآائے دن دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن یہاں زباں بندی کا وہ دستور موجود ہے جو چپ کا روزہ توڑنے نہیں دیتا جبھی یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زبان میری۔۔؛؛


شیئر کریں: